وزیراعظم کے 20 معاونین خصوصی اور مشیروں کے اختیارات محدود

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے بعد وفاقی حکومت کو وزیراعظم کے 20 غیر منتخب مشیروں اور معاونین خصوصی کے اختیارات محدود کرنا پڑ گئے ہیں اور اب کابینہ کمیٹی کے اجلاسوں میں عمران خان کے غیر منتخب مشیروں اور معاونین خصوصی کی شرکت دعوت نامے سے مشروط کردی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حال ہی میں یہ فیصلہ سنایا تھا کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ سمیت انکے کوئی بھی مشیر اور معاونین خصوصی کسی کابینہ کمیٹی کا سربراہ نہیں ہوسکتے یا اس کا حصہ نہیں بن سکتے. اس فیصلے سے وفاقی حکومت کے کچھ غیر منتخب اراکین کی سربراہی میں جاری نجکاری کے عمل کو ایک بڑا دھچکا لگا کیوں کہ سلام آباد ہائی کورٹ نے نجکاری سے متعلق کابینہ کی کمیٹی کے قیام کے گزشتہ سال کے نوٹیفکیشن کو بھی کالعدم قرار دے دیا تھا.
اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ غیر منتخب مشیر اور معاونین خصوصی حکومتی کمیٹیوں کی سربراہی نہیں کرسکتے. ایک رکن قومی اسمبلی کی جانب سے دائر درخواست کا فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس عامر فاروق نے مؤقف اختیار کیا کہ غیر منتخب مشیر اور معاونین خصوصی ایگزیکٹو کے دائرہ کار میں مداخلت نہیں کرسکتے۔
رکن اسمبلی رانا اردات شریف خان نے اپنے وکیل بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا کے ذریعے پیش کی گئی درخواست میں عبدالحفیظ شیخ کی بطور چیئرمین اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے تجارت اور سرمایہ کاری عبد الرزاق داؤد اور وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور کفایت شعاری ڈاکٹر عشرت حسین کی نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے تقرری کو چیلنج کیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق یہ طے شدہ قاعدہ ہے کہ کابینہ وزیر اعظم اور اب وزرا پر مشتمل ہوتی ہے جو پارلیمنٹ کے منتخب اراکین ہوتے ہیں۔.رکن اسمبلی اردات شریف نے 25 اپریل 2019 کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ اور محصولات عبدالحفیظ شیخ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد، وزیر اعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور سادگی ڈاکٹر عشرت حسین، وزیر مواصلات مراد سعید، سینیٹر فروغ نسیم، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر، وزیر نجکاری محمد میاں سومرو اور وزیر برائے بجلی عمر ایوب خان نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی کے اراکین کے طور پر شامل ہیں۔
انکا موقف تھا کہ تینوں مشیروں عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داؤد اور ڈاکٹر عشرت حسین کو پاکستان کے عوام نے منتخب نہیں کیا..بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا نے استدلال کیا کہ پاکستان پر عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے ہی حکومت کی جاسکتی ہے اور وہ شخص جو پارلیمنٹ کا رکن نہیں ہے، نہ کابینہ کا حصہ بن سکتا ہے اور نہ ہی اس کی کمیٹیوں کا۔ درخواست میں کہا گیا کہ وزرا کے برخلاف مشیر وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ہیں، وہ حلف نہیں اٹھاتے، وہ آئین کے آرٹیکل 91(6) کے تحت پارلیمنٹ کو جوابدہ نہیں ہیں، وہ قابلیت کے تابع نہیں ہیں اور آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت اہل یا نااہلی بھی قرار نہیں دیے جا سکتے، تقرر سے پہلے اور بعد میں مشیر اپنے اثاثوں اور واجبات کے بارے میں بیانات جمع کروانے کے پابند نہیں ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی جانچ پڑتال کے تابع نہیں ہیں۔
اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ کسی بھی شخص کو مشورے دینے کے لیے منتخب کرنا وزیر اعظم کا استحقاق ہے، تاہم انہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ وزیر اعظم کی ٹیم کے کسی غیر منتخب رکن کی جانب سے کسی قانونی حق کے بغیر ایگزیکٹو اختیارات کی انجام دہی کو غیرقانونی تصور کیا جائے گا اور اس وجہ سے اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ عدالتی فیصلے میں اعلان کیا گیا کہ کسی وزیر کی حیثیت سے مشیر کا تقرر ان کو اختیارات نہیں دیتا ہے کہ وہ وزیر کی حیثیت سے کام کرے یا رولز آف بزنس 1973 کے تحت اس طرح سے امور انجام دے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اب وزیراعظم کے بیس معاونین خصوصی اور مشیر حضرات نہ تو کسی کابینہ کمیٹی کے سربراہ بن سکتے ہیں اور نہ ہی انکے رکن بن سکتے ہیں۔ جب کہ جس وزارت اور ڈویژن میں ان کی تقرری کی گئی ہے، وہاں بھی ان کا کوئی کردار، ذمہ داری یا ڈیوٹی نہیں ہوگی۔
باخبر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے وزیراعظم نے کابینہ کمیٹیوں کی تشکیل نو کی ہے اور مشیروں اور معاونین کا کردار کم کردیا ہے۔ اب سرکاری ریکارڈ میں کوئی بھی مشیر یا معاون خصوصی ، کابینہ کمیٹی، وزارت یا ڈویژن کا سربراہ نہیں ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کا سربراہ اب وفاقی وزیرتعلیم کو بنایا گیا ہے۔ جب کہ وزیر دفاع اور وزیر فوڈ سیکورٹی اس کے ارکان میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر عشرت حسین جو کہ اس کمیٹی کے سربراہ تھے، وہ اب خصوصی دعوت نامے پر ہی اس کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اسی طرح اسٹیبلشمنٹ اینڈ پٹرولیم کے حوالے سے معاونین خصوصی ، سیکرٹریز اسٹیبلشمنٹ، فنانس، قانون و انصاف اور کابینہ و پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین بھی کریں گے۔ اسی طرز پر کابینہ کمیٹی برائے توانائی کی بھی تشکیل نو کی گئی ہے۔ اب وزیر منصوبہ بندی، ترقیات اور خصوصی اقدامات کو اس کا چیئرمین بنادیا گیا ہے۔جب کہ وزیر خزانہ اور ریونیو، صنعت و پیداوار، اطلاعات و نشریات، داخل بحری امور، پاور اور ریلویز اس کے ارکان ہیں۔ معاون خصوصی برائے پاور، پٹرولیم اور ریونیو، مشیر کامرس اینڈ انویسٹمنٹ بھی سی سی او ای اجلاسوں میں خصوصی دعوت نامے پر ہی شرکت کرسکیں گے۔ دریں اثنا وزیراعظم نے ایک اور فورم تشکیل دیا ہے جو کہ کابینہ کمیٹی برائے ڈسپوزل آف لیجسلیٹو کیسز (سی سی ایل سی) ہے۔ اس کا سربراہ وزیر قانون و انصاف کو بنایا گیا ہے.
