ووٹنگ مشین پر الیکشن کمیشن کا دباؤ لینے سے انکار

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حکومت کی جانب سے اگلے الیکشنز الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کروانے کے معاملے پر بڑھتا ہوا دباؤ مسترد کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن ذرائع نے بتایا ہے کہ دنیا میں آج تک کسی ملک میں الیکشن کمیشن سے ایسی توقعات وابستہ نہیں کی گئیں جیسی کہ پاکستانی الیکشن کمیشن سے 2023ء کے انتخابات کے حوالے سے کی جا رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن انتخابات ای وی ایم کے ذریعے کروانے کا فیصلہ دباؤ میں آ کر نہیں کرے گا۔ یہ کام ہم صرف اسی صورت کریں گے جب ہم خود مکمل طور پر مطمئن ہوں گے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے مقابلے میں دیکھیں تو بھارت میں ووٹرز کی تعداد کہیں زیادہ ہے لیکن وہاں بھی انتخابات ریاستی سطح پر مرحلوں میں ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن ایک ہی روز کروائے جاتے ہیں۔ لہزا انکا کہنا تھا کہ وقت۔کی کمی کے باعث اگلا الیکشن الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کروانا ممکن نظر نہیں آتا۔ الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق پھر بھینحکومت کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کمیشن اپنی بھرپور کوشش کر رہا ہے، یاد رہے کہ پہ ٹی آئی حکومت نے ایک حالیہ قانون سازی کے ذریعے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان میں اگلے انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ہوں۔
لیکن لطیفہ یہ ہے کہ ابھی تک پاکستان میں صرف چند ہی الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں موجود ہیں جن پر ابھی ٹرائل بھی نہیں کیا جا سکا، لہذا ان حالات میں حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن سے کیا جانے والا مطالبہ غیر منطقی دکھائی دیتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے سینئر افسران کا کہنا ہے کہ وہ باقاعدہ تحریری طور پر پچھلے برس حکومت کو تحریری طور۔پر آگاہ کر چکے تھے کہ الیکشن کا انعقاد الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے ذریعے کروانا ممکن نہیں ہے لیکن پھر بھی ان پر یہ فیصلہ تھوپ دیا گیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک خود مختار اور آزاد ادارہ ہے اور اگر اسکے لئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے الیکشن کروانا ممکن نہ ہوا تو وہ اس معاملے میں معذرت کر لے گا۔ انکا کہنا تھا کہ معاملے کی حساسیت کی وجہ سے الیکشن کمیشن انتخابات ای وی ایم کے ذریعے کروانے کا فیصلہ دباؤ میں آ کر نہیں کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم یہ کام صرف اسی صورت کریں گے جب ہم خود مکمل طور پر مطمئن ہوں گے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ای وی ایم سسٹم کے کارگر ہونے کے حوالے سے مشاورت کیلئے حال ہی میں تشکیل دی گئیں تین کمیٹیوں کے حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ کمیٹیوں کو چار ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے کہ وہ اپنی تجاویز پیش کریں۔ ذرائع نے واضح کیا کہ اگرچہ حکومت کا الیکشن کمیشن سے اصرار ہے کہ وہ جلد الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں خریدے لیکن کمیشن ٹینڈرنگ پراسیس کی لوازمات کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ ٹینڈرنگ کے معاملات پر عمل کرنا ہے اور انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت میں کچھ عناصر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ دبئی کی ایک کمپنی سے ای وی ایم خریدی جائیں۔ حکومت کو الیکشن کمیشن کی جانب سے بتایا گیا کہ اگر یہی مشینیں ہنگامی بنیادوں پر چاہئیں تو اس کیلئے حکومت پاکستان یو اے ای کی حکومت سے رابطہ کرکے خرید لے۔ لیکن اگر یہ مشینیں دبئی کی کسی نجی کمپنی کی تیار کردہ نہیں ہیں تو ٹینڈرنگ پراسیس پر عمل کرنا ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ ماضی میں جب ای سی پی نے پائلٹ پروجیکٹ کے تحت ای وی ایم کے ذریعے ضمنی الیکشن کرایا تھا تو مشین کی پروکیورمنٹ یعنی خریداری کے معاملات طے کرنے میں 9 ماہ لگے تھے۔ لہذا الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے اگلا الیکشن کروانا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
