پاکستانی عوام فوج کی سیاست میں مداخلت پر خفا ہیں

پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا کہنا ہے کہ سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت ایک تلخ حقیقت ہے اور ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔
بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو کے دوران پاکستان کی فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت کے الزامات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ لوگ فوج کے سیاسی معاملات میں مداخلت پر خفا ہیں۔ انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب کا سب سے بڑا مسئلہ ان کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ خود حکومت میں نہیں آئے، بلکہ وردی والے انکو لے کر آئے ہیں۔ 1990 کے الیکشن میں بے نظیر بھٹو کے مخالف سیاستدانوں میں پیسے تقسیم کرنے والے اسد درانی کہتے ہیں کہ کچھ لوگ تاریخ سے نہیں سیکھتے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی تاریخ بنائیں گے۔ یہ کہتے وقت یقینا ان کا اشارہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب تھا جو سیاست میں مداخلت سے باز نہیں آتی۔
اسد درانی کے مطابق ’فوج کی مداخلت تو ہے۔ ہونی چاہیے یا نہیں یہ وہ بحث ہے جو آج تک کسی سمت نہیں بیٹھی ہے۔ تجربہ بھی یہی ہے کہ جب بھی فوج نے مداخلت کی تو دیکھنے میں آیا کہ جن سیاسی جماعتوں کو باہر رکھنے کی کوشش کی گئی وہ واپس آ گئیں۔‘ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’جیسے کہ ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو باہر رکھنا تھا، وہ واپس آ گئے اور منتخب ہو گئے۔ ضیا الحق کے بعد بے نیظر بھٹو تشریف لائیں، جنرل مشرف جیسے ہی نکلے ہیں تو جن دو جماعتوں کو ان کا خیال تھا باہر رکھنا چاہیے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز، دونوں جماعتیں الیکشن لڑ کر منتخب ہو گئیں۔ یہ مداخلت نقصان دہ ہے، جب آپ سیاسی انجینیئرنگ کریں۔‘
یاد رہے کہ اسد درانی کو 1988 میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس تعینات کیا گیا تھا۔ جبکہ 1990 میں انھیں ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کیا گیا تھا۔ 1993 میں ریٹائر ہونے کے بعد انھوں نے بطور پاکستان کے سفیر جرمنی اور سعودی عرب میں بھی اپنے فرائض انجام دیے ہیں۔ اس وقت وہ اپنی حالیہ کتاب ’اونر امنگسٹ سپائیز‘ کے چھپنے کے بعد ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ یہ کتاب ان کی پہلی کتاب ’سپائی کرونیکلز‘ کے سلسلے کی ہی دوسری کتاب ہے۔
واضح رہے کہ اسد درانی اکثر تنازعات کی زد میں رہتے ہیں، چاہے وہ ان کی چھپنے والی دو کتابوں میں موجود معلومات سے متعلق ہو یا پھر اسامہ بن لادن سے منسلک ان کے بیانات جنھیں وہ اپنا ’تجزیہ‘ کہتے ہیں۔ جہاں رہی بات موجودہ حکومت کے خلاف متحدہ اپوزیشن کے جاری جلسوں کی تو حزب مخالف کی جماعتوں کے رہنما فوج پر سیاسی معاملات میں مداخلت کی بات کر رہے ہیں۔سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف نے پی ڈی ایم کے ایک جلسے کے دوران براہِ راست پاکستانی فوج کے سربراہ پر ان کی حکومت کو گرانے اور پھر 2018 کے انتخابات میں عمران خان کو کامیاب کروانے کا الزام عائد کیا تھا۔ انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ فوج کے کہنے پر عدلیہ ان کے خلاف مقدمات چلا رہی ہے۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے اسد درانی نے کہا کہ ’آئی ایس آئی ایک ایسا ادارہ ہے جو بنیادی طور پر غیر ملکی انٹیلیجنس کو کاؤنٹر کرنے کے لیے ہے۔ کیونکہ اس میں زیادہ تر فوج کے لوگ شامل ہیں اور حاضر سروس افسران ہیں، خاص طور سے ان کا سربراہ۔ تو اگر اس قسم کی سیاسی انجینیئرنگ کا کام ان کو مل جائے تو وہ اسے ضرور کر سکتے ہیں۔‘ پی ڈی ایم کی تحریک سے متعلق انھوں نے کہا کہ ’مولانا فضل الرحمان کا تجربہ اس فیلڈ میں ہم سب سے زیادہ ہے۔ وہ دھرنا نہ کرنے کے لیے آئی ایس آئی کی بات کیوں سنیں گے۔ عام تاثر یہی ہے کہ آئی ایس آئی کے بغیر کوئی دھرنا نہیں ہو سکتا۔ جیسے اس سے پہلے کہا جاتا تھا کہ امریکہ کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔‘ پاکستان کی حالیہ صورتحال پر ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کو اندرونی مسائل کا سامنا ہے اور مسائل ہمیشہ رہتے ہیں۔ ایک بات تو پکی ہے کہ سب سے زیادہ خطرناک مسئلہ ہوتا بھی اندر ہی ہے۔‘
اسد درانی نے مزید کہا کہ ’اس وقت سیاسی طور پر کچھ لوگ ناراض ہیں۔ کچھ علاقے، جیسا کہ بلوچستان، میں بدامنی ہے۔ سیاسی طور پر اجنبیت کا سامنا ہے۔ معیشت واقعی خراب ہے۔ یہ نہیں کہ معیشت ٹھیک ہو جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ لیکن جب حکومت پر اعتبار نہ ہو اور کہا جائے کہ اسے تو فوج لے کر آئی ہے اور یہ کیسا لیڈر ہے جو ہر چیز پر کہتا ہے کہ جی میں یوٹرن لوں گا تو عظیم لیڈر بن جاؤں گا ورنہ نہیں بنوں گا۔ اس طرح کی حکومت پر اعتبار تو نہیں رہتا۔ اب یہ ہوا ہے کہ یہ تمام تر مسائل ایک ساتھ اکٹھا ہو گئے ہیں۔‘ سابق ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ملک کی اندرونی سلامتی کو لاحق خطرات اس وقت ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں جن سے نمٹنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کو لاحق اندرونی و بیرونی خطرات میں سے ان کے خیال میں اس وقت زیادہ بڑا خطرہ کون سا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا اب اتنا بڑا خطرہ نہیں ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کو انڈیا کی طرف سے کشمیر کے الحاق کی کوشش کے بعد انڈیا کے لیے خود اتنے بڑے مسائل کھڑے ہو گئے ہیں کہ وہ اب ہمارے لیے خطرہ نہیں رہا۔ جنرل درانی کے بقول ان میں ایران، ترکی اور سعودی عرب بڑے اور نئے چیلنجز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ویسے بھی انڈیا ہمیشہ اور ہر وقت ہمارے لیے سب سے بڑا خطرہ نہیں رہا۔‘
اج کل گلگت بلتستان کو عارضی طور پر صوبہ بنانے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس بارے میں جہاں ملک میں آرا منقسم ہے وہیں اسد درانی نے اسی سے منسلک ایک قصہ سنایا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’جب میں کشمیر کے معاملات دیکھ رہا تھا تب مجھے ایک قریبی دوست یوسف سمجھایا کرتا تھا کہ جس دن گلگت بلتستان کی حیثیت تبدیل کرنے کی گڑبڑ کی اس دن ہمارے کشمیر کاز کو بہت بڑا دھچکا لگے گا۔’انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کا نظام بھی اس طرز کا نہیں کہ لوگ اس نظام کا حصہ بننا چاہیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر گلگت بلتستان کو زیادہ حقوق دینے ہیں تو بے شک دیں لیکن ان کو زبردستی پاکستان کا صوبہ نہ بنائیں۔‘
