پاکستانی چڑیا گھر کیوں بند کر دیے جانے چاہئیں؟


پاکستانی چڑیا گھروں میں جانوروں سے ناروا سلوک، خوراک کی قلت، اور انکی دیکھ بھال میں غفلت کے باعث جانوروں کی مسلسل ہلاکتوں کے واقعات کے بعد اب سوشل میڈیا صارفین یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر ہم جانوروں کا تحفظ نہیں کر سکتے تو بہتر ہوگا کہ اسلام آباد کے چڑیا گھر کی طرح ملک کے باقی چڑیا گھر بھی بند کر دیے جائیں۔

پاکستان میں چڑیا گھر بچوں کی تفریح کا ایک بڑا ذریعہ ہیں جن کی سیر بچے شوق سے کرتے ہیں، کراچی کے علاوہ لاہور، پشاور، ملتان، اور حیدرآباد سمیت ایک درجن شہروں میں چڑیا گھر موجود ہیں جہاں بندروں، لومڑیوں، ہرن، ریچھوں، نیل گائے کے ساتھ افریقہ اور دیگر ممالک کے شیر، چیتے، بن مانس اور ظرافے رکھے جاتے ہیں۔ بڑے شہروں کے مقامی لوگوں اور چھوٹے شہروں سے آنے والے سیاح بچوں سمیت یہاں کا رخ کرتے ہیں جبکہ سکولوں کے طلب علموں کو بھی یہاں لایا جاتا ہے۔ لیکن ملک کے تقریبا ہر چڑیا گھر سے بار بار جانوروں کے مسلسل مرنے کی بری خبریں آرہی ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کے ساتھ کیا جانے والا برا سلوک ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین واقعہ کراچی کے چڑیا گھر میں ایک سفید شیر کی ہلاکت کا ہے جس کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر میں صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ اتنا لاغر ہو چکا تھا کہ اس کی پسلیاں بھی دکھائی دے رہی تھیں۔

اس سے پہلے بھی بھی جانوروں کی ہلاکتوں کے واقعات میڈیا میں رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ مئی 2017 میں لاہور چڑیا گھر کی پر کشش ہتھنی ’سوزی‘ ہلاک ہوئی، چند سال قبل اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر میں کاون ہاتھی کے زنجیروں سے جکڑی ہوئی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے کے بعد پاکستان میں چڑیا گھروں میں جانوروں کی ابتر صورت حال نے بحث چھیڑی جس کے بعد مقامی اور بین الاقومی تنظیموں نے مہم چلائی اور کاون کو کمبوڈیا منتقل کر دیا گیا۔ اسکے بعد اسلام آباد کے چڑیا گھر کو بند کر دیا گیا۔

2020 میں پشاور کے چڑیا گھر میں چار ظرافے ہلاک ہوئے، اسی سال بہاولپور کے چڑیا گھر میں سات ہرن مردہ پائے گئے۔ جنوری 2021 میں لاہور کے چڑیا گھر میں سفید شیر کے دو بچے مر گئے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ کووڈ میں مبتلا تھے جبکہ جون میں کینگروؤں کے ایک جوڑے اور ایک شیر کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی۔

پچھلے دنوں کراچی کے چڑیا گھر میں ایک سفید شیر کی ہلاکت کے بعد ایک بار پھر یہ بحث شروع ہوئی کہ چڑیا گھروں کو اگر سنبھالا نہیں جا سکتا تو انھیں بند کردیا جائے۔ سوشل میڈیا پر اس بارے میں لوگوں نے اپنے غم و غصہ کا اظہار بھی کیا۔ جس کے بعد کراچی میونسپل کی جانب سے پہلے یہ بتایا گیا کہ اس شیر کی موت ٹی بی کی وجہ سے ہوئی جبکہ اس کے بعد ڈائریکٹر کو ہٹا کر تحقیقات کا حکم جاری کیا گیا۔

اس وقت صرف کراچی کے دو چڑیا گھروں میں چار ہاتھی موجود ہیں، جن کا حال ہی میں ایک جانوروں کی ایک بین الاقوامی تنظیم کے ماہرین نے معائنہ کیا۔ ڈاکٹر فرینک کی رپورٹ کے مطابق سفاری پارک کے ہاتھیوں کے پیروں میں زخم ہیں، ان کے ناخن ٹوٹے ہوئے ہیں اور پنچے بڑھے ہوئے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ہاتھیوں کے پیروں کی دیکھ بال اور ٹوٹے ہوئے دانتوں کے سرجیکل آپریشن کی ضرورت ہے۔ انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پیروں اور دانتوں کی بیماری تکلیف دہ ہوتی ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے چین کی خاطر امریکہ کو مزید ناراض کر دیا
دوسری جانب جانوروں کے فلاح و بہبود کی پاکستانی تنظیم ’سی ڈی آر بینجی‘ کی سربراہ قطرینہ حسین کا کہنا ہے کہ چڑیا گھر رکھنے ہیں تو ایک خصوصی ونگ بنایا جائے اور چڑیا گھروں میں جنگلی حیات سے وابستہ افسران تعینات کیے جائیں۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں جس طرح جانوروں کو چڑیا گھر میں رکھا جا رہا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ جانوروں کو لا کر پنجروں میں بند کر دیا جاتا ہے اور انھیں صرف انسانون کے تماشے کے لیے رکھا گیا ہے۔ کوئی خیال نہیں کیا جا رہا کہ ان کی بھی ضروریات ہیں۔انکا کہنا تھا کہ یہ جانور اپنے علاقوں کے سفیر ہیں، ہمیں ان کی اچھی دیکھ بال کرنی چاہئے۔ انہیں ضروریات کی اشیا اور ماحول فراہم کرنا چاہئے لہذا اگر ہم ایسا نہیں کر سکتے تو بہتر ہوگا کہ اسلام آباد کے چڑیا گھر کی طرح ملک کے باقی چڑیا گھر بھی بند کر دیے جائیں۔

Back to top button