ٹک ٹاک پر پابندی آئین کیخلاف قرار

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹک ٹاک پر پابندی کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف درخواست پر سماعت
کے دوران پی ٹی اے حکام سے استفسار کیا کہ یہ پلیٹ فارم ہزاروں لوگوں کی کمائی کا ذریعہ ہے، پی ٹی اے اس طرح ٹیلنٹ کو بھی بند کر رہا ہے۔

عدالت کے مدنظر وہ لوگ ہیں جو غریب ہیں اور اس سے کمائی کر رہے ہیں ، قابل اعتراض مواد تو ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر موجود ہوتا ہے پھر سب بند کر دیں ، ہیٹ اسپیچ صرف ایک ٹک ٹاک پر تو نہیں ہوتی ، ہیٹ اسپیچ ہوتی ہے پورنا گرافی بھی ہوتی ہے لیکن اس کو پروفیشنل انداز میں ہینڈل کرنا چاہئے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ بھارت کے علاوہ کہاں پر پابندی ہے ؟آپ کو یہی نہیں پتہ کہ ملک میں سوشل میڈیا کے ایکسپرٹس کون ہیں ، یہ ایڈوانس ٹیکنالوجی کے چیلنجز ہیں کیا اس طرح ان کا سامنا کرنا ہے؟ کیا باقی دنیا سے ہمیں کٹ کر رہنا ہے ؟ اس سے زیادہ حیران کن کیا ہو سکتا ہے کہ پی ٹی اے کو پتہ ہی نہیں ایکسپرٹس کون ہے ۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ ٹک ٹاک پر صرف ایک فیصد مواد قابل اعتراض ہوتا ہے ، متوسط طبقہ اپنے ٹیلنٹ کو اُجاگر کر کے اس پلیٹ فارم سے کمائی کر رہا ہے ، پی ٹی اے نے رپورٹ فائل کی لیکن عدالت نے جو ہدایت کی تھی اس کا جواب موجود نہیں، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کریں گے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پوچھا کہ پلیٹ فارم کو بلاک کرتے ہوئے کیا کسی ایکسپرٹس سے رائے لی گئی ؟ وفاقی حکومت اور پی ٹی اے سوشل میڈیا ایکسپرٹس کے نام عدالت میں جمع کروائے گئے ۔ بادی النظر میں پلیٹ فارم کو بلاک کرنا آئین میں دئیے گئے حقوق کی خلاف ورزی ہے،کیس کی مزید سماعت 22 نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

Back to top button