براڈ شیٹ کی پاکستان کو اربوں روپے واپس کرنے کی مشروط آفر


حکومت پاکستان سے حال ہی میں اربوں روپے بطور جرمانہ وصول کرنے والی بین الاقوامی اثاثہ بازیافت فرم براڈشیٹ نے پیشکش کی ہے کہ ماضی کے تلخ تجربے کے باوجود اگر حکومت پاکستان بیرون ملک غیرقانونی اثاثوں کی بازیابی کے لیے ان کی کمپنی سے دوبارہ معاہدہ کر لے تو وہ 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز حکومت پاکستان کو واپس کرنے پر راضی ہیں جو کہ اس نے ایک عدالتی فیصلے کے بعد پاکستان سے حاصل کیے ہیں۔ یاد رہے کہ ایک برطانوی عدالت نے دسمبر 2020 میں یہ بھاری جرمانہ حکومت پاکستان پر براڈ شیٹ کمپنی کے ساتھ اثاثے ڈھونڈنے کا معاہدہ اچانک منسوخ کرنے کے بعد عائد کیا تھا۔
تاہم اب براڈ شیٹ کمپنی کے ایرانی نژاد برطانوی مالک کاوے موسوی نے لندن میں ایک ویب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے برطانوی عدالت کے ذریعے عمران حکومت سے جو رقم ضبط کی ہے وہ انہیں واپس کر کے زیادہ خوشی محسوس ہو گی، بشرطیکہ حکومت کی جانب سے ان کی کمپنی سے دوبارہ بیرون ملک خفیہ اثاثے ڈھونڈنے کا معاہدہ کر لیا جائے۔ براڈ شیٹ کے مالک نے کہا کہ اگر عمران کی حکومت چوروں کا پیچھا کرنے کے لیے انکی کمپنی کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرنے کے لیے پرعزم ہے تو برطانوی عدالت نے جو بھی حکم دیا ہے میں اسکے باوجود حکومت پاکستان کو اسکی ادا کردہ رقم واپس کرنے کے لیے تیار ہوں۔
کاوے موسوی نے لندن کے ایک یوٹیوب چینل کو انٹرویو کے دوران تصدیق کی کہ حکومت پاکستان سے حاصل کیے گئے 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز ان کے اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو گے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سنہ 2000 میں مشرف کی فوجی حکومت نے پاکستانی سیاستدانوں اور تاجروں کے غیر قانونی غیر ملکی اثاثوں بازیافت کرانے کے لیے انکی فرم کی خدمات حاصل کی تھیں، اثاثے کی بازیابی کے معاہدے کے تحت اس کی ادائیگی پر ‘ہدف’ سے حاصل ہونے والی رقم میں سے 20 فیصد معاہدے کے تحت ادا کی جانی تھی۔ لیکن یہ معاہدہ 2003 میں اچانک ختم کر دیا گیا تھا اور انکی کمپنی کو ان کیسوں میں 20 فیصد کمیشن بھی ادا نہیں کی گئی تھی جن میں حکومت پاکستان نے براڈ شیٹ کی مدد سے ریکوری کی تھی۔ لہذا اب براڈشیٹ فرم نے برطانوی عدالت کے فیصلے کے تحت برطانیہ کے ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سے اپنی خدمات کے سلسلے میں واجب الادا 2 کروڑ 87 لاکھ ڈالر کی رقم حاصل کی ہے۔
کاوے موسوی نے اپنے انٹرویو میں بتایا یے کہ جنرل مشرف کے دور حکومت میں 2000 میں حکام نے ان سے پاکستان آنے کے لیے رابطہ کیا گیا تاکہ چوری شدہ اثاثوں کے پیچھے لگا جا سکے۔ انکا کہنا ہے کہ انہوں نے اس اہم شرط پر معاہدہ کیا تھا کہ حکومت میں تبدیلی کے باوجود اسے منسوخ نہیں کیا جائے گا اور سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف جیسے ‘اہداف’ کے پیچھے پڑنے کے معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں وکلا ہمارے ساتھ کام کر رہے تھے، وہ نیب کے ساتھ رابطہ کر رہے تھے، ہمارے پاس نیب کی عمارت میں ایک آفس موجود تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابتدا