فیصل واؤڈا کی فوری حکم امتناع کی درخواست مسترد
الیکشن کمیشن کو نا اہلی کی کارروائی روکنے سے متعلق فیصل واؤڈا کی فوری حکم امتناع کی درخواست سندھ ہائیکورٹ نے مسترد کر دی جبکہ اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم نامہ بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کے سر پر نااہلی کی تلوار لٹکنے لگی ہے جس کی وجہ سے سندھ ہائیکورٹ میں فیصل واوڈا کی الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی ، فیصل واوڈا کے وکیل بیرسٹر معیز نے عدالت سے استدعا کی حکم امتناعی جاری کیا جائے ، جسٹس محمد علی مظہر نے کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو فی الوقت نہیں روک سکتے، الیکشن کمیشن میں بتا دیجئے کہ سندھ ہائیکورٹ نے نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔
سندھ ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ فیصل واؤڈا کے خلاف کس نے کیا شکایت جمع کرائی ہے؟ اس پر وکیل فیصل واوڈا نے عدالت کو بتایا کہ واوڈا کیخلاف دوہری شہریت معاملے پرالیکشن کمیشن میں تین شکایات درج ہیں ، قادر خان مندوخیل، میاں محمد آصف اور خالد جاوید نے شکایات دائر کر رکھی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فیصل واؤڈا کے خلاف الیکشن کمیشن میں ڈائریکٹ شکایت درج کی گئی ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کو ڈائریکٹ شکایات سننے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
بیرسٹر معیز احمد نے بتایا کہ مسئلہ زندگی بھر کے لیے نااہل قرار دینے کا ہے، اسلام آباد فیصلے کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ہمارا موقف بھی یہی ہے کہ الیکشن کمیشن کیس نہیں سن سکتا۔ فیصل واوڈا کے خلاف شکایات کا کوئی سر پیر نہیں۔
اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہرنے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ طلب کر لیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن سے دو تین دنوں کے لیے جواب طلب کرلیتے ہیں۔ عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان ڈپٹی اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو بھی 16 مارچ کو پیش ہونے کے نوٹس جاری کر دیئے ۔
