وزیر اعظم اپوزیشن کے استعفوں کی فوری منظوری کے خواہاں

وزیر اعظم عمران خان نے جمعرات کے روز اپنے ترجمانوں کے ایک گروپ سے ملاقات کے دوران کہا کہ حکومت قومی اسمبلی کے اسپیکر سے کہے گی کہ جیسے ہی اپوزیشن پارلیمنٹیرین کے استعفے آئیں، وہ انہیں فوری طور پر قبول کر لیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اپنی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ سے مذاکرات کرے گی جس نے کابینہ کی جانب سے 2017 کی قومی مردم شماری کے نتائج کی منظوری پر اعتراض کیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا لاہور میں جلسہ عام ناکام رہا اور اسے اپوزیشن کی فیصلہ کن شکست قرار دیا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اتحاد میں شامل 11 جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے پی ڈی ایم اسلام آباد تک مارچ نہیں کرسکیں گی۔ذرائع کے مطابق جب وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا سمیت کچھ ترجمانوں نے اپوزیشن کے قانون سازوں کے استعفوں کو قبول کرنے کی تجویز دی تو وزیر اعظم نے اتفاق کیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو آگاہ کیا گیا تھا کہ حزب اختلاف کے دو اراکین قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی اور محمد سجاد اعوان پہلے ہی قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں اپنا استعفیٰ پیش کرچکے ہیں۔پی ڈی ایم نے مختلف شہروں میں کئی ریلیاں نکالنے کے بعد حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اس کے اراکین پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو گرانے کے آخری حربے کے طور پر مستعفی ہوجائیں گے۔تاہم عمران خان پہلے ہی یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ وہ استعفوں سے خوفزدہ نہیں ہیں اور حکومت قومی اور صوبائی اسمبلی میں خالی ہونے والی نشستوں پر اپوزیشن کے قانون سازوں کے ذریعے ضمنی انتخابات کروائے گی۔مسلم لیگ (ن) کے بہت سے رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے استعفے اسپیکر قومی اسمبلی کو نہیں بلکہ پارٹی قیادت کو پیش کیے ہیں۔میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز جو بدعنوانی کے کچھ مقدمات کی وجہ سے جیل میں ہیں، نے اپنے استعفوں پر دستخط کردیے ہیں۔ایک اور ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم کا خیال ہے کہ حکومت کے خلاف پی ڈی ایم کی مہم کو لاہور میں دفن کر دیا گیا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین کوئی ہم آہنگی نہیں ہے۔
ایک اہم پیشرفت میں وفاقی کابینہ نے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے خارج کرنے کی درخواست قبول کرلی۔معلوم ہوا ہے کہ شاہد خاقان عباسی نے اپنا نام نو فلائی لسٹ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ وہ اپنی بیمار بہن اور بہنوئی کی عیادت کے لیے بیرون ملک جا سکیں۔
رہائش اور تعمیر سے متعلق ایک علیحدہ اجلاس میں وزیر اعظم نے سندھ کے چیف سیکریٹری کو سرزنش کی کہ وہ نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ کے تحت کام کرنے والے ہاؤسنگ منصوبوں کو منظوری نہیں دے رہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ 6ماہ میں پنجاب حکومت نے 664 رہائشی منصوبوں کی منظوری دی تھی جب کہ حکومت سندھ نے صرف 19 منصوبوں کی ہی اجازت دی اور 250 کے قریب رہائشی منصوبے منظوری کے منتظر ہیں۔
وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ کاروباری برادری کے ساتھ سندھ حکومت کا رویہ ‘غیردوستانہ’ تھا۔ایک اور اجلاس میں وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی تنظیم نو کے عمل کو تیز کریں۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو متحرک اور منافع کمانے والی تنظیم بنانے کے لیے بین الاقوامی معیار پر پورا اترنا ہوگا، اپنی کھوئے ہوئے وقار کی بحالی اور ایک منافع بخش ادارہ بننے کے لیے قومی ایئرلائن کو اپنی خدمات کو بہتر بنانا ہوگا۔
