پاکستان کس نے توڑا: حمودالرحمن کمیشن نے کیا بتایا؟

سانحہ مشرقی پاکستان کی وجوہات پر مبنی حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں جنرل آغا محمد یحییٰ خان کو پاکستان توڑنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ انکی ہٹ دھرمی کا نتیجہ ڈھاکہ میں شرمناک شکست کی صورت میں نکلا اور پاک فوج کو بھارتی افواج کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی ذلّت اٹھانا پڑی، یہ ایک ایسی ذلّت تھئ جس کی اسلامی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کے ایک باب کا عنوان ’فوجی پہلو‘ ہے، اِس باب میں بتایا گیا ہے کہ 14 دسمبر 1971 تک جنرل یحییٰ کا خیال تھا کہ مشرقی پاکستان میں جنگ جاری رہنی چاہئے حالانکہ یہ بات تب تک روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی تھی کہ ہم ڈھاکہ پر اب مزید قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتے، اُن دنوں واقعات جس تیزی کے ساتھ پیش آرہے تھے انہیں دیکھ کر جنرل یحییٰ جیسے تجربہ کار فوجی کے لئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ ڈھاکہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا، اگر ہم نےایک ہفتے بعد بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ہی ڈالنے تھے تو یہ اندازہ ایک ہفتے پہلے بھی لگایا جا سکتا تھا اور ہتھیار ڈالنے کی ہزیمت سے بچا جا سکتا تھا ۔لیکن جنرل یحییٰ نے تب بھی عوامی لیگ کے ساتھ سیاسی مصالحت اور امن کی پیشکش ٹھکرا دی جبکہ یہ پیشکش سوویت یونین جیسے ملک کی طرف سے کی گئی تھی، جس کے پاس ویٹو کی طاقت تھی اور جو ہمارے حق میں ہونے والی کسی بھی اقوام متحدہ کی قرارداد کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی تھی۔
سپریم کورٹ کی جج جسٹس حمودالرحمن کی تیار کردہ حمود کمیشن رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کس وجہ سے جنرل یحییٰ نے ڈھاکہ میں پاکستانی فوج کی کمانڈ کرنے والے جنرل اے کے نیازی کو ہتھیار ڈالنے کا اختیار یا مشورہ دیا، جنرل یحییٰ آخری وقت تک کسی سیاسی مصالحت کے لئے تیار نہیں تھے، انہیں اِس بات کا اچھی طرح ادراک تھا کہ وہ کسی بھی صورت مشرقی پاکستان پر اپنا ذاتی کنٹرول برقرار نہیں رکھ سکیں گے اِس لئے انہوں نے آخر وقت تک مغربی پاکستان پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ حمود کمیشن رپورٹ کا یہ باب اِس جملے پر ختم ہوتا ہے کہ ہم اس ناگزیر نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جنرل یحییٰ نے ملک کو ایک ایسی جنگ میں جھونکنے کی اجازت دی جس سے کسی اچھے نتیجے کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی اور وہ اپنے ضدی طرز عمل کو محض اس لئے جاری رکھنا چاہتے تھے کہ وہ کسی بھی قیمت پر ملک کی مشکلات کا سیاسی حل تلاش کرنے پر یقین نہیں رکھتے تھے، آخر کار اِس ہٹ دھرمی کا نتیجہ شرمناک شکست کی صورت میں نکلا اور قوم کو بھارتی افواج کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی ذلّت اٹھانا پڑی، یہ ایک ایسی ذلّت تھی جس کی اسلام کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
حمود کمیشن رپورٹ میں ایک اور جگہ اُس دستور کا ذکر بھی ہے جس کا ڈرافٹ جنرل یحییٰ نے تب تیار کروایا جب ملک دو ٹکڑے ہورہا تھا، اس حرکت کا مقصد بھی ملک کو نیا آئین دینا نہیں بلکہ اپنے اقتدار کو بچانا تھا کیونکہ اُس آئین کی شق 16 یہ کہتی تھی ملک کے پہلے صدر جنرل یحییٰ خان ہوں گے اور اِس کے ساتھ ساتھ وہ آئندہ پانچ برس کے لئے کمانڈر اِن چیف بھی رہیں گے۔ یہی نہیں بلکہ دستور میں شق 260 بھی شامل کی گئی جس میں کمانڈر اِن چیف کو ملک بھر میں مارشل لگانے کا ’آئینی اختیار ‘ بھی دیا گیا، دوسرے لفظوں میں آئین میں ہی آئین شکنی کا طریقہ کار لکھ دیا گیا جو ایک مضحکہ خیز بات تھی۔جس دن اِس مجوزہ آئین کی کاپیاں پریس کو بھیجی گئیں وہ دن 16 دسمبر 1971 کا تھا۔ یہ وہی دن تھا جب جنرل نیازی ڈھاکی میں بھارتی فوج کے سامنے سرنڈر کی یادداشت پر دستخط کر رہاتھا۔
حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ میں لکھا ہے کہ جنرل یحییٰ خان جس خیالی دنیا میں رہ رہا تھا اُس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 18 دسمبر کو مغربی محاذ پر جنگ بندی کے بعد جنرل صاحب نے اعلان کیا کہ ان کے ’آئینی منصوبوں‘ میں ذرا سی بھی رکاوٹ نہیں آئی اور وہ اپنے’ ٹائم ٹیبل‘ کے مطابق آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، موصوف نے یہ اعلان بھی فرمایا کہ نیا دستور 20 دسمبر کو نافذ کیا جائے گا، باقی تاریخ ہے۔
تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر ملک کی دونوں بڑی جماعتون کے ایک متفقہ آئین پر آمادہ نہ ہو سکتے کی وجہ سے جنرل یحییٰ کے ہاتھ میں یہ عذر آگیا کہ عوامی لیگ اپنی واضح اکثریت کی بنیاد پر مغربی پاکستان کے مفادات کا تحفظ نہیں کرے گی اور اسی عذر کے تحت انتخابات جیتنے والی سب سے بڑی جماعت کو اقتدار سے دور کر دیا گیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے اِس اعتراض کا جواب تب بھی یہ کہہ کر دے دیا تھا کہ میں ایک جمہوری شخص ہوں اور پورے پاکستان کا لیڈر ہوں، میں مغربی پاکستان کے مفادات کو نظر انداز نہیں کرسکتا، میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے عوام کے ساتھ ساتھ عالمی رائے عامہ کو بھی جوابدہ ہوں….ہم پارلیمانی جمہوریت کے تمام عمل سے گزریں گے اور ہر معاملے پر مذاکرات کرکے اسمبلی کے اندر اور باہر قابل قبول حل تجویز کریں گے۔ یہ باتیں ملک ٹوٹنے سے فقط چند ماہ پہلے کی ہیں، اسکا مطلب یہ ہوا کہ تشریح نویس جس شیخ مجیب پر ملک توڑنے کی سازش کا الزام لگاتے ییں وہ آخری وقت تک ملک جوڑنے اور جمہوریت بچانے کی باتیں کر رہا تھا۔