چند ماہ قبل شائع ہونے والی اپنی کتاب ’اونر امنگسٹ سپائیز‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جب تک کسی کتاب میں تنازع نہ ہو تو فائدہ کیا ہے؟ وہ تو پھر ایک سرکاری قسم کی تحریر ہو گی جو آپ آئی ایس پی آر سے لے لیں یا سرکار سے لے لیں۔ تنازع تو آپ کو پیدا کرنا ہے تاکہ بحث ہو سکے۔‘ اس سے پہلے بھی اسد درانی پر اپنی کتاب ’دی سپائی کرانیکلز‘ میں ’حساس نوعیت کی معلومات‘ لکھنے پر پاکستان کی فوج نے ان سے جواب طلب کیا تھا۔
اس کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’جہاں تک ریاست کے راز افشا کرنے کی بات ہے، تو شور بہت مچا لیکن کسی نے آج تک بتایا نہیں کہ اس کتاب میں ریاست سے منسلک کون سے راز تھے۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت لوگوں پر مقدمہ چلانا سب سے آسان کام ہے۔ جتنی باتیں راز تھیں وہ بھی آہستہ آہستہ کسی نے اِدھر سے بتا دیں، کسی نے اُدھر سے، تو رازداری کی کوئی بات نہیں ہے۔ گذشتہ سات آٹھ برسوں میں مجھے اسامہ بن لادن والی بات پر کافی لوگوں نے تنگ کیا ہوا ہے۔ حالانکہ میں نے صرف اپنا تجزیہ دیا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مجھے ایسا لگتا ہے کہ اپنا تجزیہ دے کر میں نے کسی کمزوری کو ظاہر کر دیا ہے یا دُم پر پاؤں رکھ دیا ہے۔ میں نے ایک تجزیہ دیا جس کی بنیاد اس بات پر تھی کہ اگر میں اس وقت ہوتا تو کیا کرتا؟‘ انھوں نے کہا کہ ’ضروری نہیں کہ کوئی اندر کی معلومات ہوں تب ہی بات کریں گے۔ بلکہ اندر کی معلومات تو اکثر غلط ہوتی ہے۔ لیکن جو صورتحال کے متعلق آپ کا اندازہ ہوتا ہے وہ بہتر نکل آتی ہے۔‘ کتاب سے منسلک تنازعات کے بارے میں انھوں نے مرزا غالب کا شعر دہرایا کہ ’ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں۔۔۔ کچھ دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا۔ انھوں نے کہا کہ ’فوج کے اندر کئی لوگوں نے اپنی کتابیں لکھیں اور کسی نے ان سے نہیں پوچھا کہ انھوں نے کیا لکھا ہے۔ مشرف کی کتاب کسی نے نہیں دیکھی تھی۔ شاہد عزیز کی بڑی تنقیدی کتاب ہے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ اس کا حق ہے، یہ لکھ سکتا ہے۔ لیکن آج تک کسی نے روکا نہیں ہے۔ مجھے ریٹائرمنٹ کے وقت اس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ نے کہا تھا کہ تمھیں خود دیکھنا ہے کہ اپنی بات کہاں تک لکھنی ہے اور کہاں تک نہیں۔ اپنا سینسر خود ہی کرو اور اصول بھی یہی ہے۔‘
اونر امنگسٹ سپائیز کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ میرا تجویز کردہ ٹائٹل نہیں تھا۔ میرا ٹائٹل تو کچھ اور ہونا تھا: ’اے ٹیل آف ٹُو بُکس‘ جو میں نے تجویز کیا۔
’کیونکہ یہ پہلی دو کتابوں پر مبنی ہے۔ لیکن پھر بات ہوئی کہ پہلے والا اچھا ٹائٹل ہے۔ اس کتاب میں یہی لکھا ہے کہ کون سی چیز پر تکلیف تھی اور کس پر نہیں۔ کس بات کو بہانہ بنا کر کچھ کر سکتے ہیں اور کس پر نہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اس افسانوی کہانی کا مرکزی کردار اسامہ بن لادن ہے۔ جس کے لیے میں نے فکشنل کردار بنایا ہے، عظمیٰ بنتِ لادن۔ خاتون جنگجو، دہشت گرد، آزادی پسند۔‘ ’ہمیشہ سے ہمارے جہادیوں میں خواتین کا کردار رہا ہے اور ہندوستان میں بھی رضیہ سلطانہ، چاند بی بی کا ذکر کرتے ہیں۔ خواتین جہادیوں کو تو لیلیٰ خالد نے بہت متاثر کیا تھا۔ لیلٰیٰ خالد فلسطینی تھی اور اس کہانی میں اس کا ذکر بھی ہے۔‘
