پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

پاکستان کے نمبر ون انٹرٹینمنٹ ٹی وی چینل کی کی بانی سلطانہ صدیقی نے گلہ کیا ہے کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری کو فلمیں اور ڈرامے بنانے کے لیے وہ آزادی حاصل نہیں جو ہمسایہ ملک بھارت میں ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ پاکستانی فلمیں اور ڈرامے بھارتی معیار کے نہیں۔
سلطانہ صدیقی کا کہنا ہے کہ پاکستانی فلموں اور ڈراموں کا مقابلہ بھارتی مواد سے کرنے کی باتیں تو کی جاتی ہیں مگر ہمیں انڈیا جتنی آزادی نہیں دی جاتی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جہاں سلطانہ صدیقی نے ڈرامے بنانے سے متعلق آزادی نہ دیے جانے کا شکوہ کیا وہیں یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستانی ڈرامے ’نیٹ فلیکس‘ پر موجود مواد کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈرامے ’زندگی گلزار ہے‘ کو نیٹ فلیکس پر کافی پسند کیا گیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی مواد کو عالمی سطح پر پسند کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اگر حالیہ معروف ڈراموں ’پری زاد اور ہم کہاں کے سچے تھے‘ سمیت دیگر ڈراموں کو نیٹ فلیکس پر نشر کیا جائے تو انہیں بھی پسند کیا جائے گا۔ ایک سوال پر سلطانہ صدیقی نے کہا کہ ’نیٹ فلیکس‘ جیسے بڑے پلیٹ فارم کی جانب سے پاکستانی اوریجنل مواد نہ بنانے کی دیگر وجوہات بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ فلیکس والوں کو لگتا ہے کہ پاکستانی ڈراما و فلم ساز ’بولڈ‘ یعنی بے باک اور نڈر مواد نہیں بنا سکتے، لیکن درحقیقت ایسا نہیں، ہماری جانب سے ایسا مواد تیار نہ کرنے کا سبب ہمارے اوپر عائد پابندیاں ہیں۔
سلطانہ صدیقی نے ایک مثال دی کہ انہوں نے بچوں کے استحصال سے شعور سے متعلق ڈراما ’اڈاری‘ بنایا، جسے عالمی سطح پر پسند کیا گیا مگر انہیں پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے نوٹس آ گیا۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ پاکستانی ڈراموں اور فلموں کا بھارتی مواد سے مقابلہ کرنے کی باتیں تو کی جاتی ہیں مگر ہمیں انڈیا جیسی آزادی نہیں دی جاتی۔ لیکن سلطانہ صدیقی نے واضح نہیں کیا کہ انہیں بھارتی ڈراموں اور فلموں کے ٹکر کا مواد تیار کرنے سے متعلق کون سے ادارے آزادی نہیں دیتے، تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ پاکستانی ڈراما سازوں پر پابندیاں عائد ہیں۔
