کیا پیسوں کے عوض ٹکٹیں بانٹنا شکست کی اصل وجہ بنا؟

وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ان کے پارٹی امیدواروں کو شکست ٹکٹوں کی غلط تقسیم کی وجہ سے ہوئی۔ لیکن کپتان کے قریبی ساتھیوں کا دعوی ہے کہ تمام ٹکٹیں عمران خان کی مرضی اور منظوری سے دی گئیں اس لیے اس شکست کی بنیادی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔ در حقیقت مال بنانے کے لئے خان صاحب کے قریبی ساتھیوں نے انتہائی متمول سفارشی امیدواروں کو ٹکٹ دیے اور اکثر امیدواروں کو میرٹ کے برعکس محض اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے رشتہ داری کی بنیاد پر میدان میں اتارا گیا جس کے باعث تحریک انصاف شکست سے دوچار ہوئی۔
19 دسمبر 2021 کو ہونے والے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کی شکست کے بعد بیشتر صوبائی و وفاقی وزرا بشمول شہرام ترکئی، عاطف خان، شوکت یوسفزئی اور شبلی فراز نے شکست کی بڑی وجہ بڑھتی مہنگائی کو قرار دیا۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں جے یو آئی نے واضح کامیابی حاصل کی۔ اسے چیئرمین کی 17 اور میئر کی 3 نشستیں ملیں جب کہ ایک بھی میئر شپ پی ٹی آئی کے حصے میں نہ آئی۔ ناقدین کہتے ہیں کہ پاکستانی عوام وزیر اعظم عمران خان سے یہی توقع کر رہے تھے کہ وہ انتخابات میں ہوئی شکست کی حقیقی وجوہات تسلیم کریں گے اور غلط فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے معیشت کو بہتری کی طرف لے جانے کا عہد کریں گے مگر اس کے برعکس انہوں نے اپنی "میں سب سے بہتر سمجھتا ہوں” والی تھیوری پر قائم رہتے ہوئے ایک ٹوئیٹ کی اور کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں شکست کی وجہ ٹکٹوں کی غلط تقسیم تھی اور انتخابات کے آخری مرحلے کی نگرانی وہ خود کریں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی دلیل تب تک نہیں مانی جا سکتی جب تک اسکے ساتھ کوئی ثبوت شامل نہ کیا جائے۔ اگر عمران خان کی شکست کے بارے میں دی گئی دلیل درست ہے تو پھر انہیں وہ چند نام بھی سامنے لانے چاہئیں جن کو ٹکٹ دینا غلط تھا اور وہ نام بھی سامنے لانے جائیں جنہوں نے ان ٹکٹوں کی تقسیم کا کام سرانجام دیا۔ مگر وہ ایسا اس لیے نہیں کریں گے کہ دراصل عمران خان نے سب بھی ٹکٹ انہی لوگوں کو دیے رھے جن کو انہوں نے 2018 میں ٹکٹ دیے تھے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ خاندانی سیاست پر تنقید کرنے والے عمران کی اپنی پارٹی میں گورنر، وزرا، ایم پی ایز اور ایم این ایز کے رشتہ داروں اور ان کے من پسند امیدواروں کو ٹکٹ بانٹ دیے گئے اور بلدیاتی انتخابات میں کئی امیدوار شکست کھا گئے جس کا اعتراف خود پارٹی کے وزراء نے بھی کیا۔
واضح رہے کہ خیبر پختون خواہ کے بلدیاتی الیکشن میں ناکامی کی وجوہات جاننے کے لیے وزیر اعظم مران خان نے وزیراعلیٰ محمود خان کو ملاقات کیلئے طلب کیا تھا۔ وزیراعظم اعظم کو بتایا گیا کہ اکثریتی ٹکٹ اراکین اسمبلی کے رشتے داروں اور منظور نظر افراد کو دیے گئے۔ یاد رہے کہ خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر محمود جان کے بھائی احتشام خان کو پی ٹی آئی کی جانب سے پشاور کی تحصیل متھرا کی چیئرمین شپ کے لیے ٹکٹ دیا گیا مگر ہار ان کا مقدر بنی۔ تحصیل شاہ عالم کی میئرشپ کے لیے ٹکٹ ایم پی اے ارباب جہانداد کے بھانجے ارباب وقاص خان کو ملا مگر وہ بھی ناکام ثابت ہوئے۔ اسی طرح صوابی کی تحصیل رزڑ کے لیے صوبائی وزیر شہرام ترکئی کے کزن بلند اقبال کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ دیا گیا مگر وہ اے این پی کے امیدوار سے 22 ہزار ووٹوں سے شکست کھا گئے۔ وزیر دفاع پرویز خٹک کے بیٹے اسحاق خٹک کو تحصیل نوشہرہ کے چیئرمین اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے کزن عطا اللہ کو صوابی سے چیئرمین شپ کا ٹکٹ دیا گیا جو دونوں کامیاب ہوئے۔ اسی لیے کسی کا باپ، کسی کا بھائی، کسی کا بیٹا، کے پی میں پی ٹی آئی کی شکست کی اصل وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
