پاکستان میں‌اب بھی پٹرول دنیا کے کئی ممالک سے سستا ہے

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پاکستان میں‌اب بھی پٹرول دنیا کے کئی ممالک سے سستا ہے ، وزیر مملکت فرخ حبیب کے ساتھ اسلام آباد میں‌ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں‌ نے کہا کہ صرف 16 ممالک ایسے ہیں جہاں پیٹرول کی قیمت ہم سے کم ہے اور وہ ممالک خود تیل پیدا کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک بھارت ، بنگلہ دیش کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں ان ممالک کی نسبت کم ہیں ، انھوں‌ نے کہ اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ اگر حکومت قیمتیں کم کرنا چاہے تو ریونیو ضروریات پوری کرنے کے لیے اسے اپنی جیب سے پیسے دینے پڑیں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں 600 ارب روپے اکٹھے کرنے کا ہدف رکھا ہے ، اس کے باوجود ہم لیوی نہیں رکھ رہے ۔ ملکی معیشت ترقی کرنا شروع ہوگئی ہے جس کے اثرات ریونیو پر آ رہے ہیں، ایف بی آر نے اس وقت 3 ماہ کے عرصے میں اپنے ہدف سے 185-190 ارب روپے زیادہ اکٹھا کیے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پہلے ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ ایف بی آر اپنے ہدف سے آگے ہو لیکن اس وقت گزشتہ سال کے مقابلے ہم 38 سے 40 فیصد آگے ہیں اگر ریونیو آ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ معیشت ترقی کررہی ہے۔ایک کروڑ 20 لاکھ غریب ترین گھرانوں کو اکتوبر سے اشیائے خورونوش پر براہ راست سبسڈی دی جائے گی۔

انھوں‌ نے کہا کہ ہمارا مڈل مین یا آڑھتی بہت منافع کماتا ہے ، ضلعی انتظامیہ میں خامیاں ہیں ، پہلے پرائس مجیسٹریٹ ہوتے تھے جو اب نہیں ہیں تو لوگ من مانی قیمت لیتے ہیں ۔ کاشت کار سے لے کر ہول سیلر تک کی قیمتوں میں 4 سے 500 فیصد کا منافع ہے جو نہیں ہونا چاہئے۔

Back to top button