اگر محبت ہو تو شادی کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں

’کم عمری‘ میں شادی کرنیوالے پاکستانی جوڑے اسد اور نمرہ نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا رکھی ہے۔ جہاں بہت سارے لوگ ان دونوں پر تنقید کر رہے ہیں اور ان کا مذاق اڑا رہے ہیں وہاں زیادہ تر لوگوں کی تعداد ایسی ہے جو 18 برس کی عمر میں گھر بسانے والے اس جوڑے کی ہمت افزائی کرتے ہوئے مبارک باد دے رہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر محبت ہو تو شادی کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔
کم عمر جوڑے کی شادی کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعدصارفین میں جو بحث شروع ہوئی وہ شادی کی صحیح عمر کے حوالے سے تھی۔ ٹوئٹر صارفین اس موضوع پر تقسیم دکھائی دیے کہ آخر شادی کرنے کی صحیح عمر ہے کیا؟ ایک صارف نے کہا کہ اگر کوئی بھی شخص صاحب اسطاعت ہے تو کم عمر میں شادی کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔البتہ ایک صارف کے لیے صاحب اسطاعت ہونا یا اس جوڑے سے متعلق کوئی بھی ایسی چیز نہیں جس کو متنازعہ بنایا جائے۔
اس نو بیاہتہ جوڑے کی عمر سے متعلق بحث نے سوشل۔میڈیا صارفین کو اس تجسس میں بھی مبتلا کردیا کہ آخر پاکستان میں کم عمر کی شادی سے متعلق قانون کیا کہتا ہے؟
یاد رہے کہ پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے گزشتہ سال کم عمری کی شادی سے متعلق ایک بل منظور کیا تھا جس کے مطابق لڑکی کی شادی کی عمر 16 سال سے بڑھا کر 18 سال کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ البتہ قومی اسمبلی میں پیش ہونے پر اس بل کو مذہبی جماعتوں سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد اس بل کو قائمہ کمیٹی میں بھجوا دیا گیا اور تاحال اس بل پر کوئی پیش رفت نہیں ہوپائی ہے۔
مریم نامی ایک صارف نے کم عمر جوڑے پر ہونے والی تنقید کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا فرق پڑتا ہے اگر لڑکے کی عمر لڑکی سے کم ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ مریم نے اپنی ٹویٹ کے ذریعے صارفین کو ایک مفت مشورہ بھی دے ڈالا جس میں نو بیاہتہ جوڑے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘جیو اور جینے دو، سکون سے اور خوش رہنے دو۔
جوڑے کی تصاویر پر جہاں کم عمری کی شادی سے متعلق بحث جاری رہی وہیں متعدد صارفین نے اپنی شادی نہ ہونے کے دکھ کا بھی اظہار کیا ہے۔
عبداللہ نامی ایک صارف نے کہا کہ ‘کنوارے ہی مریں گے ہم۔’ انھوں نے اسد اور نمرہ کو شادی کی مبارکباد تو دی مگر ساتھ ہی اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اُن کے والدین بھی اس سے سبق حاصل کریں اور اُن کی جلد شادی کردیں۔ ایک اور صارف نے بھی ملتے جلتے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے والدین کو اس جوڑے کی تصاویر متعدد بار دکھائیں صرف اس امید سے کہ شاید انھیں بھی اس سے کوئی اشارہ مل جائے۔
اسی طرح کم عمری میں شادی کرنے والے جوڑے کی شادی کے حوالے سے دونوں کی آئندہ تعلیم کا موضوع بھی سوشل میڈیا صارفین کی بحث کا موضوع بنا ، جس میں کئی صارفین نے کہا کہ اس عمر میں شادی ہونے سے بچوں کی تعلیم پر منفی اثرات پڑیں گے۔تاہم بعض صارفین نے دونوں کیلئے مستقبل میں بہتر تعلیم اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ایک ٹوئٹر صارف نے مزاحیہ انداز میں پوسٹ کیا کہ جس عمر میں اسد اور نمرہ کی شادی ہوئی ہے اُس عمر میں تو وہ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کس شعبے کا انتخاب کریں۔
تاہم اس کے رد عمل میں دولہے کی بہن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر جوڑے کی تصاویر شئیر کرتے ہوئے کہا کہ میرے بھائی اور بھابھی شادی کے بعد بہت خوش ہیں اور وہ اپنی تعلیم بھی جاری رکھیں گے۔ زرپاش خان کی اپنے بھائی اور بھابھی کے مستقبل میں تعلیم سے متعلق بات نے دیگر صارفین کو مثبت طور پر متاثر کیا۔
ایک صارف نے ان کا تعلیم جاری رکھنے کے فیصلے کو اپنی ٹویٹ میں شامل کیا اور ساتھ ہی ساتھ اس جوڑے کو ازدواجی زندگی کی شروعات کرنے پر مبارکباد بھی دی۔ تاہم زیادہ تر نوجوانوں نے اس کم عمر جوڑے کی شادی کو اپنے لئے ایک سبق قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر محبت ہو تو شادی کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button