پاکستانی ٹک ٹاکر کے رقص نے انڈیا سے نیپال تک دھوم مچا دی

پاکستانی سوشل میڈیا پر آج کل عائشہ نامی ٹک ٹاکر کے خوب چرچے ہیں جس نے شادی کی تقریب کے دوران 68 برس قبل ریلیز ہونے والی فلم ’’ناگن‘‘ کے گیت پر جدید موسیقی کیساتھ ایسے ٹھمکے لگائے کہ دیکھنے والوں کے ہوش گم ہو گے۔ ٹک ٹاکر نے نہ صرف مہارت سے گیت کی تال کو گرفت میں لیا بلکہ اسے نفاست سے ڈانس کی صورت میں پیش بھی کر دکھایا۔ عائشہ کی اس ویڈیو کو صرف ٹک ٹاک پر اب تک 14 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔ پاکستان کے علاوہ انڈیا اور نیپال میں بھی اس ڈانس ویڈیو کے چرچے ہیں۔

سوشل میڈیا سے لے کر کچی پکی سڑکوں تک وائرل ہونے والے اس ویڈیو کلپ کی بات کرنے سے پہلے ہم پلٹ کر اصل گیت کو دیکھتے ہیں کہ وہ کیا تھا اور اس کے تخلیق کار کون تھے؟ فلمی موسیقی کے مشہور ترین گیتوں میں سے ایک ’من ڈولے میرا تن ڈولے‘ ہے، جو 1954 میں ریلیز ہونے والی فلم ’ناگن‘ کا حصہ تھا۔ اس گیت کی خاص بات اور مقبولیت کی شاید سب سے بڑی وجہ "بین” کی آواز تھی۔ یہ گیت لوگوں کو اتنا پسند آیا کہ فلم سازوں نے محض "بین” کی آواز استعمال کرنے کے لیے کئی مذید فلمیں اس موضوع پر بنا ڈالیں۔ ’ناگن‘ کے موسیقار ہیمنت کمار تھے جن کا شمار رابندر ناتھ ٹیگور سے منسوب رابندرا سنگیت کے چوٹی کے فنکاروں میں ہوتا ہے۔ 1940 کی دہائی میں وہ انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن کے سرگرم رکن بنے اور یہیں ان کی ملاقات سلل چوہدری سے ہوئی۔ دونوں کی قربت کا سبب بنگال اور موسیقی کی محبت تھی۔ سلل چوہدری بنگال کے لوک گیتوں سے قریب رہ کر شاعری اور دھنیں ترتیب دیتے جنہیں ہیمنت کمار اپنی پرسوز آواز سے امر کر دیتے۔ 1947 میں بمبئی آنے سے قبل ہیمنت کمار بنگال کی موسیقی کا معروف نام تھے۔

اگرچہ ہندی فلموں میں 1950 کی دہائی سے لے کر آج تک ان کی پہچان ایک منفرد گلوکار کی ہے لیکن وہ بہت اچھے موسیقار بھی تھے۔ ’بیس سال بعد،‘ ’صاحب بی بی،‘’غلام،‘ ’خاموشی‘ اور ’کُہرا‘ بھی موسیقی کے اعتبار سے ان کی یادگار فلمیں ہیں مگر ماسٹر پیس بہرحال ’ناگن‘ ہے۔ اس فلم میں کل 13 گیت ہیں جو کم و بیش سب کے سب عمدہ ہیں مگر ’من ڈولے میرا تن ڈولے‘ اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ دوسرے گیت دب کر رہ گئے۔ اسی فلم میں وہ گیت بھی شامل تھا، جس کے آج کل بہت چرچے ہیں، ’میرا دل یہ پکارے آ جا۔‘ اسے وجنتی مالا پر فلمایا گیا تھا۔ فلم ’ناگن‘ کی کامیابی میں انتہائی اہم کردار وجنتی مالا کے خوبصورت رقص کا تھا۔ وجنتی مالا کا تعلق جنوبی انڈیا سے تھا اور ناگن کے ذریعے وہ رقص کی ایک بالکل نئی روایت بالی وڈ میں لے آئیں۔ دیکھنے والے ان کے حسن اور رقص سے مسحور ہو کر رہ گئے۔ ’ناگن‘ کے گیتوں پر رقص سے ان کے کیریئر کو پَر لگے اور بعد میں انہوں نے ’دیوداس،‘ ’نیا دور،‘ ’گنگا جمنا‘ اور ’سنگم‘ جیسی مشہور فلمیں کیں۔

دوسری طرف سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے گیت کی فضا سوگوار نہیں بلکہ رومانوی ہے۔ ایک مہندی کی تقریب کا روایتی سا ماحول ہے، مگر بعض اوقات منصوبہ بندی کے بغیر بے دھیانی میں کی گئی چیزیں بھی بہت دور تک سفر کرتی ہیں اور سوشل میڈیا کے بعد ایسے اتفاقات کی تو ویسے بھی بھرمار نظر آتی ہے۔ کیمرا اور ریکارڈنگ کا بندوبست بھی کچھ بہت شاندار نہیں مگر ٹک ٹاکر کا اعتماد غضب کا ہے اور یہ اعتماد ہی ان کی کامیابی کی بنیاد ہے۔ ایک شادی کی تقریب کے لیے نسبتاً غیر معروف پرانا گیت منتخب کیا۔

یہ ایک جوا تھا، جس کا نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا تھا، اصل گیت اور وائرل ہونے والی ویڈیو میں شاید محض دو چیزیں ہو بہو ہیں۔ ایک لتا کی آواز، دوسرا راجندر کرشن کے الفاظ۔ یہ تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ لتا منگیشکر کی آواز کو گردش ماہ و سال گہنا سکتی ہے مگر گیت کے بولوں کو دیکھ کر کسی قدر خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ راجندر کرشن کا شمار ایسے نغمہ نگاروں میں ہوتا ہے، جن کے الفاظ سادہ اور عام گفتگو کے قریب ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے جب ٹک ٹاکر نے مہندی کی تقریب میں اتنے پرانے گیت پر رقص کرنے کا سوچا ہو گا تو بولوں کو خصوصی اہمیت دی ہو گی۔

Back to top button