پاکستان نے گوادر میں چینی اڈوں کی موجودگی تسلیم کر لی
پاکستان نے پہلی مرتبہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں چینی اڈوں کی موجودگی تسلیم کر لی یے۔ کپتان حکومت کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے چین کو گوادر میں جو اڈے دے رکھے ہیں وہ معاشی اڈے ہیں جن کا مقصد پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ‘ہم ایسے اڈوں کی پیشکش امریکہ کو بھی کر سکتے ہیں۔ اب ہم فوجی اڈے دینے کے دھندے میں نہیں ہے مگر ہمارے معاشی اڈے سب کے لیے کھلے ہیں۔
بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں جب میزبان سٹیفن سیکر نے معید یوسف سے پوچھا کہ آیا پاکستان نے چین کو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے بدلے بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ دی ہے جو چین کے لیے علاقائی اہمیت کی حامل ہے، تو ان کا جواب تھا کہ ‘گوادر میں چین کے کوئی فوجی اڈے نہیں، بلکہ وہاں اکنامک بیسز ہیں جس کی پیشکش ہم نے امریکہ، روس، اعر مشرق وسطیٰ کو بھی کی ہے خصوصا اگر وہ یہاں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔’
قومی سلامتی کے مشیر نے واضح کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے اور بدقسمتی سے جب امریکہ کا مفاد پورا ہو جاتا ہے تو پاکستان کو فسرغ کر دیا جاتا کر ہے مگر پھر بھی پاکستان امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات’ چاہتا ہے۔
سٹیفن سیکر نے پوچھا کہ ‘آپ امریکہ کو بہت بہتر انداز میں جانتے ہیں۔۔۔ کیا گذشتہ دہائیوں کے مقابلے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اب بہت زیادہ خراب ہو چکے ہیں؟ کیا میں یہ کہنے میں درست ہوں کہ جو بائیڈن نے ابھی تک ایک برس کے دوران آپ کے وزیراعظم عمران خان کو براہ راست فون نہیں کیا؟
اس پر معید یوسف نے جواب دیا کہ ‘جی یہ درست ہے، اگر بائیڈن عمران خان کو کال کرنا چاہیں گے تو کریں گے اور اگر نہیں تو یہ ان پر ہے۔ لیکن یہ معاملہ دونوں ممالک کے تعلقات کا عکاس نہیں۔ مجھے وضاحت کرنے دیں کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں ہمیشہ اُتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ ہم بہت قریب آ جاتے ہیں، اتحادی بن جاتے ہیں لیکن بدقسسمتی سے جب امریکہ کا مفاد پورا ہو جاتا ہے تو پاکستان کو ایک طرف کر دیا جاتا ہے۔
اس پر سٹیفن نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپ اسے عدم اعتماد کہتے ہیں لیکن ریپبلیکن جماعت کے 22 سینیٹرز طالبان کے ساتھ تعلقات پر پاکستان کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی امداد روک دی اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ شاید اب پاکستان کو امریکہ کی جانب سے مالی امداد روکنے جیسے مزید اقدامات کا سامنا کرنے پڑے۔ آپ کی معشیت کی حالت خراب ہے تو کیا آپ ایسے وقت میں واشنگٹن کے ساتھ خراب تعلقات برداشت کر سکتے ہیں؟’معید یوسف نے جواباً کہا ‘ہم امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، یہ بہت بڑی برآمدی مارکیٹ ہے۔
ہمارے لاکھوں شہری وہاں رہ رہے ہیں، اور ہم اس تعلق کو خراب کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ ہم امریکہ کے ساتھ اس بارے میں بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ہاں عدم اعتماد ہے اور آپ جو یہ 22 ریپبلیکنز کی بات کر رہے ہیں، تو یہ ان کی مقامی سیاست ہے اور میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ ہمارے ساتھ رابطے میں ہے، ہم چاہتے یہ بات چیت تیزی سے آگے بڑھے، ہم بات کر رہے ہیں اور دونوں ملک سمجھتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہم امریکہ سے اچھی تعلقات کے خواہاں ہیں اور اس بارے میں کوئی سوال یا دوسری رائے ہی نہیں۔
سٹیفن سیکر نے سوال کیا کہ پاکستان کا امریکہ کے ساتھ تعلقات کی اپنی ترجیحات کا رُخ چین کی جانب کر لینا، کیا یہ پاکستان کا مستقبل ہے۔جواب میں معید نے کہا کہ ‘پاکستان کی اپنی سوچ اور نقطہ نظر میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔۔۔ اب جیو سٹریٹیجک کے بجائے جیو اکنامک نظریہ پایا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پوری دنیا سے لوگ پاکستان آئیں اور معاشی شراکت داری کریں۔۔۔ اب ہم فوجی اڈوں کی پیشکش کے دھندے میں نہیں مگر ہمارے اکانومک اڈے سب کے لیے کھلے ہیں۔’ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان معاشی بنیادوں پر تمام ممالک کے لیے کھلا ہے اور یہ پیشکش امریکہ کے لیے بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کپتان نے ایک اور جمہوریت مخالف کو عہدے سے نواز دیا
صوبہ بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر سے متعلق میزبان نے پوچھا کہ ‘گوادر اور بلوچستان میں آپ چین کو اپنے اڈے دے رہے ہیں اور چین کی سٹریٹجک دلچسپی میں یہ بہت بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ ہے۔ آپ کو 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ملی ہے تو کیا چین کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے آپ خوشی خوشی اپنے کچھ اصولوں پر سمجھوتہ کر رہے ہیں؟ آپ کی حکومت نے چین میں مسلم برادری اویغور کے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت سے انکار کیا۔’ معید یوسف نے جواب دیا کہ ‘جی ہاں، 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لیکن شاید دوست اسی لیے ہوتے ہیں۔ ہمارا چین سے سٹریٹیجک تعلق ہے اور ہمیشہ رہا ہے۔ اور ہمارے آپسی تعلقات مضبوط سے مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ تعلقات کسی اور ملک کی قیمت پر نہیں۔ چین ہمارا بہت اچھا دوست ہے اور اس بارے میں کوئی شک نہیں۔۔۔
