پاک ایران برادرانہ تعلقات میں نفرت کے بیج کس نے بوئے؟

ایران کی جانب سے بلوچستان کے علاقے پنجگور میں 16 جنوری کو کیے گئے حملے کے ردعمل میں پاکستان کی جانب سے 18 جنوری کو ایرانی علاقے میں جوابی حملے کے بعد سے اسلام آباد اور تہران کے سفارتی تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں۔

ایران کی جانب سے کالعدم جیش العدل کے ٹھکانے پر حملے کے نتیجے میں دو اموات ہوئی تھیں اور تین بچیاں زخمی ہوئیں جبکہ پاکستان کی جانب سے کیے گئے حملوں میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے اور بلوچ لبریشن فرنٹ یعنی بی ایل ایف کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہےپاکستانی وزارت خارجہ نے ایرانی حملوں کو اپنی ’فضائی حدود کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ ایران دنیا میں پہلا ملک تھا جس نے تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کو تسلیم کیا تھا جبکہ پاکستان پہلا ملک تھا جس نے 1979 کے انقلابِ ایران کے بعد وہاں کی حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ پاکستان اور ایران نے 1950 میں ’فرینڈشپ ٹریٹی‘ پر دستخط کیے تھے اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے 1949 میں تہران جبکہ 1950 میں پاکستان بننے کے بعد شاہ آف ایران نے پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ کیا تھا۔

ایران میں 1979 کے ’انقلاب‘ سے پہلے ماضی میں پاکستان اور ایران کے تعلقات بہت زیادہ دوستانہ تھے۔
امریکہ کا اتحادی ہونے کی وجہ سے پاکستان اور ایران کے تعلقات اس حد تک بہتر تھے کہ انڈیا کے ساتھ جنگ میں ایران نے پاکستان کی حمایت کی تھی۔تاہم یہ تعلقات 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد اس وقت خراب ہوگئے جب آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں ’اسلامی انقلاب‘ کا اعلان کیا اور ملک کو ایک مرکزی شیعہ اسلامک رپبلک بنا دیا۔ اسی دوران پاکستان میں اس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے ’سنی اسلام‘ لانے کی کوششیں شروع کیں، جس کے نتیجے میں پاکستان میں 90 کی دہائی میں شیعہ سنی فسادات شروع ہوئے اور پاکستان اور ایران کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہوگئے۔

افغانستان میں 90 کی دہائی میں جب افغان طالبان نے حکومت قائم کی تو تب بھی پاکستان اور ایران نے دو راستے اختیار کیے۔سویت یونین کے خلاف ’افغان جہاد‘ میں ایران اور پاکستان دونوں سویت یونین کے مخالف تھے، تاہم ایران نے ’شمالی اتحاد‘  جبکہ پاکستان نے ’مجاہدین‘ کا ساتھ دیا تھا۔ پاکستان پہلا ملک تھا جس نے افغان طالبان کی حکومت تسلیم کی تھی جبکہ ایران نے افغانستان میں موجود شمالی اتحاد کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

اس سب کے باوجود بھی پاکستان اور ایران کے تعلقات اس نہج پر نہیں آئے تھے کہ سفارتی تعلقات ہی منقطع ہو جائیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کے مقالے کے مطابق اس کی بڑی وجہ دونوں ممالک کے وزارت خارجہ کی جانب سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں تھیں۔

خیال رہے کہ پاکستان اور ایران کے مابین پاکستانی صوبہ بلوچستان اور ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان کے ساتھ 909 کلومیٹر پر محیط ایک لمبی سرحد ہے۔

اس سرحد پر ماضی میں مختلف واقعات سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ماضی میں ایران پر سرحد پار سے در اندازی کا الزام لگایا جاتا رہا ہے جبکہ ایران کی جانب سے پاکستان میں جیش العدل نامی شدت پسند تنظیم کی موجودگی کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔اسی سرحد پر ایرانی طرف بلوچ سنی اقلیت آباد ہے، جو ایران کی مرکزی حکومت سے ناراض اور مرکزی حکومت پر مسلک کی بنیاد پر امتیازی سکول برتنے کا الزام لگاتی ہے۔ امریکہ کے کاؤنٹر ٹیرارزم ادارے کے مطابق جیش العدل نامی تنظیم ان ہی بلوچوں کے حقوق کی بات کرتی ہے۔ اس تنظیم نے 2018 میں ایرانی بارڈر گارڈ کے 12 اہلکاروں کو اغوا کیا تھا اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کی مدد سے ان اہلکاروں کی بازیابی ممکن بنائی گئی تھی۔اسی طرح اس سرحد پر ماضی میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے جوانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ماضی میں پاک ایران تعلقات اس وقت زیادہ تناؤ کا شکار ہوئے تھے جب انڈیا کے جاسوس کلبھوشن یادو ایران سے اسی سرحد کے ذریعے پاکستان کے صوبہ بلوچستان داخل ہوئے اور یہاں انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

ماضی میں پاکستان نے انسداد دہشت گردی کے معاملات میں ایران کی مدد بھی کی ہے۔  جند اللہ کے مرکزی رہنما عبدالمالک ریگی کو 2010 میں طیارے میں دبئی سے کرغستان جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا اور بعد میں مار دیا گیا تھا، جس کے حوالے سے ایران میں اس وقت کے پاکستانی سفیر نے بتایا تھا کہ پاکستان کی مدد کے بغیر یہ گرفتاری ممکن نہیں تھی۔ اس وقت جند اللہ کے سربراہ کے بھائی عبدالحامد ریگی کو بھی پاکستان نے گرفتار کر کے ایران کے حوالے کیا تھا۔ تاہم اب دونوں ممالک کے مابین اس حد تک تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں کہ پاکستان نے ایران سے نہ صرف سفارتی تعلقات ختم کر دئیے ہیں بلکہ ایران کو پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی پر منہ توڑ جواب بھی دیا ہے۔

Back to top button