پارلیمنٹ میں حکومتی غنڈہ گردی کی نئی تاریخ رقم

اپنے تین سالہ دور حکومت میں انوکھے ریکارڈ قائم کرنے والی کپتان حکومت نے اب پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومتی جماعت ہونے کے باوجود قومی اسمبلی میں غنڈہ گردی کرنے اور بار بار اجلاس معطل کروانے کا منفرد اعزاز بھی اپنے نام کرلیا ہے۔ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ حکومتی اراکین اسمبلی کو ایوان میں ہنگامہ آرائی کرنے اور اپوزیشن رہنماؤں کو حملوں کا نشانہ بنانے کے احکامات براہ راست وزیراعظم عمران خان نے جاری کیے۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران منگل کو حکومتی اراکین کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تقریر روکنے کی کوشش میں ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی جس کے بعد حکومتی اور اپوزیشن ارکان ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہو گئے۔ دونوں جانب سے اسمبلی ارکان نے ایک دوسرے پر بجٹ کی بھاری کاپیوں سے حملے کیے اور جھگڑتے ہوئے ایک دوسرے کو گالیاں بھی دیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں ارکان قومی اسمبلی کو ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس پارلیمانی مار کٹائی کی ویڈیوز میں حکومتی اراکین اپوزیشن والوں پر بھاری پڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس دوران حکومتی و اپوزیشن ارکان ایک دوسرے کو گندی گالیاں دینے کے علاوہ چور اور دیگر القابات سے بھی نوازتے رہے۔
اس حوالے سے تحریک انصاف کے اسلام آباد سے رکن اسمبلی اور وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان کی ایک ویڈیو سب سے زیادہ وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ مسلم لیگ (ن) کے شیخ روحیل اصغر کے بارے میں نازیبا کلمات ادا کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں وہ گالیاں دینے کے ساتھ ساتھ ان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور دیگر ارکان اسمبلی انہیں روک رہے ہیں۔ ویڈیو کے آخر میں علی نواز اعوان نے بجٹ کی کتاب بھی اپوزیشن ارکان پر دے ماری۔کئی ارکانِ اسمبلی سیٹیاں اور باجے لے کر ایوان میں پہنچے۔ اس ہنگامے کے دوران سکیورٹی اہل کار بھی اراکین کو روکنے میں ناکام رہے۔ بجٹ اجلاس میں ہنگامہ آرائی اس قدر زیادہ تھی کہ قومی اسمبلی کی سیکیورٹی کے لیے سینیٹ سیکرٹریٹ سے مدد طلب کرنا پڑی۔ ایوان میں ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے لیے اضافی سارجنٹ ایٹ آرمز کی خدمات قومی اسمبلی کے سپرد کر دی گئی ہیں۔منگل کو ہونے والے اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومتی ارکان نے ایک دوسرے پر بجٹ کی کاپیاں پھینکیں۔ اس دوران کاپیوں کے بنڈل لگنے سے ایک سارجنٹ اور تحریک انصاف کی رکن ملیکہ بخاری معمولی زخمی بھی ہو گئیں۔
اس بارے میں سوشل میڈیا پر حکومت کے حامی اور مخالفین کے درمیان بھی جنگ دیکھنے میں آئی اور دونوں طرف کے افراد ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر رکنِ اسمبلی علی گوہر بلوچ کی ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ لڑائی کا آغاز علی گوہر کے نعروں سے شروع ہوا تھا اور (ن) لیگ کے ایم این ایز نے تمام پارلیمانی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گالیاں دیں، جس پر پی ٹی آئی کے نوجوان ارکان جذباتی ہو گئے اور پھر بجٹ کی کتابیں پھینکنے کا سلسلہ شروع ہوا۔اس تمام ہنگامہ آرائی سے حزبِ اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے ارکان لاتعلق رہے۔ وائرل ہونے والی ویڈیوز میں سے ایک ویڈیو میں وزیرِ انسانی حقوق شیریں مزاری بھی نظر آرہی ہیں جو موبائل کیمرے میں بار بار چور چور کی آوازیں بلند کر رہی ہیں۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اس ہنگامہ آرائی پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ “آج پارلیمنٹ میں حکومتی ارکان کی جانب سے جو ہلڑ بازی کی گئی، جس طرح کی زبان استعمال کی گئی وہ ناصرف پی ٹی آئی جیسے گروہ کا وطیرہ ہے بلکہ ذہنی طور پر ان کی شکست کا اعتراف ہے۔”انہوں نے عربی کی ایک کہاوت بھی نقل کی جس میں کہا گیا کہ انسان جب مایوس ہو جائے تو زبان دراز ہو جاتی ہے۔ اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اسمبلی میں قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی کی ہدایات وزیراعظم عمران خان نے ذاتی طور پر دیں جس کے نتیجے میں پاکستانی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسے افسوسناک مناظر دیکھنے میں آئے جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گے۔
