ٹک ٹاک سٹار صندل خٹک کو عدالت نے طلب کر لیا

ٹک ٹاک سٹارز اور اینکر مبشر لقمان کے مابین جاری جنگ میں تیزی آ گئی ہے، لاہور کی مقامی عدالت نے مبشر لقمان کی درخواست پر ٹک ٹاک سٹار صندل خٹک کو 24 فروری 2020 کے روز طلب کر لیا ہے ۔
اس سے پہلے مبشر لقمان کی شکایت کے بعد متنازع ویڈیوز سے شہرت حاصل کرنے والی ماڈل صندل خٹک نے لاہور کی سیشن کورٹ میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ صندل خٹک نے سیشن کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں الزام عائد کیا تھا کہ ایف آئی اے انہیں ہراساں کر رہا ہے اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ایسا کرنے سے روکا جائے۔ ماڈل کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی اے نے انہیں 28 اکتوبر اور 5 نومبر 2019 کو نوٹسز جاری کرکے تفتیش کے لیے پیش ہونے کا کہا. انہیں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان کے خلاف کس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں۔ دائر کی گئی درخواست میں صندل خٹک نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ایف آئی اے کو ان کے خلاف جاری تحقیقات سے متعلق تمام دستاویزات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے. اپنی درخواست میں انہوں نے کہا کہ انہیں کسی طرح کی کوئی معلومات نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کے حوالے سے انہیں کچھ بتایا گیا۔ انہوں نے درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ کبھی بھی کسی طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہیں اور وہ ملک کی معصوم شہری ہیں. اپنی درخواست میں انھوں نے ایف آئی اے پر”ہراساں“کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالت سے درخواست کی تھی کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ہراساں کرنے سے روکا جائے.عدالت نے ماڈل کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دستاویزات سمیت طلب کیا تھا۔
ایف آئی اے کی انکوائری کے خلاف عدالت میں درخواست پر سماعت کے دوران صندل خٹک عدالت میں پیش نہ ہوئیں، عدالت نے صندل خٹک کے وکلاء کو 24 فروری کو بحث کے لیے طلب کر لیا ہے۔
اس سے قبل ایف آئی اے نے حریم شاہ اور صندل خٹک کیخلاف سیشن عدالت میں جواب جمع کروایا تھا۔ انسپکٹر منعم بشیر چوہدری نے حریم شاہ اور صندل خٹک پر لگے الزامات سے متعلق جواب جمع کرایا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ صندل خٹک اور حریم شاہ کیخلاف مبشر لقمان نے ایف آئی اے پنجاب کو درخواست دی۔ مبشر لقمان نے موقف اختیار کیا کہ صندل خٹک اور حریم شاہ نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپ لوڈ کیں۔ درخواست میں الزام لگایا گیا کہ دونوں خواتین نے من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگائے۔ ایف آئی اے نے انھیں کبھی ہراساں نہیں کیا بلکہ صرف شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے کیلئے انھیں ایف آئی اے حکام کے سامنے بیان ریکارڈ کرنے کیلئے طلب کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button