پرویز الہٰی کی وزیر اعظم عمران خان سے دوریوں کی وجہ سامنے آ گئی

سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہٰی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا دھرنا ختم کرانا ہمارے کریڈٹ کے بجائے ڈس کریڈٹ میں چلا گیا، عمران خان نے جب بیان دیا کہ پہلی اسمبلی ہے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے تو وہ دھرنے کے دوران مولانا سے مذاکرات چھوڑ کر واپس آ گئے تھے.
اپنے حالیہ انٹرویو میں چودھری پرویز الہی نے کہا کہ انہوں نے دھرنا ختم کرانے کیلئے نیک نیتی سے کوشش کی۔یہ پہلا دھرنا تھا جس میں کوئی نقصان ہوا،یہ دھرنا ختم کرنے کی کوشش ہم نے خود نہیں کی بلکہ ہمیں عمران خان نے کمیٹی میں شامل کیا تھا۔ پرویز الہیٰ نے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے مولانا فضل الرحمن کا دھرنا ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کیا لیکن ہمیں کریڈٹ دینے کی بجائے الٹا اس میں کیڑے نکالے گئے۔ ہم پر شک کیا گیا ہے کہ ہم نے ہی پیسے دے کر دھرنا لیٹ کروایا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی کے وزراء نے بھی بہت باتیں کیں جس کا مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔
پرویز الہیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ہم خود مولانا الرحمان کے پاس نہیں گئے تھے بلکہ حکومت نے ہمیں بھیجا تھا۔مجھے افسوس ہے کہ ہم پر شک کیا گیا جس کا ہمیں کریڈٹ ملنا چاہئیے تھے وہ ڈس کریڈٹ میں چلا گیا۔پرویز الہیٰ نے مزید کہا کہ میں ایک دفعہ مذاکرات چھوڑ کر ہی واپس آ گیا تھا جب عمران خان نے بیان دیا تھا کہ پہلی اسمبلی ہے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے۔اس کامطلب ہے کہ حکومت مذاکرات کے معاملے میں نان سیریس ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ق کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر پرویز الہیٰ کے درمیان کشیدگی پہلے کی طرح موجود ہے۔ دونوں کے درمیان ایک ملاقات کرانے کی کوششیں بھی بے سود ثابت ہوئی ہیں۔کافی عرصے سے وہ ملے ہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں ان کے ملنے کا کوئی پلان ہے۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ ق نے حکومت کی جانب سے بنائی گئی نئی مذکراتی کمیٹی کا بائیکاٹ کر رکھا ہے اور حکومت کو واضح کیا ہے کہ جب تک ان سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے جاتے معاملات آگے نہیں بڑھیں گے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button