وفاقی اور صوبائی پولیس فورسز آمنے سامنے آنے کا خدشہ


اقتدار سے برطرفی کے بعد سے اپنی سکیورٹی کے لیے وفاق کی اجازت کے بغیر مسلسل خیبر پختونخوا پولیس فورس کا استعمال کرنے والے عمران خان نے اب بنی گالا میں پنجاب پولیس کے دستے بھی تعینات کروا دیے ہیں حالانکہ وفاق کی حدود میں دوسرے صوبے کی پولیس فورسز وزارت داخلہ کی پیشگی اجازت کے بغیر تعینات نہیں کی جا سکتیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی صورت حال میں پہلی مرتبہ وفاقی و صوبائی فورسز کے تصادم کا خدشہ بھی پیدا ہو چکا ہے چونکہ عمران کی ممکنہ گرفتاری کی صورت میں خیبر پختونخوا اور پنجاب پولیس کے دستے لازمی مزاحمت کریں گے جس سے خون خرابے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ پر وزارت داخلہ کی پیشگی اجازت کے بغیر پنجاب اور خیبر پختونخوا پولیس کے دستوں کی تعیناتی کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے اور آئی جی اسلام آباد نے وفاقی حکومت کو تحریری طور پر اپنے خدشات سے آگاہ کردیا ہے۔

وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ بنی گالہ کی اندرونی اور بیرونی سکیورٹی کے لیے کسی بھی صوبے کی پولیس فورس وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر تعینات نہیں ہو سکتی اور پنجاب اور خیبر پختونخوا کے آئی جیز کو بتایا جانا چاہئے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر اپنی فورسز بنی گالا میں تعینات کررکھی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پہلی اسٹیج پر اسلام آباد میں واقع پنجاب ہاؤس اور خیبرپختونخوا ہاؤس پر تعینات فوجی دستوں کو بنی گالا بھجوایا گیا تھا جس کے بعد اب مزید پولیس فورس کو بھی وہاں تعینات کر دیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بنی گالہ میں سینکڑوں پولیس والوں کو تعینات کرنے کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت کی جانب سے عمران کی ممکنہ گرفتاری کو روکنا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے وفاقی وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں کے علاوہ کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں سے کہا تھا کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں قائم ان صوبوں کے ہائوسز پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔ اس کے علاوہ عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرنے کے بارے میں کہا گیا تھا۔ اس وقت عمران خان کے گھر کے باہر پنجاب، خیر پختونخوا اور گلگت بلتستان کی پولیس کے علاوہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار بھی تعینات ہیں۔ وزارت داخلہ کی طرف سے بنی گالہ پر تعینات اہلکاروں کی تفصیل مانگنے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اندازہ لگایا جا سکے کہ وہاں پر کس صوبے کے کتنے سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ بنی گالہ میں عمران خان کے گھر کے باہرخیبر پختونخوا پولیس، گلگت بلتسان اور کشمیر پولیس کے جو اہلکار موجود ہیں، انھیں وفاقی حکومت نے اسلام آباد پولیس کی معاونت کے لیے طلب نہیں کیا لہذا ان کی تعیناتی غیر قانونی ہے۔ اسکے علاوہ خفیہ اداروں کی طرف سے کچھ ایسی رپورٹس بھی وزارت داخلہ کو ملی تھیں کہ 25 مئی کو تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کو ریڈ زون اور بلیو ایریا تک رسائی دینے میں بنی گالہ پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے مدد فراہم کی تھی۔

دوسری جانب عمران خان نے مختلف عوامی جلسوں میں اس بات کا برملا اظہار کیا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے جس کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا پولیس کے علاوہ گلگت بلتستان کشمیر کی پولیس کے اہلکاروں کو بنی گالہ رہائش گاہ کے باہر تعینات کیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ان اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی بنی گالہ میں موجود ہے تاکہ عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کی کوشش کی صورت میں مزاحمت کی جا سکے۔

Back to top button