وزیر اعظم کا ملک گیر لاک ڈاؤن میں 2ہفتے توسیع کا اعلان

وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے بعد ملک بھر میں نافذ جزوی لاک ڈاؤن میں مزید 2 ہفتے کی توسیع کا اعلان کردیا۔وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگلے دو ہفتے بھی لاک ڈاؤن برقرار رہے گا۔
اسلام آباد میں نیشنل کورآرڈینیشن کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ہم نے کرکٹ میچ، گراؤنڈ، دکانیں، شاپنگ مال، شادی ہال سمیت جہاں بھی لوگ جمع ہوسکتے تھے ان سب کو بند کردیا کیونکہ اگر ایسا نہ کرتے تو وائرس تیزی سے پھیل سکتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس وائرس کی ایک عجیب چیز ہے کہ جہاں بھی لوگ جمع ہوتے ہیں وہاں یہ تیزی سے پھیلتا ہے اور اسی لیے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کردیے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے عوام کے تحفظ اور وائرس کو پھیلاؤ سے روکنے کے لیے لاک ڈاؤن میں مزید 2 ہفتے توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر اعظم نے قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے عوام نے تعاون کرتے ہوئے وائرس کو زیادہ تیزی سے پھیلنے سے روکنے کیلئے بھرپور تعاون کیا جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وائرس ہمارے اندزوں سے محض 30فیصد پھیلا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جو کم از کم تخمینہ لگایا تھا اس لحاظ سے اب تک 190 اموات ہونی چاہئے تھیں لیکن ہمارے موثر اقدامات اور لاک ڈاؤن کی بدولت آج اموات کی تعداد اس کی نسبت انتہائی کم ہے۔
وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ ہمارے اقدامات کی بدولت کیسز ہم ننے جو اندازہ لگایا تھا اس کے مقابلے میں صرف 30فیصد رپورٹ ہوئے ہیں جو ایک اچھی خبر ہے اور امریکا، اٹلی اور اسپین سمیت باقی دنیا کے مقابلے میں ہمارے ملک میں اموات بھی بہت کم ہوئیں۔وزیراعظم نے خبردار کیا کہ یہ وائرس کسی بھی وقت پھیل سکتا ہے تو ہمیں احتیاط کرنا نہیں چھوڑنا چاہیے، سب کو احتیاط کرنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ جس لحاظ سے یہ وائرس پھیل رہا ہے، اگر اسی طرح پھیلا تو ہمارا صحت کا نظام اس کا بوجھ برداشت کر لے گا جہاں ہم نے اس کی مدد کے لیے وینٹی لیٹرز، ادویہ، حفاظتی کٹس وغیرہ منوائی ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم سے بداحتیاطی ہوئی اور یہ وائرس پھیلا تو پھر ہمارا نظام صحت اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم دو محاذوں پر لڑ رہے ہیں جس میں سے ایک کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنا ہے اور دوسرا مسئلہ بیروزگاری ہے جو سب جگہ پھیل چکی ہے اور ہمیں لاک ڈاؤن برقرار رکھتے ہوئے انہیں ریلیف فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ غریبوں کی مدد کے لیے ہم نے احساس پوگرام شروع کیا جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے اور کبھی بھی اتنی جلدی ہمارے ملک میں ایمرجنسی پروگرام متعارف نہیں کرایا گیا۔ وزیر اعظم نے اپنے پرانے موقف کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام میں کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہے اور مجھے فخر ہے کہ یہ مکمل طورپر میرٹ پر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اس پروگرام میں ابتدائی طور پر چھوٹ گئے ہیں ان کے لیے ایس ایم ایس سروس شروع کی جا رہی ہے جس کے ذریعے انہیں بھی 12ہزار روپے کی رقم مل سکے گی۔عمران خان نے بتایا کہ احساس پروگرام کے تحت اب تک 28لاکھ خاندانوں کو پیسہ مل چکا ہے اور ان میں 45ارب روپے تقسیم کیے گئے ہیں اور یہ پروگرام چلتا رہے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ انتظامات کیے گئے ہیں کہ گندم کی کٹائی میں رکاوٹ نہ ہو، تعمیراتی صنعت میں رسک فیکٹر بہت کم ہے، تعمیراتی انڈسٹری کیلئے کل ایک آرڈیننس لارہےہیں، تعمیراتی صنعت کو بہت بڑا ریلیف پیکیج دیں گے اور تعمیراتی صنعت آج سے کھول رہےہیں۔عمران خان نے مزید کہا کہ اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت آرڈیننس لارہےہیں، گندم کی اسمگلنگ کی روک تھام کےلیے سخت آرڈیننس لا رہےہیں، ملک سےگندم کی اسمگلنگ کا خطرہ ہے، پاکستان سے ڈالر بھی اسمگل ہوجاتے ہیں، اسمگلنگ کرنے والے کے منیجرکو نہیں مالک کوپکڑیں گے، ملک میں ذخیرہ اندوزی کوبھی روکیں گے، رمضان سےپہلےذخیرہ اندوز مصنوعی منہگائی پیداکرتےہیں۔
قبل ازیں وفاقی کابینہ نے بھی لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع کی منظوری دے دی تھی۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی معاشی صورتحال پر غور کیا گیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں کورونا وائرس کے باعث ملکی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور کابینہ نے لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع کی منظوری دی۔لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع کی حتمی منظوری اب قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) نے بھی دے دی ہے۔
خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن جاری ہے جو 14 اپریل کو ختم ہونا تھا۔