میں مشرف کی توجہ نواز شریف اور ان کی حکومت کے پیچھے رہنا تھی لیکن ہم نے اصرار کیا کہ ہم کسی سیاسی الزام تراشی کا نشانہ نہیں بنیں گے اور کہا کہ بھٹو حکومت سمیت پچھلی حکومتوں پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ مشرف نے ہمیں اپنے اہداف کی فہرست دی لیکن ہم نے کہا کہ یہ نامکمل ہے، ہم نے انہیں ابتدائی تفتیش سے ہی بتایا کہ ہمارے خیال میں کچھ دوسرے افراد کو بھی اس فہرست میں شامل ہونا چاہیے۔ کاوے موسوی نے دعویٰ کیا کہ ان کی فرم نے 200 افراد اور ان کی کمپنیوں کی ایک فہرست تیار کی ہے جس میں بیرون ملک مقیم ناجائز اثاثے ہیں، انہوں نے کہا ، ‘ہم جنرل مشرف کے مخالفوں کے پیچھے نہیں جانا چاہتے تھے، ہم پاکستان کے عوام کے دشمنوں کے پیچھے جانا چاہتے تھے’۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی فرم نے تین سالوں میں کیا پیشرفت کی تو کاوے موسوی نے کہا کہ براڈشیٹ نے بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل منصور الحق کی پاکستان حوالگی میں مدد کی جنہیں دفاعی سودوں میں بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کے لیے امریکا سے واپس لایا گیا تھا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کیس میں براڈشیٹ نے اپنا مکمل کام کیا لیکن پھر بھی اسے برخاست کردیا گیا اور انکی کمپنی کے ساتھ اچانک معاہدہ ختم کردیا گیا۔
جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے براڈشیٹ کو واجب الادا رقم کی ادائیگی کے لیے برطانوی عدالت میں کیس کرنے سے پہلے حکومت پاکستان میں کسی سے رابطہ کیا تھا تو کاوے موسوی نے کہا کہ اعتماد کے فقدان کی وجہ سے انہوں نے پاکستانی عہدیداروں سے رابطہ ترک کردیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے اکتوبر 2018 میں وزیر اعظم کے مشیر برائے شہزاد اکبر سے دو بار ملاقات کی تاکہ پوچھیں کہ ادائیگی کا معاملہ کیسے حل ہوگا، دونون مرتبہ انہوں نے ان سے رعایت مانگی! لیکن میں نے ان پر واضح کردیا تھا کہ یہ اب ایک عدالتی معاملہ ہے اور انکو واجب الادا رقم ہر صورت میں دینا پڑے گی۔ کاوے موسوی نے کہا کہ اپنے تلخ تجربے کے باوجود اگر پاکستانی حکومت بیرون ملک موجود غیرقانونی اثاثوں کی بازیابی کے لیے ان کی کمپنی سے معاہدہ کرتی ہے تو وہ 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر حکومت پاکستان کو واپس کرنے پر راضی ہیں بشرطیکہ وہ چوروں کا پیچھا کرنے کے لیے انکی فرم کے ساتھ ایک نئے معاہدہ کے لیے پرعزم ہو۔
جب کاوے موسوی کے دعوؤں پر تبصرے کے لیے شہزاد اکبر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ براڈ شیٹ کمپنی نے نیب کو 2000 سے 2003 کے دوران بیرون ملک موجود کسی قسم کے اثاثے ڈھونڈنے میں کوئی مدد نہیں کی تھی اور اسی لیے اس کے ساتھ معاہدہ ختم کردیا گیا تھا۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ ہم نے براڈ شیٹ فرم کو بتانے کی کوشش کی کہ اس نے نیب کے لیے کچھ نہیں کیا، اور اس کے ذریعے پاکستان کو کچھ نہیں ملا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اگر شہزاد اکبر کا دعوی درست ہے تو پھر برطانوی عدالت نیب اور حکومت پاکستان پر جرمانہ عائد نہ کرتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button