پاکستان کی اشرافیہ نے حکومت گرانے کی کوشش کی

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اشرافیہ کو قانون کے دائرہ کار میں لانے کے لیے اقدامات کیے تو انہوں نے حکومت گرانے کی کوشش کی۔ تاہم میری زندگی کا مشن مافیا کا مقابلہ کرنا ہے، مافیاز، ٹیکس چوروں اورناجائز منافع خوروں کو نہیں چھوڑوں گا۔
نجی چینل دنیا نیوز کے پروگرام ‘دنیا کامران خان کے ساتھ’ میں اپنی حکومت کی 2 سالہ کارکردگی سے متعلق خصوصی انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘جب حکومت سنبھالی تو ایک سمت میں توجہ دینا ناممکن تھا کیونکہ تمام ادارے بحران سے دوچار تھے’۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘پاکستان میں اشرافیہ کے پاس تمام مراعات ہیں جبکہ وہ ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے، شوگر مافیا بنے ہوئے ہیں اور طبقات میں توازن برقرار رکھنے کے لیے احساس پروگرام لے کر آئے تاکہ نیم متوسطہ طبقہ بھی ترقی کرسکے’۔انہوں نے کہا کہ ‘بالکل اسی طرح اسمال انڈسٹری متعدد چیلنجز سے دوچار ہیں جو دراصل ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں جبکہ بڑے صنعت کار اپنے اثرو رسوخ سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں’۔
اسرائیل کو تسلیم کرنے کے سوال پر انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کرسکتے، اس بارے میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے ، قائد اعظم نے کہا تھا کہ فلسطینی باشندوں کو ان کا حق ملے تب ہی اسرائیل کو تسلیم کریں گے، اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے میرا ضمیر کبھی راضی نہیں ہوگا کیوں کہ فلسطین کے معاملے پر ہمیں اللہ کو جواب دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے خراب تعلقات کی خبریں بے بنیاد ہیں، سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی کسی بھی معاملے میں سعودی عرب کی اپنی خارجہ پالیسی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہمارا مستقبل چین کے ساتھ ہے اور ہمیں فخر ہے چین ہر فورم پر ہمارے ساتھ کھڑا ہے اور اس نے ہر اچھے و برے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، خوشی کی بات ہے کہ وہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی قوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کو بھی پاکستان کی ضرورت ہے کرونا وائرس کے سبب چینی صدر کا مئی میں دورہ ملتوی ہوا اب وہ سردیوں کے موسم میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اشرافیہ طبقہ سمجھتا ہے کہ وہ قانون سے بالا تر ہے اور قانون کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا اس لیے اشرافیہ کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے گزشتہ دو برس میں متعدد فیصلے کیے گئے جس کی وجہ سے بہت شور شرابا ہے۔معیشت سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘میرے نزدیک تین بڑے چیلنجز ہیں جس میں پہلا 10 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا جس کا براہ راست معیشت پر منفی اثر تھا’۔انہوں نے کہا کہ ‘اس کے نتیجے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہوتی ہے تو بجلی مہنگی ہوجاتی ہے، مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے تو غریب آدمی پستا ہے’۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘گزشتہ 2 برس کی مشقت کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو ایک بڑی کامیابی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ معیشت کے بعد پاکستان میں بڑا چیلنج توانائی کا ہے جس کی ایک بڑی وجہ سابق حکومت کے بجلی کے معاہدے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اگر قرضوں کی قسطیں نہ دینی پڑے تو اپنے اخراجات کو کنٹرول کرکے ملک کو بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں قرضوں کی قسطوں کے لیے مزید قرضے لینے پڑتے ہیں۔
