پاکستان میں ہر چوتھا شہری ذیابیطس کا شکار کیوں ہونے لگا؟

پاکستان میں مہنگائی، معاشی تنزلی، بے روزگاری نے حالات کو اس قدر مشکل اور ڈپریشن زدہ بنا دیا ہے کہ ہر چوتھا شہری ذیابیطس جیسے موذی مرض کا شکار ہونے لگا ہے، ذیابیطس کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔
بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن (آئی ڈی ایف) کے اعداد و شمار کے مطابق 220 ملین سے زائد کی آبادی والے پاکستان میں عام لوگوں کے طرز زندگی اور غذائی عادات کے باعث گزشتہ برسوں میں اس مرض کے پھیلاؤ میں تیز رفتاری سے اضافہ ہوا ہے۔ آئی ڈی ایف کے مطابق پاکستان کی آبادی میں بالغ شہریوں کی تعداد تقریباﹰ 124 ملین بنتی ہے لیکن ان میں سے تقریباﹰ 33 ملین ذیابیطس کی کسی نہ کسی قسم کے مریض ہیں۔
یوں پاکستان کے قریب 27 فیصد بالغ شہری اس بیماری کے مریض ہیں، جسے عرف عام میں شوگر کی بیماری کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا کم از کم بھی ہر چوتھا بالغ شہری اس بیماری سے متاثر ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن کے ڈیٹا کے مطابق 2021ء میں اس مرض نے 40 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی جان لی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے ہاں شوگر کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے پاکستان چین اور بھارت کے بعد تیسرے نمبر پر آتا ہے۔
ذیابیطس یا diabetes ایک ایسی طبی حالت کا نام ہے، جس میں کسی بھی مریض کی اپنے خون میں گلوکوز کی سطح کو کنٹرول کرنے کی قدرتی صلاحیت اس حد تک متاثر ہو چکی ہوتی ہے کہ اس کا بلڈ شوگر لیول اکثر بہت زیادہ یا بہت کم بھی ہو جاتا ہے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق بھی ملک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد تشویشناک حد تک زیادہ ہو چکی ہے اور ہر سال بڑھتی ہی جاتی ہے۔راولپنڈی کی ساٹھ سالہ رہائشی شمائلہ شیخ نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بڑے عرصے بعد پتہ چلا کہ مجھے تو ذیابیطس ٹائپ ٹو کا سامنا تھا۔ اب میں اپنے معمولات زندگی میں تبدیلی کے لیے کوشاں ہوں۔
اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون ون کے رہنے والے ہاشم خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، کہ میری عمر 35 برس ہے اور میں شوگر ٹائپ ون کا مریض ہوں۔ مجھے یہ بیماری ورثے میں ملی ہے۔ میرے والدین سمیت ہمارے پورے خاندان میں فربہ پن اور ذیابیطس کے کئی مریض ہیں۔
پاکستان سوسائٹی فارمیٹابولک اینڈ باریئٹرک سرجری کے بانی ڈاکٹر عاطف انعام شامی کے بقول پاکستان میں 90 فیصد مریض ٹائپ ٹو ذیابیطس کے ہیں۔ ان میں اس بیماری کا تعلق ان کے طرز زندگی، فربہ پن، جسمانی سرگرمیوں اور غذائی عادات سے جڑے عوامل سے ہوتا ہے۔
عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ کسی انسان کی عمر جیسے جیسے زیادہ ہوتی ہے، اس کی جسمانی سرگرمیاں کم ہوتی جاتی ہیں مگر خوراک اور غذائی عادات تبدیل نہیں ہوتیں۔ طبی ماہرین کے مطابق چینی سے بنی میٹھی اشیاء، میٹھے مشروبات، فاسٹ فوڈ اور پروسسیڈ فوڈ لبلبے کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔
ڈاکٹر شامی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اور پاکستان میں بھی زیادہ تر عوام، خاص طور پر نوجوانوں میں کھانے پینے کی ایسی مصنوعات کے استعمال کا رجحان بہت زیادہ ہے، یہ طرز زندگی خطرناک ہے، بہت سے لوگ محض اپنی بد پرہیزی کی وجہ سے بیمار ہو جاتے ہیں۔
ذیابیطس کی بیماری کا موٹاپے سے بھی گہرا تعلق ہے، بہت سے انسان صرف زیادہ جسمانی وزن کے باعث ہی آہستہ آہستہ اس بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ فربہ پن کے شکار انسان بھوک لگنے پر خوراک بھی زیادہ کھاتے ہیں۔ اس کے لیے بین الاقوامی سطح پر ایک خاص طرز کی سرجری کا بھی کافی زیادہ رجحان ہے، جس میں کسی بھی انسان کے معدے اور نظام ہضم میں ایسی تبدیلیاں لائی جاتی ہیں کہ اسے بھوک کم لگے۔ اس عمل کو میٹابولک سرجری یا باریئٹرک سرجری کہتے ہیں۔
باریئٹرک سرجری کے ماہر ڈاکٹر شامی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”پہلے ایسی سرجری زیادہ تر موٹاپے کے علاج کے لیے کی جاتی تھی۔ اب دیکھا گیا ہے کہ فربہ پن کے شکار جن مریضوں کی ایسی سرجری کی گئی، ان میں سے بہت سے افراد میں ٹائپ ٹو ذیابیطس بھی چند ہی ہفتوں کے دوران کنٹرول ہو گئی۔ آٹھ دس سال پہلے کے مقابلے میں آج ایسی سرجری کروانے کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے اور یہ بھی بالواسطہ علاج کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔
