فضائی آلودگی پیدائش سے قبل بچے کو کیسے متاثر کرتی ہے؟


فضائی آلودگی نے اس وقت پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے اور پاکستان سمیت بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ایشیائی ممالک بھی اس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، مخلوق خدا بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کی وجہ سے دل اور سانس کی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو رہی ہے۔ فضائی آلودگی پر ریسرچ کرنے والے محققین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہے جس کے بعد دہلی اور ڈھاکہ کا نمبر آتا ہے۔

تاہم اب طبی ماہرین نے بھی انکشاف کیا ہے کہ فضائی آلودگی پیدائش سے قبل ماں کے پیٹ میں ہی بچے کی صحت کو متاثر کرنا شروع کر دیتی ہے۔ کراچی کے آغا خان ہسپتال کے انوائرمینٹل آکیوپیشنل ہیلتھ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سید ظفر فاطمی کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی کی وجہ سے بچوں کا اوسط وزن پیدائش کے وقت ایک سو گرام کم ہوتا جا رہا ہے، اسکے علاوہ ماؤں کی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 42 لاکھ انسان فضائی آلودگی کے سبب موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ہسپتالوں میں امراضِ قلب، دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں 30 فی صد تک اضافہ ہو چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہوا میں مختلف گیسز شامل ہوتی ہیں، اگر کسی بھی گیس کی مقدار میں ضرورت سے زیادہ اضافہ ہونے لگے تو اس سے انسانی صحت کے لیے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ فضا میں موجود پارٹیکیولیٹ میٹرز وہ چھوٹے ذرات ہیں جو عام آنکھ سے دکھائی نہیں دیتے، یہ ذرات گاڑیوں، صنعتوں، کچرا جلنے اور ان ڈور سگریٹ نوشی کی وجہ سے نکلتے ہیں۔ یہ سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں اور پھر خون میں شامل ہو کر دل، جگر اور پھیپھڑوں کو متاثر کرنے لگتے ہیں۔

فضائی آلودگی کو مانیٹر کرنے کے لیے حکومت نے لاہور، کراچی، پشاور کوئٹہ اور اسلام آباد میں ایئر کوالٹی مانیٹرز لگا رکھے ہیں جن سے ملنے والے ڈیٹا کے مطابق لاہور مسلسل دنیا کی بدترین فضا رکھنے والا شہر قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی کے حوالے سے کراچی قدرے بہتر ہے کیونکہ یہاں سمندری ہوائیں چلتی ہیں جو آلودگی کو ٹہرنے نہیں دیتی ہیں۔

فضائی آلودگی پر کام کرنے والے ماہرین کے مطابق ایئر کوالٹی انڈیکس میں یہ تمام چیزیں شامل ہیں کہ ہوا میں کاربن مونو آکسائیڈ، کاربن ڈائی آکسائیڈ، سلفر آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن، اوزون، پارٹیکیولیٹ میٹرز کو کیسے جانچا جا رہا ہے اور ان کی رینج کیا ہے۔ ان تمام پہلوؤں کو ایک انڈیکس میں تبدیل کیا جاتا ہے جسے ‘ایئر کوالٹی انڈیکس’ کہا جاتا ہے۔ امریکی اسٹینڈرز کے مطابق اس کی حد 400 تک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: APS کیس: حکومت نے سپریم کورٹ سے مزید وقت مانگ لیا
اگر انڈیکس صفر سے 50 تک ہے تو اس کا مطلب فضا محفوظ ہے جبکہ اگر یہ نمبر 100 سے تجاوز کرے تو یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اگر ایئر کوالٹی انڈیکس 300 تک پہنچ جائے تو یہ انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے اور اس میں بچوں اور بزرگ افراد کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے جبکہ باہر جاتے وقت ماسک کا استعمال کرنے کا کہا جاتا ہے۔ تاہم خطرناک ترین بات یہ ہے کہ لاہور کا ائیر کوالٹی انڈیکس 400 کو بھی کراس چکا ہے۔

Back to top button