پارلیمانی و قومی سلامتی کمیٹی بریفنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ
پی ڈی ایم نے پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کی ’اِن کیمرہ‘ بریفنگ کے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، پی ڈی ایم کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ 6 دسمبر کو حکومتی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی میں بریفنگ ہوگی ۔
حزب اختلاف کی جماعتوں نے قومی سلامتی، اہم قومی معاملات پر بلائی جانے والی بریفنگز اور اجلاسوں میں نہ صرف بھرپور شرکت کی بلکہ متحدہ اپوزیشن کے قائدین اور پارلیمانی لیڈرز نے اپنی تجاویز بھی پیش کی تھیں۔
ڈاکٹر معید یوسف ’اِن کیمرہ‘ اجلاس کو بریفنگ دیں گے ، پی ڈی ایم کے مطابق حزبِ اختلاف میں شامل جماعتوں نے ہمیشہ ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
حزب اختلاف سمجھتی ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم مقبوضہ جموں وکشمیر سمیت اہم ترین قومی معاملات پر بلائے جانے والے اجلاسوں میں شریک نہیں ہوئے کیونکہ وہ مشاورت کی جمہوری روح، فیصلہ سازی میں مختلف آرا کی اہمیت اور مخالف نکتہ ہائے نظر کی افادیت سے نہ صرف نابلد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اداکارہ مشعل خان موت کے منہ سے کیسے واپس آئیں؟
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے مسلسل آمرانہ وفسطائی طرز عمل‘ کی بنا پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس ’اِن کیمرہ‘ بریفنگ کا بائیکاٹ کیاجائے ، اپوزیشن کے مطابق پارلیمان میں اہم داخلی وخارجی، قومی اور عوامی امور کو لایا ہی نہیں جارہا اورایوان میں ان پر بحث نہیں کرائی جاتی جو آئین، پارلیمانی تقاضوں اور جمہوری ضابطوں کے حوالے سے ایک لازمی ہے۔