ملک میں توانائی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق حکومتوں نے مہنگے معاہدے کیے جس کی وجہ سے اب ملک میں بجلی مہنگی تیار ہورہی ہے جبکہ عوام کو ‘سستی’ بیچ رہے ہیں یعنی ریٹ میں خسارہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بجلی کی قیمت نہیں بڑھاتے تو گردشی قرضے بڑھ جاتے ہیں، بجلی مہنگی ہونے کا مطلب ہے کہ مقامی صنعت پر دباؤ ہوگا اور وہ بھارت اور بنگلہ دیش کے صنعتی شعبے کا مقابلہ نہیں کرسکے گی اور اگر صنعت کو سبسڈی دیتے ہیں تو خسارہ بڑھ جاتا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں مہنگی ترین بجلی بن رہی ہے اور یہ معاہدے سابق حکومتوں نے آئی پی پیز کے ساتھ کیے لیکن آئی پی پیز کے ساتھ حالیہ معاہدے پر ان شکریہ ادا کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آئی پی پیز چاہتے تو ہمارے ساتھ از سر نو معاہدے نہیں کرتے اور عالمی عدالت میں پہنچ جاتے جہاں پاکستان کو ناکامی ہوتی کیونکہ سابقہ حکومتوں نے ان سے معاہدے کیے۔
وزیراعظم عمران خان نے کراچی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل کو دیکھتا ہوں تو تکلیف ہوتی ہے اور کراچی کا مسئلہ لوکل گورنمنٹ سسٹم کا نہ ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کی موجودہ حکومت کو دیہی سندھ سے ووٹ ملتا ہے اس لیے ان کی ساری توجہ ادھر منتقل ہوجاتی ہے۔عمران خان نے کہا کہ میں نے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے کہ سندھ میں لوکل گورنمنٹ سسٹم ہونا چاہیے اور یہ نظام ایک آئینی حق ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘میں پلان کرکے آرہا ہوں کہ کراچی میں کس طرح مزید پیسہ لگایا جاسکتا ہے’۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے تحت صوبے کو اختیار ملا ہے اور جب تک صوبہ نہ چاہیے تو وفاق کچھ نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ہماری حکومت اس لیے میں مختلف امور میں مداخلت کرتا ہوں لیکن سندھ پر بات کروں تو وہ لوگ شور مچاتے ہیں کہ آپ آئینی اختیار سے تجاوز کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘کراچی کے لیے ہم منصوبہ بندی کررہے ہیں خصوصاً پانی کے مسئلے پر بھی حالیہ اجلاس ہوئے ہیں اور متعدد منصوبوں کے لیے رقم مختص کررہے ہیں’۔وزیر اعظم عمران خان نے امید ظاہر کی کراچی کے حالات جلد بہتر ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عثمان بزدار پر لگنے والے ایک ایک الزام کو انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) سے چیک کراتا ہوں۔عمران خان نے عثمان بزدار پر شراب کے لائسنس سے متعلق الزام کو مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو بلا کر شک پیدا کردیا۔انہوں نے کہا کہ ‘اگر کیس مضبوط ہوتا تو سب سے پہلے میں عثمان بزدار کو کہتا کہ وہ عہدہ چھوڑیں’۔وزیر اعظم نے کہا کہ ‘عثمان بزدار کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ میڈیا پر آکر اپنے دفاع میں کچھ نہیں کہتے اس لیے ہرکوئی ان پر الزام لگا دیتا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘پنجاب میں جو منصوبہ بندی ہورہی ہے وہ دیگرصوبوں کے مقابلے میں آگے نکل چکے ہیں’۔پنجاب میں 4 آئی جی، 4 چیف سیکریٹریز کی تبدیلی سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ہماری پارٹی پہلی مرتبہ حکومت میں آئی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) گزشتہ 30 برس سے اقتدار میں تھی اور اس عرصے میں ان کی جڑیں بیوروکریسی میں اندر تک ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘کچھ انتخابات غلط ہوئے لیکن ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا لیکن اب جو آئی جی اور چیف سیکریٹری آئے ہیں سب ٹھیک چلے گا’۔
