کیا بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا نیا طوفان آنے والا ہے؟

ایک طرف ملکی معاشی حالات کے باعث حکومت بجلی کی قیمتوں کو بڑھانے میں مصروف ہے تو دوسری طرف اس کی پیدوار میں کمی سے بجلی کے مزید مہنگے ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے بھی نئی حکومت پر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کیلئے دبائو ہے۔عارف حبیب لمیٹڈ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فروری 2024 میں سات ہزار 130 گیگا واٹ بجلی پیدا ہوئی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں گذشتہ سال فروری میں سات ہزار 755 گیگا واٹ بجلی پیدا ہوئی تھی، جو آٹھ فیصد سے زائد کی کمی ہے۔ پاکستان کی معاشی اکائیوں پر نظر رکھنے والے سکیوریٹیز، بروکریج و تحقیقی ادارے عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق ملک میں بجلی کی پیداوار میں پچھلے سال کے مقابلے میں آٹھ فیصد سے زائد کمی آئی ہے۔عارف حبیب لمیٹڈ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ فروری 2024 میں سات ہزار 130 گیگا واٹ بجلی پیدا ہوئی جبکہ اس کے مقابلے میں گزشتہ سال فروری میں سات ہزار 755 گیگا واٹ بجلی پیدا ہوئی تھی، جو آٹھ فیصد سے زائد کی کمی ہے۔سب سے زیادہ کمی پانی یا ہایئڈل سے پیدا کردہ بجلی میں ہوئی ہے۔ جو گزشتہ سال فروری میں دو ہزار 52 گیگا واٹس سے کم ہو کر اب فروری 2024 میں 1766 گیگا واٹ ہوگئی ہے، جو تقریباً 14 فیصد کمی ہے۔اسی طرح برآمد شدہ کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس سے پیدا کردہ بجلی میں گذشتہ سال کے مقابلے میں سب سے زیادہ یعنی 60 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔گزشتہ سال درآمد شدہ کوئلے کے استعمال سے 342 میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی تھی جب اب رواں سال کم ہو کر فروری میں 135 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔نیوکلیئر پلانٹ سے گذشتہ سال فروری میں 1883 میگا واٹ کی بجلی کے مقابلے میں فروری 2024 میں 1660 میگا واٹ بجلی پیدا ہوئی ہے جو تقریباً 11 فیصد کمی ہے۔مقامی کوئلے سے گزشتہ سال فروری کے 749 میگا واٹ کے مقابلے میں فروری 2024 میں 994 میگا واٹ بجلی پیدا کی گئی ہے۔قیمتوں کے حوالے سے اگر عارف حبیب لیمیٹڈ کے اعدادو شمار دیکھے جائیں، تو گزشتہ کے مقابلے میں درآمد شدہ فیول سے بننے والی بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 10 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے اور فروری 2023 میں فی یونٹ 24.73 روپے سے بڑھ کر فروری 2024 میں 27.20 روپے فی یونٹ تک بڑھ گئی ہے۔ اسی طرح دیگر ذرائع سے بھی پیدا کردہ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ سال کے مقابلے اوسط اضافہ آٹھ فیصد تک، یعنی فی یونٹ میں تقریبا آٹھ روپے کا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، نگران حکومت کے حوالے سے سنی کمار سے جب پوچھا گیا کہ بجلی کی پیداوار میں یہ کمی پہلی بار دیکھی گئی ہے، تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بجلی کی پیداوار موسم کے حساب سے تبدیل ہوتی رہتی ہے کیونکہ گرمیوں میں بجلی کی طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے تو گرمی کی رسد اور پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے تاکہ طلب کو پورا کیا جا سکے۔