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اجلاس میں ہنگامہ آرائی اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے سات اراکین پر ایوان میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔ اسد قیصر نے ایوان میں ہنگامہ آرائی اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے اراکین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے، ان کے اسمبلی کی حدود میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اراکین قومی اسمبلی پر یہ پابندی اگلے احکامات تک جاری رہے گی۔ سیکریٹریٹ نے کہا کہ اسپیکر نے اراکین کے خلاف یہ کارروائی قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے تحت کی ہے۔جن اراکین پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں علی نواز اعوان، عبدالمجید خان، فہیم خان، شیخ روحیل اصغر، علی گوہر خان، چوہدری حامد حمید اور آغا رفیع اللہ شامل ہیں۔تاہم اسمبلی میں سب سے زیادہ غنڈہ گردی کرنے والے وزراء مراد سعید اور علی امین گنڈا پور کو بخش دیا گیا جس پر اپوزیشن نے ردعمل کے طور پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیرِ مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ شاہد خاقان عباسی کے کہنے پر ن لیگ اراکین اسمبلی گالم گلوچ پر اتر آئے اس کے بعد لڑائی شروع کروائی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رکن فہیم خان کو مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی جانب سے زخمی کیا گیا۔ ملیکہ بخاری کی آنکھ پر بجٹ بک ماری گئی جس سے ان کی آنکھ زخمی ہو گئی۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ کو خواتین اراکین اسمبلی کی عزت اور آبرو کا کوئی احساس نہیں۔ دراصل ایوان میں یہ ہنگامہ آرائی پیر کو بجٹ اجلاس کے دوران ہی شروع ہو گئی تھی لیکن منگل کے روز اس میں اُس وقت زیادہ شدت دیکھی گئی جب قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف تقریر کر رہے تھے۔حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر اور نعرے بازی کر کے انہیں تقریر سے روکنا شروع کیا۔ اس دوران مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی نے ان کا گھیراؤ کر کے ان کا دفاع کیا۔ لیکن ہنگامہ آرائی میں اچانک بجٹ کی کاپیوں کا ایک بنڈل ان کے سامنے موجود ڈائس پر آگرا، شہباز شریف اس بنڈل سے محفوظ رہے۔اپوزیشن کے خلاف وفاقی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری بھی نعرے بازی کرنے والوں میں شریک تھے اور اپنے اراکین کو مذید ہنگامہ آرائی پر اکسا رہے تھے۔
اس معاملے پر وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ ہم اپوزیشن کو اس طرح کے رویے کی بالکل اجازت نہیں دیں گے۔ ہمارا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ اگر اپوزیشن کو ایوان میں بات کرنی ہے تو اسے حکومت کی بات بھی سننی پڑے گی، وہ پہلے وزیر اعظم اور وزرا کا نکتہ سنیں پھر اپنی بات کریں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ جو کرے گی وہی جمہوری اور پارلیمانی رویہ ہے اور حکومت جو کرے گی وہ غیر جمہوری ہے، لیکن اگر اب آپ ہمیں بات کرنے دیں گے تو خود بھی بات کر سکیں گے۔
یاد رہے کہ منگل کو ہونے والے اجلاس سے قبل اسپیکر کی طرف سے قائم کی گئی اخلاقیات کمیٹی نے اجلاس کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ بھی تجویز کیا تھا، لیکن اس پر کوئی عمل درآمد نہ ہوسکا۔اس کوڈ آف کنڈکٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے کوئی ممبر اخلاق باختہ، ناشائستہ اور غیر پارلیمانی زبان و بیان اور اقدام سے مکمل پرہیز کرے گا، خلاف ورزی کی صورت میں اسپیکر ایسے ممبر کے خلاف اقدام کریں جو سب کو قبول ہوگا۔
کوڈ آف کنڈکٹ میں کہا گیا ہے کہ ہاؤس کے اندر ممبرز کی پرائیویسی کا احترام کرتے ہوئے ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں ہو گی اور نہ ہی پلے کارڈ اٹھا کر مخالف جماعت کے ارکان کی نشستوں کی جانب جانے کی اجازت ہوگی۔ کوڈ آف کنڈکٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسپیکر کے ڈائس پر کھڑے ہو کر نعرے بازی، گفتگو اور احتجاج کی اجازت نہیں ہو گی۔ تمام ارکان اپنی نشستوں پر احتجاج کریں گے اور تمام ممبران صرف اسپیکر کو مخاطب کرکے بولیں گے۔ تاہم قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہیں حکومتی اراکین نے خود ہی اس مجوزہ کوڈ آف کنڈکٹ کی دھجیاں بکھیر دیں۔
