عمران ایسی بند گلی میں چلا گیا جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں

حکومتی اتحاد پی ڈی ایم سربراہ اور جے یو آئی ف کے امیرمولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ملک میں سازش کا کوئی نام ہے تو وہ عمران خان ہے، عمران خان اب بند گلی میں چلاگیا ہے، جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں، استعفوں کی دھمکی دیتا ہے، اس نے استعفے پہلے بھی دیے تھے مگر واپس آیا تھا۔
کوہستان میں جلسے سے خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 2018 میں دھاندلی سے جعلی حکومت ملک پر مسلط کی گئی، نیب کے ذریعے سیاستدانوں کے خلاف مقدمات بنائے گئے، پی ٹی آئی حکومت کو انتقام سے فرصت نہیں ملی اس لیے معیشت بیٹھ گئی، ملکی معیشت کی بہتری کے لئے پی ٹی آئی حکومت کو ہٹانا ضروری تھا، کچھ لوگ سیاسی افراتفری پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں، اس سیاسی افراتفری سے معاشی عدم استحکام آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے جلسے میں درجہ چہارم کے سرکاری ملازمین کو لایا گیا، عمران خان اب بند گلی میں چلاگیا ہے، جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں، استعفوں کی دھمکی دیتا ہے، اس نے استعفے پہلے بھی دیے تھے مگر واپس آیا تھا، عمران خان کہتا ہے سازش ہوئی، سازش نہیں ہوئی ڈنکے کی چوٹ پر نکالا ہے، ہم نے عمران خان کو گریبان سے پکڑ کر اقتدار سے باہر کیا، ملک میں سازش کا کوئی نام ہے تو وہ عمران خان ہے، عمران خان نےدفاعی قوت کو بھی تقسیم کرنے کی سازش کی۔
امیر جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتا تھا اسلام آباد آؤں گا، آئے کیوں نہیں، تم اسلام آباد آکر تو دکھاؤ، ایک گولی لگنے کے بعد ایسا بھاگا گھر میں بھی بلٹ پروف شیشے لگارہا ہے, مجھ پر 3 خودکش حملے ہوئے مگر آج بھی عوام کے سامنے کھڑا ہوں۔
