پاکستان کو امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش ہے : دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش ہے،کشیدگی کے حل کےلیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، دونوں ممالک کے ساتھ تنازع ختم کرنے کےلیے رابطے میں ہیں،امید ہے کہ فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کاکہنا تھاکہ افغانستان کے معاملے پر چین کی تعمیری اور مسلسل کوششوں کو سراہتے ہیں، پاکستان افغانستان کےمعاملے پر ہرمثبت اور تعمیری مذاکرات کےلیے ہمیشہ تیار رہا ہے، افغانستان کےمعاملے پر پیش رفت طالبان حکومت کے ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات سے مشروط ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی،بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کےخلاف مؤثر کارروائی کرے، طالبان حکومت کو افغان سرزمین دہشت گردی کےلیے استعمال ہونےسے روکنے کی یقینی ضمانت دینا ہوگی، افغانستان سے روابط کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح ہے،اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ طالبان حکومت کی یقین دہانیوں اور عملی اقدامات پر افغانستان سے روابط کا فیصلہ ہوگا۔
طاہر اندرابی نے بتایا کہ 31 اگست کو مکہ معاہدے کے تحت قائم کمیٹی کا اجلاس استنبول میں ہوا،جس میں پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ نے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا،اس تعاون کا سیکرٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائےگا جب کہ پاکستان 3 سال تک سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری سنبھالےگا، مکہ معاہدے کا نام تبدیل نہیں کیاگیا بلکہ مختلف زبانوں،بشمول ترکی،عربی اور انگریزی، میں اس کے حوالے سے استعمال کا معاملہ ہے۔
ترجمان نے بتایاکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بشکیک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جب کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی،پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ایران امریکا تنازع کے حل کےلیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے،یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان کی ثالثی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں،جب دونوں فریق جارحیت کی منطق کو سمجھتے ہوئے مذاکرات کی طرف واپس آئیں گے تو اسلام آباد مفاہمت کے تحت بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے۔
سندھ طاس معاہدے سے متعلق ترجمان نے کہاکہ ہیگ میں بین الاقوامی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی بھرپور تائید کرتا ہےاور پاکستان اسے خوش آئند قراردیتا ہے،بھارت کی جانب سے فیصلے کو مسترد کرنا بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے تقدس کی خلاف ورزی ہے،بھارت اپنی سہولت کےمطابق بین الاقوامی فیصلوں کو قبول یا مسترد نہیں کرسکتا۔سندھ طاس معاہدے کے بارے میں عدالت کا فیصلہ بہت واضح ہے اور اسےمسترد کرنا بھارت کےلیے فردجرم کے مترادف ہے۔
پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تجارت سمیت متعدد معاہدوں پر دستخط
طاہر اندرابی نےکہا کہ سندھ طاس معاہدے کا جائزہ لینے کےلیے بین الاقوامی ماہرین کی کوئی ٹیم پاکستان آرہی ہے یا نہیں، اس بارے میں انہیں معلومات نہیں۔