کرونا وائرس سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق تجویز کو خود میری پارٹی کے اراکین نے تنقید کی لیکن میں بھارت میں پیدا ہونے والی صورتحال سے اندازہ لگا چکا تھا۔انہوں نے کہا کہ سندھ نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز کی مخالفت لیکن ہم نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ان علاقوں یا محلوں میں لاک ڈاؤن لگایا جہاں کیسز زیادہ تھے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی طرح اپنے لوگوں سے ڈیل نہیں کرسکتا تھا اگر مکمل لاک ڈاؤن لگا دیتے تو غریب لوگ بھوکے مرجاتے اور وہ حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کرتے جس طرح بھارت میں ہوا۔
چینی اور گندم کی قیمت میں اضافے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں ذخیرہ اندوزوں کے کارٹل بنے ہوئے اور حکومت کو دھمکی بھی دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چینی سے متعلق فرانزک انکوائری کرائی تو بروکرز فرنٹ مین نکلے، شوگر ملز مالکان 30 فیصد چینی آف دی بک فروخت کرتے ہیں۔عمران خان نے بتایا کہ مافیا متحد ہو کردباؤ ڈالتا ہے اور شوگر ملز ایسو سی ایشن نے واجد ضیا کو خط میں انکوائری روکنے کے لیے دھمکیاں دیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب میں چینی مافیا نے حکومت کے ڈر سے سندھ میں چینی ذخیرہ اندوز کرنا شروع کردی۔ عمران خان نے کہا کہ چینی کے ذخیرہ اندوز پیسہ بنا رہے ہیں، چینی کی قیمتیں مصنوعی طریقے سے اوپر نیچے کی جاتی ہیں، ملک میں ہر جگہ کارٹل بنے ہیں.شوگر مافیا بہت طاقتور لوگ ہیں، پکڑے جائیں تو بلیک میل کرتے ہیں اور متحد ہو کر دباؤ ڈالتے ہیں. انہوں نے کہا کہ میری سیاسی جدوجہد میں سب سے زیادہ محنت جہانگیر ترین نے کی لیکن جب شوگر کمیشن نے تحقیقات کیں تو جہانگیر ترین کا نام بھی سامنے آیا جس پر مجھے انتہائی افسوس ہوا، اچھے لیڈر کو صادق اور امین ہونا چاہیے، لیڈر کو سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں، اگر ایسی چیزیں ہوں تو پھر لیڈر سے اعتماد اٹھ جائے گا، جہانگیر ترین نے ابھی کوئی جرم نہیں کیا، ان کے کیس کے بارے میں ادارے فیصلہ کریں گے۔
پائلٹس کے جعلی لائسنس پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ میں 260 پائلٹ کے مشکوک لائسنس کا پتا چلا۔ پچھلے دس سالوں میں پائلٹس کی غلطیوں کی وجہ سے چار حادثات ہوئے۔ تاہم پائلٹس کا معاملہ جیسے پیش کیا گیا اس سے بہتر ہو سکتا تھا۔ میں نے سمجھایا تھا کہ میڈیا میں جب پیش کریں تو بہتر طریقے سے پیش کریں۔ جعلی لائسنس کا معاملہ جیسے پیش کیا ہماری غلطی تھی۔ انکوائری رپورٹ جو سامنے آئی بڑی خوفناک تھی۔ ایوی ایشن کا اسٹرکچر ہی غلط تھا۔ سول ایوی ایشن ریگولیٹر ہے اسےعلیحدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے چیزوں میں تاخیر ہوئی۔ ادارے کو تباہ کرنے میں وقت نہیں لگتا ٹھیک کرنے میں لگتا ہے۔ پی آئی اے میں غلط بھرتیاں کرکے سٹرکچر کو تباہ کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی میں میرا کوئی رشتہ دار نہیں ہے، ملک میں پہلے خاندانی پارٹیاں تھیں، ہم تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایف بی آر کو ٹھیک کرنے میں لگے گا، تبدیلی ایک رات میں نہیں آتی۔ کئی چیزیں جلدی کچھ چیزوں کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا۔ پہلا سال بہت ہی مشکل سال تھا، مشکل وقت سے نکل گئے، اسی سال فرق نظر آئے گا۔ معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ مشکل وقت نکل چکا ہے، آنے والا وقت میں بہتر ہی بہتر ہوتا جائے گا۔ بہتری نظر آئے گی، جو 1960ء والا پاکستان ترقی کر رہا تھا، اس طرح ترقی نظر آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ پنشن پر کبھی کسی حکومت نے کام نہیں کیا، پنشن کی وجہ سے ہمارا سارا ملک ہی دب رہا ہے۔ پنشن کے حوالے سے پورا پروگرام لے کر آئیں گے، ہم پنشن فنڈز بنائیں گے۔ دنیا میں پنشن فنڈز ہے، اس حوالے سے ملائیشیا سے بھی سیکھ رہے ہیں۔
