پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن دونوں جعلی کیوں ہیں؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ ہائبرڈ حکومت کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں کہ یہ ایک جعلی حکومت ہے لیکن کبھی کبھی شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ شاید ہماری اپوزیشن بھی جعلی ہے اور اسی جعلی پن کی وجہ سے جناح کا پاکستان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے دنیا کی 35 جعلی جمہوریتوں میں شمار ہونے لگا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ جعلی حکومت کی زیر نگرانی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کو تو مختلف نوعیت کے جھوٹے مقدمات میں الجھا کر رگڑا دیا جا رہا ہے لیکن کپتان کے پیاروں کے لیے احتساب کا دوہرا معیار اپنایا جا رہا یے۔ حامد میر کے مطابق ہائی برڈ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کرپشن کے خلاف اسکی جنگ جاری رہے گی اور عمران خان اصولوں پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے لیکن جب معاملہ جہانگیر ترین کا آتا ہے تو کپتان کے سب اصول دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور ترین پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہو جاتا ہے۔ شاید وزیراعظم کو احساس ہو چکا ہے کہ ان کا احتساب کا بیانیہ ناکام ہو چکا ہے، اسی لئے وہ ضمنی الیکشن میں اوپر تلے شکستوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے اپنے بیانیے کی عزت بچانے کیلئے راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل میں کچھ سرکاری افسران کو قربانی کا بکرا بنا دیا ہے۔ لیکن خان صاحب بھول رہے ہیں کہ احتساب کے نام پر انتقام کا بیانیہ زیادہ عرصہ ووٹ نہیں دلواتا۔
ریاست اور حکومت کے انتقامی ایجنڈے پر تنقید کرتے ہوئے حامد میر یاد دلواتے ہیں کہ اس وقت قومی اسمبلی کے دو اراکین اسمبلی غداری اور بغاوت کے الزامات پر جیلوں میں ہیں۔ میاں جاوید لطیف اور علی وزیر کا تعلق دو مختلف علاقوں، مختلف جماعتوں اور مختلف مکاتب فکر سے ہے۔ بظاہر دونوں میں صرف یہی ایک مماثلت ہے کہ دونوں قومی اسمبلی کے رکن ہیں اور دونوں ہی آج کل جیل میں ہیں لیکن دونوں میں ایک اور حیران کن مماثلت بھی سامنے آئی ہے۔ علی وزیر کے خلاف پچھلے سال کراچی کے تھانہ سہراب گوٹھ اور جاوید لطیف کے خلاف سالِ رواں میں لاہور کے تھانہ ٹائون شپ میں دو علیحدہ علیحدہ مقدمات درج کئے گئے لیکن دونوں کے خلاف مقدمات میں درج دفعات میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ دونوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 120 بی اور 153 اے سے لے کر 505 بی تک وہ تمام دفعات استعمال کی گئی ہیں جو ان دونوں کو ریاستِ پاکستان کا دشمن ثابت کرتی ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک نامور وکیل نے مجھے جاوید لطیف اور علی وزیر کے خلاف درج مقدمات میں پائی جانے والی مماثلت پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آج کل آپ فلسطین پر اسرائیل کی بمباری سے بڑے پریشان نظر آتے ہیں لیکن ذرا قائداعظم محمد علی جناح کے پاکستان میں آئین اور جمہوریت پر ہونے والی مسلسل ریاستی بمباری پر بھی توجہ دیجئے۔ انہوں نے بتایا کہ ایشیا یورپ پیپلز فورم کی دنیا کے دس ممالک بارے جاری ہونے والی رپورٹ کی مندرجات ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھکا دینے کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان دنیا کی 35 جعلی جمہوریتوں میں شامل ہو چکا ہے اور وطن عزیز کا ذکر کمبوڈیا، لائوس اور میانمار جیسے ممالک کے ساتھ آیا ہے جن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عروج پر ہیں۔ ان دس ممالک میں بھارت بھی شامل ہے لیکن اس کی جمہوریت کو جعلی نہیں بلکہ کمزور قرار دیا گیا ہے۔ گلوبل ڈیموکریسی انڈیکس میں بھارت کا نمبر 53واں اور پاکستان کا 105واں ہے۔ وہ بتا رہے تھے کہ رپورٹ میں علی وزیر کا ذکر پڑھ کر وہ چونکے۔ انہوں نے علی وزیر کے متعلق مقدمے کی تفصیلات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ جاوید لطیف پر بھی اسی قسم کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اس قسم کے مقدمات سے ریاستیں مضبوط نہیں بلکہ مزید کمزور ہو جایا کرتی ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اس وقت قومی اسمبلی کے چار اراکین قید میں ہیں۔ جاوید لطیف اور علی وزیر کے علاوہ سید خورشید شاہ اور خواجہ محمد آصف بھی پاکستان کی ہائی برڈ حکومت کے قیدی ہیں۔ خورشید شاہ اور خواجہ آصف پر آمدن سے زیادہ اثاثوں کا مقدمہ ہے لیکن جاوید لطیف اور علی وزیر پر ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کا الزام ہے۔ اس سے قبل رانا ثناء ﷲ کو بھی منشیات فروشی کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیا گیا لیکن عدالت میں کچھ ثابت نہ ہو سکا۔ شہباز شریف پچھلے تین سال میں دو دفعہ گرفتار ہو چکے ہیں اور تیسری مرتبہ انہیں گرفتار کرنے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ حامد میر کے مطابق عمران خان کا خیال ہے کہ انہوں نے شہباز شریف کو بیرون ملک جانے سے روک کر کرپشن کے خلاف جنگ جیت لی ہے حالانکہ اس معاملے میں حکومت شہباز شریف سے ڈری ڈری اور سہمی سہمی سی نظر آتی ہے۔ فرض کریں کہ شہباز شریف لندن چلے جاتے اور پھر نواز شریف کی طرح واپس نہ آتے تو حکومت کو نقصان نہیں فائدہ ہوتا۔ شہباز شریف کو روک کر حکومت نقصان میں نظر آتی ہے۔ ایکطرف اپوزیشن کے خلاف حکومت کا انتقامی رویہ پاکستان میں داخلی انتشار پھیلا رہا ہے اور دوسری طرف خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پاکستان کیلئے خارجی مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ حکومت اور کچھ نہیں تو انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنا کر عالمی سطح پر پاکستان کو ’’قابلِ دفاع‘‘ بنا سکتی ہے لیکن اس ہائی برڈ حکومت کے دور میں جاوید لطیف اور علی وزیر کو محض اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔
حامد میر کے مطابق قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ علی وزیر پر درج ہونے والے مقدمے کی منظوری سندھ کی صوبائی حکومت دیتی ہے اور سندھ پولیس علی وزیر کو پشاور سے گرفتار کرکے کراچی لاتی ہے۔ سب جانتے ہیں علی وزیر کی سندھ حکومت سے کوئی لڑائی نہیں جس سے لڑائی ہے وہ کوئی راز نہیں۔ ہائی برڈ حکومت میں جمہوریت بھی جعلی ہے اور علی وزیر کے خلاف مقدمہ یہ گمان پیدا کرتا ہے کہ اپوزیشن بھی جعلی ہے۔ ﷲ تعالیٰ قائد اعظم کے پاکستان پر رحم فرمائے۔

Back to top button