سیالکوٹ واقعہ کے بعد غیر ملکیوں آڈیٹرز کا آنے سے انکار


مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کے قتل عام کے بعد سیالکوٹ میں واقع عالمی معیار کی فیکٹریوں کے آڈٹ کے لیے آنے والی ٹیموں نے اپنے دورے منسوخ کر دیے ہیں جس سے پاکستانی ایکسپورٹس بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے مطابق سیالکوٹ کی صنعت کا قومی برآمدات میں حصہ 2.2 ارب ڈالر ہے، جبکہ یہاں کھیلوں کے سامان، گارمنٹس، گلابی نمک، چمڑا اور آلات جراحی کی عالمی معیار کی بڑی بڑی فیکڑیاں موجود ہیں جو دنیا کے بڑے بڑے برانڈز کا مال تیار کرتی ہیں۔ سیالکوٹ میں جہاں عالمی معیار کی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں، وہیں سینکڑوں پروڈکشن فیکٹریوں میں غیر ملکی افراد کی بھی بڑی تعداد موجود ہے جو وہاں اعلٰیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ ان ماہرین میں سے ذیادہ تر غیر ملکوں کا تعلق سری لنکا اور بنگلہ دیش سے ہے۔ سیالکوٹ کی نظام سنز پرائیویٹ لمیٹڈ گارمنٹس کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر علی انور کے مطابق کمارا کے بہیمانہ قتل نے یہاں کی بزنس کمیونٹی اور غیرملکی ماہرین کے لیے ایک خوف کی فضا پیدا کر دی ہے جس کے بعد انکی ایکسپورٹس متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری کپمنی کے آڈٹ کے لئے ایک غیر ملکی ٹیم نے سری لنکا سے آنا تھا لیکن اس نے اب اپنا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ ایک اور بزنس مین محمد فاروق کے مطابق اس ہفتے 2 غیر ملکی ٹیموں نے انکے فیکٹری کے آڈٹ کے لئے بیرون ملک سے آنا تھا لیکن کمارا کے اندوہناک قتل کے بعد ابھی ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ ٹیمیں نہیں آ رہیں۔
خیال رہے کہ سیالکوٹ میں بیشتر کمپنیاں بین الاقوامی معیار کا کام کر رہی ہیں اس لیے ان کے آڈٹ بھی بین الاقوامی ادارے ہی آکر کرتے ہیں۔ سیالکوٹ کی گارمنٹس فیکٹری کے ایگزیکٹو آفیسر علی انور کے مطابق جو بھی بین الاقوامی برانڈ مال تیار کرنے کا آرڈر دیتا ہے وہ اپنے ملکی قوانین کے مطابق فیکٹری میں کام کرنے والے ورکرز کو دی جانے والی سہولیات، صحت کے اصول، صنفی امتیاز اور صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ خام مال کی کوالٹی کی پرکھ کا آڈٹ کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وہاں بین الاقوامی اسٹینڈرز کے مطابق کام ہو۔ اگر کسی ملک میں چائلڈ لیبر ممنوع ہے اور وہاں کا برانڈ کسی دوسرے ملک سے پراڈکٹ تیار کروا رہا ہے تو وہ اپنی حکومت کو جواب دہ ہے کہ جس ملک کی فیکٹری سے وہ پراڈکٹ تیار کروائی گئی ہے وہاں چائلڈ لیبر نہیں تھی۔ اسی طرح دیگر قوانین اور قواعد بھی آڈٹ کے زمرے میں آتے ہیں۔ علی انور کے مطابق یہ آڈٹ ہونا اور ان میں کلئیر ہونا ضروری ہے کیونکہ ہم نے بین الاقوامی معیار کے مطابق چلنا ہوتا ہے۔ لہذا ہم غیر ملکی خود مختار کمپنیوں سے آڈٹ کرواتے ہیں اور نئی کاروباری شراکت داریوں اور معاہدوں میں ان آڈٹ رپورٹس کو استعمال کرتے ہیں جس سے بڑے بڑے برانڈز ہم پر بھروسہ کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب تک یہ آڈٹ مکمل نہیں ہو جاتے کاروباری عمل مکمل نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل واؤڈا کی فوری حکم امتناع کی درخواست مسترد

خیال رہے کہ سیالکوٹ کی راجکو فیکٹری میں سری لنکن پروڈکشن مینجر کو قتل کیا گیا وہ بھی ایک بین الاقوامی برینڈ ‘باس’ کے لیے سپورٹس کے ملبوسات تیار کرتی ہے۔ علی انور نے بتایا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق سیالکوٹ کی 50 فیصد فیکٹریوں میں غیر ملکی ہی ایگزیکٹیو عہدوں پر فائز ہیں۔ تاہم دوسری جانب سیالکوٹ چیمبر آف کامرس سے منسلک سلمان میر سمجھتے ہیں کہ یہ ایک عارضی صورت حال ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ اس واقعے کا سیالکوٹ کی انڈسٹری پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یقیناً اس کے دور رس نتائج ہوں گے، لیکن مجھے امید ہے کہ حالات جلد نارمل ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کے آرڈرز لیٹ ہو سکتے ہیں اور آڈٹ بھی لیٹ ہوں گے، الیکن بھی ہمیں ایسی کوئی شکایت نہیں ملی کہ آرڈرز منسوخ ہوئے ہیں، کیونکہ یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ کئی بڑے برانڈز نے تو ان فیکٹریوں اور کمپنیوں میں اپنے شیئر رکھے ہوئے ہیں اور کاروبار جذباتی عوامل سے ایک حد تک متاثر ضرور ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کے تمام فیکٹری مالکان کو مل کر ایک جامعہ پالیسی تیار کرنی چاہیے تاکہ دوبارہ سری لنکن شہری جیسا کوئی اور افسوسناک واقعہ پیش نہ آئے۔

Back to top button