ووٹنگ مشین کا بل مشترکہ اجلاس سے پاس کروانے کا امکان

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پارلیمانی امور کے بارے میں قائمہ کمیٹی نے ملک میں آئندہ ہونے والے عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال اور بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق بل کو ناقابل عمل قرار دے کر یکسر مسترد کردیا ہے جس کے بعد الیکشن کمیشن پر رشوت لینے کا الزام لگا کر حکومت اس بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنے کا سوچ رہی ہے۔ یاد رہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 13 ستمبر کو متوقع ہے۔ حکمراں جماعت تحریک انصاف اکثریت کی بنا پر قومی اسمبلی سے اس بل کو پہلے ہی منظور کروا چکی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان اگلے عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ہر ہتھکنڈا استعمال کر رہے ہیں جس وجہ سے اپوزیشن کے ان خدشات میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے کہ ان کا اصل مقصد اگلا الیکشن بھی دھاندلی کے ذریعے جیتنا ہے۔
حزب مخالف کی جماعتیں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کو پہلے ہی یکسر مسترد کرچکی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک وونٹگ مشین کا استعمال الیکشن چرانے کے پلان کا حصہ ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر تو وزیراعظم عمران خان کا بنیادی مقصد اگلے الیکشن کے نتائج کو غیر متنازعہ بنانا ہے تو ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے الیکشن کروانے کا ان کا منصوبہ ابھی سے اگلے الیکشن کے نتائج کو متنازع بنا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے بھی اس مشین کے استعمال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے 37 نکات تحریری طور پر قائمہ کمیٹی کے حوالے کیے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر تحفظات کے اظہار کے بعد ریلوے کے وفاقی وزیر اعظم سواتی کی طرف سے الیکشن کمیشن پر رشوت لینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور یہ بھی کہا کہ ایسے اداروں کو آگ لگا دینی چاہیے۔ دوسری جانب فواد چوہدری نے بھی یہ الزام عائد کردیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر دراصل اپوزیشن کی زبان بول رہے ہیں اور وہ نواز شریف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ اس کے علاوہ بابراعوان اور شبلی فراز نے بھی الیکشن کمیشن پرسنگین الزامات عائد کر دیے ہیں جن کا بنیادی مقصد اسے دباؤ میں لا کر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر راضی کرنا ہے۔
تاہم دوسری جانب الیکشن کمیشن کے حکام نے وفاقی وزرا کے الزامات کے بعد 13 ستمبر کو الیکشن کمیشن کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ یاد رہے کہ 10 ستمبر کو پی پی پی کے سینیٹر تاج حیدر کی سربراہی میں پارلیمانی امور سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انتخابی اصلاحات کے بل کو ووٹنگ کے بعد تب مسترد کر دیا گیا جب حکمراں جماعت کے ارکان نے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ قائمہ کمیٹی نے کثرت رائے سے انتخابی اصلاحات کے بل میں ملک میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے دوران الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال اور بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق شقوں کو مسترد کردیا جبکہ انتخابات میں کامیاب ہونے کے 60 روز کے اندر حلف نہ اٹھانے والے رکن کی سیٹ خالی تصور کرنے شق کو منظور کرلیا، تاہم اس کا اطلاق اگلے عام انتخابات پر ہوگا۔۔
یاد رہے کہ حکومت کا موقف ہے کہ انڈیا سمیت دنیا کے پیشتر ممالک میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال ہوتا ہے اور تمام سیاسی جماعتیں ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرتی ہیں اس لیے پاکستان میں اس مشین کو متعارف کروایا جا رہا ہے۔ تاہم اپوزیشن کا کہنا یے کہ جس ملک میں بسنے والے زیادہ تر لوگ بینکوں کے باہر لگی ہوئی اے ٹی ایم مشین چلانے کا پتا نہیں ہے وہ کیسے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال کریں گے۔ اسکا اصرار ہے کہ دنیا کے متعدد ملکوں اور خاص طور پر یورپی ملکوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے بعد اسکو مسترد کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ابھی تک ووٹنگ مشین کے استعمال کی منظوری نہیں دی لیکن اسکے باوجود حکومت نے موجودہ بجٹ میں ان مشینوں کی خریداری کی مد میں کروڑوں روپے مختص کر دیے ہیں۔
دوسری جانب انتخابی اصلاحات کے بل اور آئندہ عام انتحابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے بارے میں الیکشن کمیشن نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنا ضروری ہے لیکن حکومت سادہ اکثریت سے اس بل کو پارلیمنٹ سے منظور کروا کر اس پر عمل درآمد کرنے پر بضد ہے۔الیکشن کمیشن کے حکام نے ای وی ایم کے استعمال کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے37 نکات تحریری شکل میں پارلیمانی امور کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتائے ہیں۔ان تحفظات میں سب سے بڑا نکتہ ہے کہ الیکٹرانک مشین قابل بھروسہ نہیں ہے اور اس کے استعمال سے دھاندلی کو نہیں رو کا جاسکتا اور اس مشین کو کسی وقت بھی ہیک کیا جاسکتا ہے۔
الیکشن کمیشن نے اپنے تحفظات میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ اس مشین کے سافٹ ویئر میں کسی وقت بھی تبدیلی لائی جا سکتی ہے اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ ہر مشین ایک ہی دن میں صحیح طریقے سے کام کرے گی۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک میں شرح خواندنگی کم ہونے اور ووٹروں میں اس مشین کے استعمال کے بارے میں میں آگہی نہ ہونے کی وجہ سے اس مشین کو انتخابات میں استعمال کرنا ٹھیک نہیں ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے اپنے تحفظات میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے سٹاف کو اس مشین کے استعمال کی تربیت دینے میں وقت بہت کم ہے اس کے علاوہ سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ اس مشین کے استعمال کے سلسلے میں سٹیک ہولڈز یعنی سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے موجود نہیں ہے اور ایسی صورت حال میں انتخابات میں غیر جانبدارانہ ہونے پر سوال اٹھیں گے۔اپنے تحفظات میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا معاملہ جلد بازی اور عجلت میں کیا گیا ہے جو کہ بین الاقوامی معیار کی نفی ہے۔
الیکشن کمیشن نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں اپنے تحفظات میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ یہ مشین ووٹروں کے کم ٹرن آؤٹ، ریاستی مشینری کے ناجائز استعمال، الیکشن میں دھاندلی، بددیانت پولنگ سٹاف کی تعیناتی اور انتخابی لڑائی جھگڑوں کو بھی نہیں روک سکتی۔الیکشن کمیشن نے اپنے تحفظات میں ان یورپی ملکوں کا بھی ذکر کیا ہے جہاں پر الیکٹرانک ووٹنگ کا استعمال اس مشین پر اٹھنے والے اعتراضات کی وجہ سے روک دیا گیا ہے۔ ان ملکوں میں جرمنی، ہالینڈ، اٹلی، فرانس اور آئرلینڈ شامل ہیں۔
