پاکستان دنیا کا چوتھا مہنگا ترین ملک کیسے بن گیا؟

تبدیلی کا نعرہ لگا کر برسر اقتدار آنے والے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے تین برس کی انتھک کوششوں کے بعد پاکستان کو دنیا کا چوتھا مہنگا ترین ملک بنا دیا ہے جہاں اب غریب کا جینا دو بھر ہو چکا ہے۔ ملک میں مہنگائی کی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان ہمسایہ ملک بھارت سے بھی 12 درجے زیادہ مہنگائی کا شکار ہو چکا ہے۔
بین الاقوامی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ نے مہنگائی کے اعتبار سے دنیا کے جن 43 ممالک کی فہرست جاری کی ہے اس کے مطابق پاکستان 10 فیصد مہنگائی کی شرح کے بعد دنیا کا چوتھا مہنگا ترین ملک بن گیا ہے، رپورٹ کے مطابق دنیا میں مہنگائی کے اعتبارسے پاکستان سے صرف 3 ممالک ارجنٹائن، ترکی اور برازیل آگے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ مہنگائی جنوبی امریکی ملک ارجنٹائن میں ہے جہاں اس کی شرح 51 اعشاریہ 4 فیصد ہے۔دوسرے نمبر پر ترکی ہے جہاں پر مہنگائی کی شرح 19 اعشاریہ 6 فیصد اور برازیل میں یہ شرح 10 اعشاریہ 2 فیصد ہے۔اور اگر ہم اپنا موازنہ بھارت سے کریں تو دی اکانومسٹ کی فہرست کے مطابق پاکستان اپنے پڑوسی ملک بھارت سے مہنگائی میں 12درجے آگے ہے۔ یعنی بھارت اس فہرست میں 4 اعشاریہ 3 کی شرح کے ساتھ 16ویں نمبر پر ہے۔جبکہ اس فہرست میں ”خوش قسمت ترین ممالک میں جاپان سب سے آگے ہیں جہاں مہنگائی کی شرح منفی صفراعشاریہ 4 فیصد رہی ہے۔
خیر یہ بات بھی حکومت کی کسی حوالے سے درست ہے کہ پوری دنیا میں مہنگائی ہو رہی ہے، مثلاََ جن ملکوں میں مہنگائی کی شرح بمشکل ایک یا دو فیصد سالانہ رہتی تھی وہ اور ،7فیصد پر کھڑے ہیں، لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں عوام کی قوت خرید بھی زیادہ ہے جس سے وہاں زیادہ شور شرابہ نہیں ہو رہا۔ جبکہ اس کے برعکس یہاں روپیہ ڈی ویلیو ہونے کی وجہ سے سارے مسائل کھڑے ہورہے ہیں، حالانکہ حکومت نے روپے کو ڈی ویلیو کرنے اور اُسے زبردستی نہ روکنے کا منصوبہ بھی خود ہی بنایا تھا، حکومت نے یہ کام اس لیے کیا تھا کہ ملکی برآمدات میں اضافہ ہو سکے مگر برآمدات میں زیادہ بہتری نہیں آ سکی۔
معاشی اعدادوشمار کے مطابق اکتوبر 2018 میں پاکستانی برآمدات 23 ارب ڈالرز تک تھیں جو آج لگ بھگ 25 ارب ڈالرز تک ہیں۔ برآمدات کو تو کوئی فرق نہیں پڑا مگر روپے کی بے قدری مہنگائی کا سونامی لے آئی اور ستم بالائے ستم یہ کہ حکومت عوام کو مہنگائی کی اصل وجہ ہی نہیں بتا رہی۔اکتوبر 2018ءمیں عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت 85 ڈالر فی بیرل تھی اور آج بھی لگ بھگ یہی قیمت ہے۔ لیکن اس وقت تحریک انصاف کی حکومت عوام کو پٹرول 92 روپے 83 پیسے فی لیٹر میں فراہم کر رہی تھی مگر آج یہ 137 روپے میں فروخت کر رہی ہے۔ یعنی دنیا میں آج بھی پٹرول کی قیمت سال 2018 والی ہے لیکن حکومت پاکستان عوام کو 46 روپے فی لٹر پٹرول مہنگا بیچ کر ان کی جیبوں کا صفایا کرنے میں مصروف ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ 2018 میں ڈالر 133 روپے کا تھا اور آج 171 کا ہے۔ ڈالر کی اڑان کا ذمہ دار کون کوئی بھی ہو، یا اس کے پیچھے محرکات کچھ بھی ہوں مگر ایک بات تو طے ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔
دوسری جانب حکومت عوام کو ماموں بنانے کے چکر میں یہ جھوٹا پروپیگنڈا کیے جاتی ہے کہ خطے میں آج بھی پٹرول پاکستان سے مہنگا ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا ہم سے مہنگا تیل بیچ رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ حکومت یہ نہیں بتاتی کہ ان کی کرنسی کی قدر ہم سے کتنی بہتر ہے۔ بھارت میں ڈالر 75 روپے، بنگلہ دیش میں 85 ٹکا اور پاکستان میں 173 روپے کا ہے۔ کیا معاشی طور پر مضبوط اور کمزور ملکوں کو ایک ہی ترازو میں تولا جا سکتا ہے؟مہنگائی کے مسئلے پر حکومت اتنی ناقابل فہم دلیل دیتی ہے کہ اس پر ہنسا ہی جا سکتا ہے۔چلیں ایک لمحے کے لیے فرض کرتے ہیں کہ حکومت ٹھیک کہہ رہی ہے اور خطے میں پٹرول پاکستان سے مہنگا ہے، تو براہِ مہربانی حکومت یہ بھی بتا دے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے شہریوں کی قوتِ خرید ہم سے کتنی زیادہ ہے۔ یہاں آکر حکومت غلط دلائل دے بیٹھتی ہے، جس سے عوام زیادہ پریشان اور ”لاوارث“ ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ اس وقت بنگلہ دیش میں اوسطاً فی کس آمدنی 3 لاکھ 44 ہزار روپے (2227 ڈالر) ہے۔ بھار ت میں اوسط فی کس آمدنی تین لاکھ روپے (1947 ڈالر) ہے اور پاکستان میں اوسط فی کس آمدنی 2 لاکھ 38 ہزار روپے (1543 ڈالر) ہے۔ آپ خود فیصلہ کریں جب پاکستانیوں کی قوتِ خرید خطے کے باقی ممالک سے کم ہو گی تو وہ اتنا مہنگا پٹرول کیسے خرید سکیں گے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ تین سال سے برسراقتدار عمران خان کی حکومت اپنی ناکامیوں کا مدعا آج بھی سابقہ حکومت پر ڈال کر اپنی ذمہ داری سے بری ہونے کی کوشش میں مصروف نظر آتی ہے اور پھر مہنگائی کے مارے عوام کو یہ مشورے دیے جاتے ہیں کہ وہ اپنے خرچے کم کرنے کے لیے آٹے اور چینی کا استعمال کم کر دیں۔
