کیا اسٹیبلشمنٹ موجودہ سیٹ اپ کو لپیٹنے والی ہے؟

تین برس تک آنکھیں بند کر کے کپتان حکومت کی حمایت کرنے والے سینئر اینکر پرسن اور صحافی کامران خان اب کچھ عرصے سے مسلسل وزیراعظم عمران خان کی ناکام اور نا اہل حکومت پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید اسٹیبلشمنٹ اب موجودہ سیٹ اپ کو لپیٹنے والی ہے۔
یاد رہے کہ کامران خان کا شمار ان پاکستانی صحافیوں میں ہوتا ہے جنہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا نبض شناس سمجھا جاتا ہے۔ کامران کے دل میں حالیہ دنوں پاکستان کی تباہی اور عوام کی بربادی کا درد اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ اب وہ قومی معاملات پر تشویش کا اظہار خصوصی ویڈیوز کے ذریعے کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک تازہ ویڈیو میں کامران نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے امریکہ مخالف جذباتی بیانات کی قیمت اس وقت پوری پاکستانی قوم چکا رہی ہے۔ وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کامران خان نے کہا کہ ‘میں عمران خان سے مخاطب ہوں، آپ کی حکومت کے پہلے سال میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے 3، 3 ارب کے ڈیپازٹ آئے۔ آئی ایم کے قرضوں نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، اس کی وجوہات بھی سمجھ میں آگئیں، مگر آپ کی حکومت کے چوتھے سال میں بھی سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کی بھیک مانگنا پڑ گئی اور ہمیں آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے آگے بھی دوبارہ گھٹنے ٹیکنے ہڑ گے۔ حالانکہ آپ تو بھیک کے اس کشکول کو توڑنے آئے تھے۔ یاد رہے کہ کردار میں آنے سے پہلے وزیراعظم عمران خان آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی پالیسی کے سخت ناقد تھے اور انہوں نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں بار بار یہ اعلان کیا تھا کہ وہ اقتدسر میں آ کر آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بجائے خود کشی کرنے کو ترجیح دیں گے۔ تاہم پچھلے تین برس سے ان کی حکومت بار بار آئی ایم ایف سے قرضہ لیتی ہے اور اس کا بوجھ عوام پر ٹیکسوں کی صورت میں منتقل کر دیتی ہے۔
اہنے ویڈیو پیغام میں کامران خان نے عمران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں بے حد پریشان ہوں، میں آج ان وجوہات کی نشاندہی کروں گا جو ہماری معاشی و بین الاقوامی بد حالی کا باعث بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی ٹیم بہت ہی نالائق اور نااہل افراد پر مشتمل ہے۔ اسکے علاوہ ہماری خارجہ پالیسی بہت سے مسائل کی جڑ ہے، آج مغربی دنیا نے پاکستان کو رسمی تعلقات اور افغانستان کے ہمسائے کی حد تک محدود کر دیا ہے۔ یورپی ممالک کی پاکستان میں دلچسپی انتہائی مدھم پڑ چکی ہے، امریکہ سے آپ کے تعلقات زمیں بوس ہو چکے ہیں۔ ایک سال میں بائیڈن انتظامیہ سے ہماری ملاقاتیں انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں۔’ کامران نے کہا کہ ‘خان صاحب، آپ برا نہ مانیے گا، لیکن ماضی قریب میں امریکہ کے حوالے سے آپ کے غصیلے بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ نازک سفارتی و سیکیورٹی معاملات پر میڈیا انٹرویوز میں امریکہ کو لتاڑنے کی وجہ سے بائیڈن انتظامیہ پاکستان سے مذید ناراض ہوگئی جس کی قیمت اس وقت پوری پاکستانی قوم ہوش ربا مہنگائی اور بربادی کی صورت میں چکا رہی ہے۔ آئی ایم پروگرام کی بحالی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘آئی ایم ایف سے مذاکرات میں سخت ترین شرائط سامنے آئیں اور ہماری مذاکراتی ٹیم کی ایڑھیاں رگڑوا دی گئیں۔ اس سے پہلے 99 فیصد شرائط پوری کرنے کے باوجود ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے سے انکار کر دیا۔’
کامران خان نے کہا کہ ‘اقوام متحدہ ہو یا معتبر انٹرنیشنل میڈیا، یہ سب پاکستان سے کھچے کھچے نظر آتے ہیں، یقیناً سب قصور پاکستان کا نہیں، امریکہ نے بھی زیادتیاں کی ہیں مگر سوچنا یہ ہے کہ ہمیں خاموش سفارتکاری سے مفادات کے حصول کی کاوش کرنے چاہیئے یا بذریعہ میڈیا امریکہ سے پنجہ آزمائی کرنی چاہیے جیسا کہ یم نے اب تک کیا ہے اور جسکے منفی نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں؟’
کامران خان نے کہا کہ ‘اس پس منظر کے باوجود حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ امریکہ پاکستان کے خلاف نبرد آزما نہیں، اور عالمی نظام کے تحت امریکہ نے ڈھائی کروڑ ویکسین پاکستان کو مفت فراہم کی۔ آج بھی پاکستان کی ایکسپورٹس کا سب سے بڑا مرکز چائنہ نہیں بلکہ امریکہ ہے۔ یو ایس ایڈ سندھ میں 77 ہائی سکولز تعمیر کر چکی ہے، ہر سال ہمارے سینکڑوں بچے بچیاں امریکی یونیورسٹی میں سکالرشپ پر اعلی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ لہذا بہتر ہوگا کہ خارجہ معاملات پر گفتگو کرنے سے پہلے ہم تولیں اور پھر بولنے کی پالیسی اپنائیں۔’
یہ بھی پڑھیں:فارن فنڈنگ کیس میں PTI پر پابندی کی مزاحمت کروں گا
اپنے ویڈیو پیغام کے آخر میں کامران خان نے ایک مرتبہ پھر وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘خان صاحب، آپکی الیکشن 2023 میں جیتنے کی امید تب پوری ہوگی جب معیشیت میں بہتری اور مہنگائی میں کمی آئے گی۔ میرے نزدیک یہ تب ہوگا جب پاکستان کی عالمی حیثیت بہتر ہو گی اور آپکا امریکہ اور دیگر مغربی دنیا سے موجودہ تناو ختم ہو گا۔’
