پاکستان کے ہوتے کسی اور سے تجارت کیوں کریں

آذر بائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا ہے کہ جب ہمارے برادر ملک پاکستان سے ہمیں اعلیٰ معیار کا چاول مل سکتا ہے تو کسی اور سے چاول کیوں درآمد کریں؟

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا ہے کہ پاکستانی چاول کی آذربائیجان درآمد پر 5 سال کے ٹیکس استثنٰی کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ہونے والی دو ملاقاتوں کا نتیجہ ہے، جب ہمارے برادر ملک سے اعلی معیار کا چاول مل سکتا ہے تو ہم کسی اور جگہ سے چاول کیوں درآمد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ گوادر بندرگارہ خطے کو جوڑنے کا بہت بڑا موقع فراہم کرتی ہے، اس بندرگاہ کو ہمارے انفرا اسٹرکچر سے جوڑنا کوئی بڑی بات نہیں، خطے کو باہم ملانے سے تجارت کے نئے امکانات پیدا ہوں گے لیکن اس کے لیے تمام ممالک کو مل کر مخلصانہ تعاون کی بنیاد رکھنا ہوگی۔

رپورٹس کے مطابق صدر آذربائیجان الہام علیوف نے وسطی راہداری کے ساتھ جیوپالیٹکس، سیکیورٹی اینڈ انوائرنمنٹ کے موضوع پر منعقدہ عالمی سیمینار سے خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کو بھائی اور قریبی دوست قرار دیا۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ پاکستانی چاول پر ٹیکس استثنی کی منظوری پر آذربائیجان کے صدرالہام علیوف کا شکر گزار ہوں، دونوں برادر ممالک سڑک، ریل اور گوادر بندرگاہ کے ذریعے اقتصادی تعاون اور رابطوں کو فروغ دینے کے لیے کام کریں گے۔

Back to top button