پاکستان اور طالبان امریکہ کے محتاج کیونکر ہو گئے؟

https://youtu.be/xm9K3YoDX-c
معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ کی افواج افغانستان میں موجود تھیں، امریکا افغان طالبان کا بھی محتاج تھا اور پاکستان کا بھی، لیکن امریکی افواج کے نکال جانے کے بعد اب طالبان بھی امریکہ کے محتاج ہوگئے ہیں اور پاکستان بھی۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ امریکی سینیٹ میں ری پبلکن سینیٹرز کے پیش کردہ پاکستان اور طالبان مخالف بل کو پورا پڑھ لیا جائے تو ہر سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ طالبان قیادت بدستور امریکہ اور اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں ہے اور اسے صرف امریکا اور اس کے اتحادی ہی لسٹ سے نکال سکتے ہیں۔ ایسے میں اگر افغانستان پر اقتصادی پابندیاں لگ گئیں تو طالبان کے لئے ملک چلانا بہت مشکل ہوجائے گا۔ اقتصادی پابندیاں کا ریموٹ بھی اس وقت امریکا کے ہاتھ میں ہے۔ امریکی سینیٹ میں پاکستان پر طالبان کی مدد کے الزام کی تحقیقات کا جو بل پیش کیا گیا ہے اس کے ذریعے کابل اور اسلام آباد دونوں پر اقتصادی پابندیوں کی ایک تلوار لٹکا دی گئی ہے۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ اس حد تک افغانستان میں امریکا کو ضرور شکست ہوئی ہے کہ جیسا وہ چاہتا تھا، ویسا نہ ہوسکا۔ اس نے افغان معاشرے کو اپنی ترجیحات کے مطابق موڑنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن نہ موڑسکا۔ اس نے پاکستان کو افغانستان میں حسب منشا کردارادا کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے ترغیب بھی دی اور دباؤ بھی ڈالا لیکن پاکستان آمادہ نہیں ہوا۔
اس نے افغانستان میں انڈیا کو جگہ دینے اوراسے ایران، پاکستان، چین اور روس کے مفادات کے خلاف استعمال کرنے کی غلطی کی، جس کی وجہ سے ویسا نہیں ہوسکا جیسا کہ امریکہ چاہتا تھا۔ چنانچہ امریکہ نے بالواسطہ اور غیر محسوس انداز میں افغانستان سے نکلنے اور اسے طالبان کے سپرد کرنے کی راہ اپنائی۔

امریکی سینیٹ میں پاکستان پر مجوزہ پابندیوں کے بل کے حوالے سے صافی کہتے ہیں کہ اس میں صرف افغانستان نہیں بلکہ پورے خطے کیلئے پلان تجویز کیا گیا ہے۔ مثلاً اس میں طالبان کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگانے اور ان کی حکومت کو کسی صورت تسلیم نہ کرنے کی تجویز ہے۔ اب امریکی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ طالبان نے قطر معاہدے کی شرائط پوری نہیں کیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اب انہوں نے خود کو قطر معاہدے کی قید سے بھی آزاد کروا لیا ہے۔ اب اگر افغان طالبان انکے حسبِ منشا کردار ادا کرنے پر آمادہ ہوں گے تو ٹھیک، ورنہ امریکی ان کے خلاف ایک اور طریقے سے طاقت استعمال کریں گے اور اسی لیے یہ بل سینیٹ میں پیش کیا گیا ہے۔ اس بل میں پاکستان کے طالبان سے متعلق کردار کا 2001 سے 2021 تک جائزہ لے کر اس پر بھی پابندیوں لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔ صرف یہ نہیں بلکہ بل میں امریکی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان، طالبان اور چین کے مقابلے میں ہندوستان کو دفاع، معیشت اور سفارتکاری کے شعبوں میں مضبوط اور توانا کرے۔

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ لوگ اکثر سوال کرتے ہیں کہ کیا اب بھی امریکہ سپر پاور رہے گا تو اسکا جواب یہ ہے کہ سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے سامنے امریکی سیکرٹری دفاع اور جرنیلوں کی جو درگت بناکر پوری دنیا کو دکھائی گئی، اس کی وجہ سے میرا یہ یقین پختہ ہوگیا کہ امریکہ کے سپرپاور ہونے کی حیثیت ابھی عرصہ برقرار رہے گی۔ انکا کہنا یے کہ چین اگرچہ بہت بڑی طاقت بن گیا ہے لیکن فی الحال وہ افغانستان کے حوالے سے پوری طرح امریکہ کا متبادل بنا ہے اور نہ وہ امریکا کی طرح جارحانہ سفارتکاری کا قائل ہے۔ چین افغانستان میں اپنے کردار کے حوالے سے بہت محتاط ہے اور چونکہ اسے یہ یقین ہے کہ امریکا اس کے حوالے سے جارحانہ عزائم رکھتا ہے اس لئے وہ افغانستان یا پاکستان کو کبھی تنازع کی بنیاد نہیں بنائے گا۔ چین پاکستان کا خیرخواہ اور گہرا دوست ہے لیکن امریکا پر پاکستان کا انحصار بدستور باقی ہے۔

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے سی پیک کے ساتھ جو برا سلوک کیا، اس کی وجہ سے چین موجودہ سیٹ اپ پر تکیہ کرسکتا ہے اورنہ اس کی خاطر کوئی بڑا رسک لے سکتا ہے۔ چین سمجھتا ہے کہ گزشتہ تین سال میں سی پیک اور افغانستان کے حوالے سے عمران خان کی حکومت نے امریکہ کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے۔ یہی حکومت ہے جو آئی ایم ایف کے پاس جاکر اپنی گردن خود ہی امریکا کے پھندے میں دے چکی ہے۔ چنانچہ اب جب امریکا پاکستان کے بازو مروڑے گا تو چین کی طرف سے بھی وہ سہارا نہیں مل سکتا جس کی ہم توقع لگائے بیٹھے ہیں۔ صافی کے مطابق اس تناظر میں دیکھیں تو افغانستان پر اچھا وقت آیا ہے یا برا لیکن پاکستان کے لئے یہ ایک مشکل وقت ضرور ہے۔ تاہم تماشہ یہ ہے کہ یہاں امریکی شکست کو پاکستان کی فتح قرار دے کر جشن منائے جارہے ہیں اور مستقبل کے چیلنجز کی کسی کو کوئی فکر نہیں۔

Back to top button