کپتان نے ایک اور جمہوریت مخالف کو عہدے سے نواز دیا


وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے دین اسلام کی صحیح تشریح اور نئی نسل کو سیرتِ طیبہ سے روشناس کروانے کے لیے قائم کی گئی رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم اتھارٹی کے نامزد سربراہ ڈاکٹر اعجاز اکرم کو انکے جمہوریت مخالف نظریات کی بنا پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ کپتان نے اپنے نظریات کے عین مطابق ایک اور جمہوریت دشمن کو عہدے سے نواز دیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین رحمت للعالمین اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر اعجاز اکرم کو اپنے بنیاد پرست اور آمریت پسندانہ نظریات اور خیالات کی وجہ سے زید حامد کا انگریزی ورژن قرار دے رہے ہیں۔ ان کی تقرری پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی حماد غزنوی نے ایک ٹویٹ ‏میں کہا ہے کہ میں نے حال ہی میں اعجاز اکرم کی ایک تقریر سنی، بہت دنوں کے بعد ایک ہی شخص میں اس قدر جہل اکھٹا دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ان صاحب کے خیالات کی مہک کے لئے تعفن بھی چھوٹا لفظ ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ان صاحب کے لیے ایک ابوجہل اتھارٹی بنائی جاتی اورانہیں اس کا تاحیات چیئرمین لگا دیا جاتا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے اعجاز اکرم کے پرانے کلپس اور مضامین شیئر کر کے ان کے نظریات کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی۔ ان کلپس میں موصوف اسٹیبلشمنٹ کی زبان میں گفتگو کرتے اور غداری کے الزامات لگاتے نظر آتے ہیں۔ ایک کلپ میں انھیں قوم پرست تحریکوں کو ‘فنڈڈ’ قرار دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک تقریب میں وہ کہتے ہیں کہ ‘پاکستان کے دشمن سمجھتے ہیں کہ وہ ادے کو تھوڑا تھوڑا کر کے توڑتے رہیں گے حتی کہ کچھ باقی نہیں رہے گا۔ پختون علاقوں میں پی ٹی ایم ہے، جنوبی پنجاب میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں، پھر جئے سندھ موومنٹ ہے، یہ سب کسی نہ کسی کی جانب سے فنڈڈ ہیں۔
کچھ سوشل میڈیا صارفین اعجاز اکرم کا ایک مضمون وائرل کر کے ان کی جمہوریت دشمنی ثابت کر رہے ہیں۔ اس مضمون انھوں نے کہا ہے کہ فوج کو سویلین سیاستدانوں کی حمایت کرنے کے بجائے خود اقتدار پر قبضہ کرنا اور۔ملک چلانا چاہیے۔ یاد رہے کہ اعجاز اکرم لاہعت کے ایک روشن خیال ادارے لمز میں پروفیسر بھی رہے ہیں۔ انکے جمہوریت دشمن اور دقیا نوسی نظریات سے ناخوش صارف امتیاز احمد نے اعجاز کے سابقہ تدریسی ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو سمجھتے تھے کہ لمز میں بڑے بڑے دماغ پڑھاتے ہوں گے۔۔۔ اس شخص سے تو جامشورو پھاٹک کے چائے والے بھی سیاست اور جغرافیہ کو بہتر سمجھتے ہیں۔ جمشید حسن نامی صارف کے خیالات بھی کچھ ایسے ہی تھے، ان کا کہنا تھا ایک شخص پی ایچ ڈی کر سکتا ہے اور پھر بھی احمق رہتا ہے۔ مجھے یہ بات آج سمجھ آئی۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر اعجاز اکرم نے امریکن یونیورسٹی کے سکول آف انٹرنیشنل سروسز سے تقابلی اور علاقائی علوم میں ایم اے کرنے کے علاوہ عالمی سیاست میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے 12 ربیع الاول کو رحمت اللعالمین اتھارٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اس کے ذریعے بچوں اور بڑوں کو سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھانے کا طریقہ کار طے کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے اتھارٹی کی نگرانی خود کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا کے بہترین مذہبی اسکالر کو چیئرمین بنایا جائے گا جو اسلام سے متعلق دنیا کو آگاہ کرے گا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اس اتھارٹی کے ذریعے اسکولوں کے نصاب کی نگرانی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے جاری کردہ آرڈیننس کے مطابق رحمت اللعالمین اتھارٹی ایک چیئرمین اور چھ ارکان پر مشتمل ہوگی۔ کمیٹی کا مشاورتی بورڈ سہ ماہی بنیادوں پر کم از کم ایک بار اجلاس کرے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اتھارٹی نوجوانوں کی کردار سازی کے لیے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور احادیث مبارکہ پر تحقیق کرے گی۔ اس کے علاوہ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو نصاب کا حصہ بنانے کے لیے اتھارٹی متعلقہ ماہرین سے مشاورت کرے گی اور اسے دنیا کے سامنے دین اسلام کی وضاحت کا کام بھی سونپا جائے گا۔ تاہم اعجاز اکرم جیسے شخص کو سربراہ مقرر کیے جانے کے بعد اس اتھارٹی کی ساکھ صفر ہوگئی ہے۔

Back to top button