ٹک ٹاک امریکہ سمیت یورپ کیلئے بڑا خطرہ کیوں بن گئی؟

امریکہ نے حال ہی میں چینی موبائل ایپ ’’ٹک ٹاک‘‘ کو بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ کئی یورپی ممالک نے بھی ایسے ہی اقدامات اٹھائے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ٹک ٹاک کیسے اتنا بڑا خطرہ بن گئی ہے۔غیر ملکی میڈٰیا رپورٹس کے مطابق کئی مغربی ممالک میں حکام، سیاست دانوں اور سیکیورٹی اسٹاف پر ٹک ٹاک کو فون میں انسٹال کرنے پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ٹک ٹاک پر پہلا اعتراض یہ ہے کہ یہ ضرورت سے زیادہ’ ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے۔ اس پر کمپنی کا کہنا ہے کہ ایپ کا ڈیٹا اکٹھا کرنا قانون و ضوابط کے عین مطابق ہے۔ناقدین اکثر ٹک ٹاک پر بھاری مقدار میں ڈیٹا اکٹھا کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ اس الزام کے ثبوت کے طور پر آسٹریلیائی سائبر کمپنی انٹرنیٹ 2.0 کے محققین کے ذریعے جولائی 2022 میں شائع ہونے والی سائبر سیکیورٹی رپورٹ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔محققین نے ایپ کے ماخذ کوڈ کا مطالعہ کیا اور بتایا کہ یہ زیادہ سے زیادہ ڈیٹا اکٹھا کرتی ہے تاہم سٹیزن لیب کی طرف سے کیے گئے ٹیسٹ کا نتیجہ یہ نکلا کہ دیگر مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مقابلے میں ٹک ٹاک صارف کے رویے کو ٹریک کرنے کیلئے اسی قسم کا ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے۔ٹک ٹاک پر دوسرا الزام یہ ہے کہ چینی حکومت اس ایپ کو صارفین کی جاسوسی کے لیے استعمال کر سکتی ہے، کمپنی مکمل طور پر خود مختار ہے اور اس نے چینی حکومت کو صارف کا ڈیٹا فراہم نہیں کیا اور نہ ہی کرے گی۔ٹک ٹاک کے ساتھ ناقدین کا جو مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ یہ بیجنگ میں قائم ٹیک کمپنی بائٹ ڈانس کی ملکیت ہے جو اسے ایک غیر امریکی مین اسٹریم ایپ کے طور پر منفرد بناتی ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ اور یوٹیوب اور سبھی ایک جیسی مقدار میں ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں لیکن یہ سب امریکا کی قائم کردہ کمپنیاں ہیں۔ گو امریکی قانون سازوں نے باقی دنیا کے بیشتر حصوں کے ساتھ اعتماد کی سطح کو سنبھالا ہوا ہے کہ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے جمع کیے گئے ڈیٹا کو مذموم وجوہات کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جس سے قومی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے 2020 کے ایگزیکٹو آرڈر میں الزام لگایا گیا ہے کہ ٹِک ٹِک کا ڈیٹا اکٹھا کرنے سے چین کو ممکنہ طور پر وفاقی ملازمین اور ٹھیکیداروں کے مقامات کا پتا لگانے، اب تک شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ صرف ایک نظریاتی خطرہ ہے لیکن 2017 میں منظور ہونے والے چینی قانون کے ایک مبہم حصے کی وجہ سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ناقدین ٹک ٹاک کو ‘ٹروجن ہارس‘ (مصنوعی گھوڑے) سے تشبیہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بظاہر بے ضرر نظر آتا ہے لیکن تنازعہ کے وقت یہ ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر ثابت ہو سکتا ہے، ٹک ٹاک پر تیسرا بڑا الزام یہ ہے کہ اس ایپ کو ‘برین واشنگ’ ٹول کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ بھارت میں اس ایپ پر پہلے ہی پابندی عائد ہے جس نے 2020 میں اس ایپ اور درجنوں دیگر چینی پلیٹ فارمز کے خلاف کارروائی کی لیکن امریکی پابندی کا ٹک ٹاک پر بہت بڑا اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ عام طور پر امریکی اتحادی اکثر ایسے فیصلوں میں امریکا کی پیروی کرتے ہیں۔

Back to top button