پاکستان، بھارت کو بھی پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پاکستان، بھارت کو بھی پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اقوام متحدہ نے قلتِ آب سے متعلق ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت ان متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل ہیں جہاں مجموعی طور پر 2 ارب 30 کروڑ افراد پانی کے حصول میں دباؤ کا شکار ہیں۔

عالمی سطح پر ہر دو منٹ میں 5 سال سے کم عمر کا بچہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماری سے مر جاتا ہے، ذیلی صحارائی افریقہ (سب صحارن افریقہ) میں عورتیں اور لڑکیاں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 40 ارب گھنٹے پانی جمع کرنے میں صرف کرتے ہیں، ہر 4 میں سے ایک بیت الخلا تک رسائی سے محروم ہے جو مجموعی صحت اور صفائی کے لیے ایک اہم عنصر ہے۔

’موسمیاتی خدمات کی ریاست 2021: پانی‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ پانی تک ناکافی رسائی والے لوگوں کی تعداد 2018 میں 3 ارب 60 کروڑ سے 2050 تک بڑھ کر 5 ارب تک پہنچ جائے گی۔

اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کے سیکریٹری جنرل پیٹیری تالاس نے کہا کہ ہمیں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کے لیے سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔

رپورٹ میں بھارت اور پاکستان دونوں کو 17 ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا جہاں پانی کی قلت انتہائی زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق آب و ہوا کی تبدیلی کچھ علاقوں میں انتہائی بارش کا باعث بھی بن رہی ہے جہاں ان کے پاس بعد میں استعمال کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے اور بھارت اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہیں جنہیں غیر متوقع بارشوں کی وجہ سے 21-2020 میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب نے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیائی علاقوں کو خاص طور پر 2020 میں بری طرح متاثر کیا، پاکستان کے حالات بھی اتنے ہی خراب تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پورے برصغیر میں انتہائی بارش سے نیپال، پاکستان اور بھارت میں بڑے پیمانے تباہی ہوئی ہے، لاکھوں بے گھر ہوئے اور سینکڑوں ہلاک ہوئے ہیں۔

تیل سے مالا مال ریاست قطر دنیا کا سب سے زیادہ پانی سے محروم ملک ہے جس کے بعد لبنان، اسرائیل، ایران، اردن، لیبیا، کویت، سعودی عرب، اریٹیریا، متحدہ عرب امارات، سان مارینو اور بحرین ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارت اور پاکستان بالترتیب 13 ویں اور 14 ویں نمبر پر آتا ہے جبکہ دونوں ممالک کے بعد عمان، ترکمانستان اور بوٹسوانا کا نام شامل ہے۔

Back to top button