وفاقی حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن سخت کرنے پر غور

وفاقی حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں سختی کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت کورونا وائرس کی وبائی صورت حال پر اجلاس میں لاک ڈاؤن سخت کرنے کے آپشن پر غور کیا گیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں عوام کو کورونا وائرس سے بچانے کےلیے ضابطہ اخلاق پر عمل کرانے کی تلقین کی جائے گی۔ صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی سیاسی قیادت عوام کو ایس او پیز پر عملدرآمد کی تلقین کریگی۔ اعلیٰ سطح اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیاسی قیادت کے ذریعے عوام کو ایس او پیز پر عملدرآمد کی تلقین کی جائے گی۔ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو لاک ڈاؤن سخت کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ اس سے قنل وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اہم اجلاس میں ہفتے میں دو دن مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اجلاس میں کورونا وائرس کے پیش نظر اہم فیصلوں پر غور کیا گیا اور صوبوں کی تجاویز کی روشنی میں اہم فیصلے کئے گئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کاروباری مراکز شام 7 بجے تک کھل سکیں گے جب کہ وزارت ریلوے 40 ٹرینیں چلا سکے گی۔ وزیراعظم نے قومی رابطہ کمیٹی اجلاس میں ہونے والے ان اہم فیصلوں کی منظوری دے دی ہے۔ رابطہ کمیٹی اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بیماری کی روک تھام اور معاش کے مابین توازن برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے۔ اعلامیہ کے مطابق کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بعض شعبے معطل رہیں گے۔ کاروباری اداروں اور تجارتی سرگرمیوں کی تجویز کردہ فہرست پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اتفاق رائے کرتے ہوئے کہا کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ایس او پیز کو لاگو کیا جائے گا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں خصوصاً مزدور طبقے کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کےلئے خصوصی پروازیں چلائی جائیں گی۔ دوسری جانب سندھ حکومت نے نئے ایس او پیز کے ساتھ لاک ڈاؤن برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق ہفتے میں پانچ دن صبح 6 سے شام 7 بجے تک کاروبار کھولنے کی اجازت ہوگی جب کہ ہفتہ اور اتوار صوبے بھر میں سخت لاک ڈاؤن ہوگا۔ تعلیمی ادارے، شادی ہالز، چائے خانے، سینما اور کھیلوں کی سرگرمیوں پر پابندی برقرار رہے گی۔ ریسٹورنٹس سے ہوم ڈلیوری اور ٹیک اوے کی اجازت ہوگی۔ صوبے میں ٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ 2 جون کو کیا جائے گا۔ ایس او پیز کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دی جائے گی۔
ادھر حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاﺅن میں 15 دن کی توسیع کرتے ہوئے اس کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے اسمارٹ لاک ڈاﺅن میں توسیع سے متعلق جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کاروباری مراکز اور دکانیں ہفتے میں 6 دن صبح 9 بجے سے شام 7 بجے تک کھلی رہیں گی۔ ہفتے سے جمعرات تک اسمارٹ لاک ڈاﺅن کے تحت دکانیں کھولی جائیں گی۔ جمعہ کے روز تمام کاروباری مراکز اور دکانیں بند رکھی جائینگی۔ دودھ دہی کی دکانیں، تندور، میڈیکل اسٹورز پورا ہفتہ 24 گھنٹے اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں گے۔ ریسٹورنٹ 24 گھنٹے صرف پارسل اور ٹیک اوے کی سہولت فراہم کر سکیں گے۔ انٹر سٹی اور انٹر ڈسٹرکٹ پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی برقرار رہے گی۔ مذہبی، سماجی اور دیگر تقریبات پر بھی پابندی عائد رہے گی۔ تمام تعلیمی ادارے بھی 15 جولائی تک بند رہیں گے۔ سینما، پکنک پوائنٹس، شادی ہال اور جمز پر عائد پابندی برقرار رہے گی۔ گزشتہ روز پنجاب حکومت نے بھی وفاق اور صوبائی کابینہ کی سفارشات کی روشنی میں لاک ڈاؤن میں نرمی اور کاروبار کے اوقات کار کے حوالے سے نوٹی فکیشن جاری کر دیا تھا۔
نوٹی فکیشن کے مطابق تعلیمی ادارے، شادی ہال، ریسٹورنٹ، پارک اور سینما ہالز بند رہیں گے۔ اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی اجتماعات جب کہ کھیل کی سرگرمیوں کےلیے اکٹھ کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔ تمام کاروباری مقامات صبح 9 سے شام 5 بجے تک، سوموار تا جمعہ کھلے رہیں گے۔ میڈیکل اسٹور، پنکچر شاپ، آٹا چکی تندور اور زرعی ورکشاپس کو 24 گھنٹے جب کہ کال سینٹرز کو 50 فیصد اسٹاف کے ساتھ کھلا رکھنے کی اجازت ہو گی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بین الاضلاع ٹرانسپورٹ 24 گھنٹے چلنے کی اجازت ہوگی۔ اس کے علاوہ گروسری اور کریانہ اسٹور صبح 9 سے شام 7 تک، ہفتہ بھر کھلے رہیں گے۔
تمام چرچ صرف اتوار کو صبح 7 سے شام 5 بجے تک عبادت کےلیے کھلے رہیں گے۔ نوٹی فکیشن کا اطلاق فی الفور ہوگا جو 15 جون تک نافذ العمل رہے گا۔
