اداکارہ سائرہ یوسف دوسری شادی کیلئے تیارہوگئیں


اپنے سابقہ شوہر شہروز سبزواری کی دوسری شادی کے دو سال بعد اب اداکارہ سائرہ یوسف نے بھی دوبارہ گھر بسانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ اپنی دوسری شادی کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے سائرہ نے کہا ہے کہ شادی خوبصورت ہوتی ہے، میرا خیال یہ ہے کہ انسان اکیلے زندگی کیوں گزارے؟ مجھے اس میں کوئی منطق سمجھ نہیں آتی ہے۔ سائرہ پاکستان کی ان چند اداکاراؤں میں سے ایک ہیں جو سوشل میڈیا پر اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے بات چیت کرنا پسند نہیں کرتیں اور مداح ان کی یہ خاصیت کافی پسند کرتے ہیں۔ ایک ویب شو میں اداکارہ سے دوبارہ شادی کرنے سے متعلق سوال کیا گیا جس پر سائرہ یوسف نے جواب دیا ہاں میں سوچتی ہوں کیونکہ شادی خوبصورت ہوتی ہے اور میرا خیال یہ ہے کہ انسان اکیلے زندگی کیوں گزارے؟۔

سائرہ یوسف نے کہا میں اس وقت ایک ماں ہوں، ظاہر ہے میری بیٹی بھی بڑی ہو جائے گی اور اس کی اپنی زندگی ہوگی اور میں دیکھنا چاہوں گی کہ وہ اپنے مطابق جئے لیکن میرا یہی خیال ہے کہ آپ کو زندگی گزارنے کے لیے ایک ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے، اس سے آپ کی زندگی آسان ہو جاتی ہے۔

واضح رہے کہ سائرہ یوسف اور شہروز سبزواری کی اکتوبر 2012 میں شادی ہوئی تھی لیکن فروری 2020 میں دونوں کی طلاق ہو گئی تھی، سائرہ اور شہروز کی ایک بیٹی نورے ہے، بعد ازاں مئی 2020 میں شہروز نے ماڈل صدف کنول سے شادی کا اعلان کیا تھا، جوڑے کے ہاں گزشتہ ماہ بیٹی ’’زہرا‘‘ کی پیدائش ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ سائرہ یوسف کے سابق سسر اور سینئر اداکار بہروز سبزواری نے بھی ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ میں سائرہ کو دوسری شادی پر قائل کرنے کی کوشش کرتا ہوں، فوچیا میگزین’ کو دیے گئے انٹرویو میں بہروز سبزواری نے اس بات کا شکوہ بھی کیا کہ جب ان کے بیٹے اور بہو کے درمیان طلاق ہوگئی تو سوشل میڈیا پر ان کے پورے خاندان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق لوگ سمجھتے ہیں کہ اداکار ہونے کے ناتے ہم ان کی ملکیت ہیں، اس لیے ہر کوئی ان پر تنقید کرتا ہے۔ بہروز سبزواری نے بیٹے اور بہو کے درمیان طلاق کے وقت کو اپنے پورے خاندان کے لیے مشکل قرار دیا اور کہا کہ اگر ان کے بیٹے اور سائرہ یوسف کی کیمسٹری نہیں ملی تو وہ اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکتے تھے، کیوں کہ یہ سب اللہ کی مرضی تھی۔ اسی حوالے سے انہوں نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سائرہ یوسف ان کی بیٹی تھیں اور بیٹی رہیں گی اور ان کی بیٹی ‘نورے’ ان کی جان ہیں۔

Back to top button