پاکستان ذمہ دار ایٹمی ریاست،امریکی صدر کا بیان گمراہ کن ہے

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر جوبائیڈن کے پاکستان کے جوہری اثاثوں سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہے۔
وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ امریکی صدر کے رپورٹ ہونے والا بیان مسترد کرتے ہیں، جو درحقیقت غلط اور گمراہ کن ہے، پاکستان گزشتہ دہائیوں میں ثابت کرچکا ہے کہ ایک انتہائی ذمہ دار جوہری ریاست ہے، جوہری پروگرام ٹیکنیکل بنیاد پر بہت مضبوط اور فول پروف کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کے ذریعے چلایا جارہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کہا تھا کہ میں واضح کردوں کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے اور ہمیں فخر ہے کہ ہمارے جوہری اثاثے آئی اے ای اے کے مطلوبہ حفاظتی اقدامات کے مطابق ہیں، ہم ان حفاظتی اقدامات پر انتہائی سنجیدگی سے عمل کر رہے ہیں، کسی کو اس پر شک نہیں ہونا چاہیے۔
وزیر اعظم آفس سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت کے حوالے سے مسلسل ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، آئی اے ای اے کے عدم پھیلاؤ، حفاظی اور سیکیورٹی کے اقدامات سمیت عالمی معیارات پرعزم طریقے سے جاری رکھا ہے، عالمی امن اور استحکام کے لیے حقیقی خطرہ بدترین قوم پرستی، خطے میں غیرقانونی قبضے کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی، بین الاقوامی اقدار کی خلاف ورزی کرنے والی ریاستوں سے ہے۔
شہبا زشریف نے کہاعالمی امن کو ایسی ریاستوں سے خطرہ ہے جہاں ‘مسلسل نیوکلیئر واقعات ہورہے ہیں، بڑی جوہری ریاستوں کے درمیان اسلحے کی دوڑ اور خطے کا توازن بگاڑنے والے نئے سیکیورٹی منصوبے ہیں، پاکستان اور امریکا دوستی، باہمی سود مند تعلقات کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں، ایک ایسے وقت میں جب دنیا بڑے عالمی چینلجز کا سامنا کر رہی ہے تو یہ اہم ہے کہ پاک-امریکا تعلقات کی حقیقی صلاحیت جاننے کے لیے عملی اور پائیدار کاوشیں کرنی چاہیے اور غیرضروری بیانات سے گریز کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے الزام لگایاتھا کہ پاکستان دنیا کے خطر ناک ترین جوہری ممالک میں سے ایک ہے، اور یہ کہ اس کے جوہری اثاثے غیر منظم ہیں۔
ڈیموکریٹک کانگریشنل کیمپین کمیٹی سے خطاب میں صدر بائیڈن نے پاکستان کو خطرناک ترین ملک قرار دے دیا ، اور کہا کہ پاکستان دنیا کے خطرناک ترین جوہری ممالک میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے جوہری ہتھیار میں کوئی باضابطگی اور ہم آہنگی نہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ چینی صدر کو معلوم ہے کہ انہیں کیا چاہیے لیکن ان کے ساتھ بے شمار مسائل ہیں۔ روس میں کیا ہورہا ہے اور دنیا کے خطرناک جوہری ممالک میں سے ایک پاکستان میں کیا ہورہا ہے اور امریکا کو کس طرح اس سب کو دیکھنا اور ہینڈل کرنا ہے یہ اہم ہے۔
صدر بائیڈن کا کہنا تھا بہت کچھ ہورہا ہے لیکن اس میں امریکا کے لیے مواقع بھی ہیں کہ وہ صورتحال کو تبدیل کرسکے۔
