پاکستانی طالبان کا قبائلی علاقے آزاد کروانے کا اعلان


افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے دوران طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی اور فتوحات سے حوصلہ پکڑتے ہوئے پاکستانی طالبان بھی کھل کر میدان میں آ گئے ہیں اور تحریکِ طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی کے امیر مفتی نور ولی محسود نے اعلان کیا ہے کہ اُنکی جنگ صرف پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے خلاف ہے جسکا مقصد قبائلی علاقوں کو آزاد کروانا ہے۔ ٹی ٹی پی سربراہ نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ پاکستانی طالبان جنگجو افغان طالبان کے ساتھ مل کر افغانستان میں لڑ رہے ہیں یا وہ القاعدہ کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا واحد نشانہ پاکستانی سکیورٹی فورسز ہیں جو قبائلی علاقوں پر قابض ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ کی جانب سے بھجوائے گئے سوالنامے کے نامعلوم مقام سے دیے گئے جوابات میں نور ولی محسود نے دعویٰ کیا کہ افغان طالبان کی کامیابیاں پوری اُمت مسلمہ کی کامیابی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات بھائی چارے، اور اسلامی اُصولوں کے تحت ہیں۔ ایک مسلمان کی کامیابی دوسرے مسلمان کے لیے بھی مددگار ہوتی ہے۔ لہذٰا یہ وقت بتائے گا کہ افغان طالبان کی کامیابی تحریک طالبان کے لیے کتنی سود مند ہوں گی۔
نور ولی محسود کا کہنا تھا کہ "ہماری لڑائی صرف پاکستان اور اس کی فوج کے ساتھ ہے اور ہمیں یقین ہے کہ بہت جلد طالبان پاکستانی قبائلی اضلاع کا کنٹرول سنبھال کر انہیں خود مختار بنا دیں گے۔
نور ولی محسود کے بیان پر افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ ہر کوئی جانتا ہے ہماری پالیسی کے تحت کسی گروہ کو افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم یہ تاثر عام ہے کہ افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی سے پاکستانی طالبان کے حوصلے بھی بلند ہوئے ہیں اور انہوں نے پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اور اب یہ پہلا موقع ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی محسود نے ایک ویڈیو انٹرویو میں پاکستان کے خلاف کھلا اعلان جنگ کیا ہے۔
یاد رہے کہ مفتی نور ولی محسود 2018 میں ٹی ٹی پی کے سابق سربراہ ملا فضل اللہ کی افغانستان میں ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد ٹی ٹی پی کے سربراہ بنے تھے۔ تحریک طالبان کی بنیاد 2007 میں ڈالی گئی تھی جس کے بعد اس نے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔ ٹی ٹی پی نے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پر حملوں سمیت پاکستان کے اندر کئی دہشت گرد حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ تحریکِ طالبان پاکستان نے دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں بھی حملے کی ذمے داری قبول کی تھی جس میں 145 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں بیشتر بچے تھے۔ اسکے بعد پاک فوج کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خلاف قبائلی علاقوں میں آپریشن شروع کیا گیا جس کے نتیجے میں نے وزیرستان سے طالبان کو بے دخل کر دیا گیا اور انہوں نے افغانستان میں پناہ لے لی۔
اب افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا سے قبل ہی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ٹی ٹی پی کی واپسی اور انکے حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ سیکیورٹی ماہرین ٹی ٹی پی امیر مفتی نور ولی کی ناراض دھڑوں کو منا کر انہیں تنظیم میں واپس لانے اور ملک میں فعال القاعدہ اور لشکرِ جھنگوی سے وابستہ گروہوں کو بھی ٹی ٹی پی میں شامل کرنے کی کوششوں کو اس سلسلے کی کڑی قرار دیتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان میں شدت پسند تنظیموں پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا اور افغان طالبان کی پیش قدمی نہ صرف پاکستانی طالبان ٹی ٹی پی بلکہ دنیا میں پھیلے ہوئے جہادی گروہوں کے لیے ایک اہم موقع ہے جو ان کی تقویت اور بیداری کا سبب بن رہا ہے مگر اس کے اصل نتائج مستقبل میں سامنے آئیں۔ افغان طالبان کی پیش قدمی کے حوالے سے پاکستانی طالبان امیر کا حالیہ بیانیہ ٹی ٹی پی کی فکری تقویت کا سبب بھی بن رہا ہے جس سے ان کی صفیں دوبارہ مضبوط ہو رہی ہین۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے اس بیانیے کا پرچار کیا جا رہا ہے کہ اگر افغان طالبان امریکہ جیسی عالمی طاقت کو مزاحمت کے بعد مذاکرات کی میز پر لا کر اپنے مطالبات منوا سکتے ہیں تو ٹی ٹی پی بھی اپنے دشمن یعنی ریاستِ پاکستان کو شکست دے سکتی ہے۔
اس تناظر میں مفتی ولی نور محسود کی قیادت میں تحریک طالبان کا ایک بار پھر متحرک ہونا اور افواج پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کرنا پاکستان کی سکیورٹی کے لیے ایک بڑا چیلنچ ثابت ہو گا۔

Back to top button