فیصل واوڈا نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کرنے کا عندیہ
الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی سینیٹر فیصل واوڈا سمیت تمام فریقین کو آخری موقع دیتے ہوئے کیس کے حوالے سے دلائل دینے کی ہدایت کر دی ہے ۔
تین رکنی بینچ نے چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں فیصل واوڈا نااہلی کیس کی سماعت کی ، اس موقع پر جس میں چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ فیصل واڈا دوہری شہریت کے حامل تھے اگر شہریت چھوڑی ہے تو سرٹیفکیٹ پیش کریں، ہمیں مقدمات نمٹا کر آئندہ انتخابات کی تیاری کرنی ہے۔
الیکشن کمیشن کے فیصل واوڈا کی عدم پیشی پر رکنِ سندھ نے معاون وکیل کے پاس کیس کی فائل نہ ہونے پر سرزنش کی ۔
چیف الیکشن کمشنر نے فیصل واڈا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تحریری دلائل جمع کروا دیں ورنہ فیصلہ محفوظ کرلیتے ہیں دوسرا آپشن یہ ہے کہ خود دلائل دے دیں توفیصلہ کرلیں گے۔فیصل واڈا نے پیدائشی طور پر دوہری شہریت رکھنے کا مؤقف اپنایا تو چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سوال یہی ہے کہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے وقت آپ کے پاس دوہری شہریت تھی یا نہیں۔
فیصل واڈا نے کہا کہ کسی بھی ملک کی کاغذی کارروائی کا علم نہیں، پاسپورٹ سرنڈر کردیا تھا ،شہریت چھوڑنے کے سرٹیفکیٹ کا اب علم ہوا ہے اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر 7 سرٹیفکیٹس چل رہے ہیں، کس کو درست مانوں؟معلوم نہیں درخواست گزار کہاں سےسرٹیفکیٹ لے کر آگئے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ایک ہفتے کے مکمل لاک ڈاؤن کا امکان
تحریک انصاف کے ایم این اے فیصل واڈا نے کیس خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے جواب کے لیے مزید مہلت طلب کی جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہائی کورٹ نے دو ماہ میں کیس کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا، ہمیں مقدمات نمٹا کر آئندہ انتخابات کی تیاری کرنی ہے۔
