پرویز الٰہی کیلئے اپنی کرسی بچانا ممکن کیوں نہیں؟

پی ڈی ایم اتحاد نے پرویز الٰہی کی حکومت گرانے اور پی ٹی آئی نے حکومت بچانے کے لیے ممبران پنجاب اسمبلی سے رابطے تیز کر دیئے ہیں۔ پی ڈی ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے باوجود پرویز الٰہی کو 11 جنوری سے پہلے یا بعد میں ہر صورت پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوگا اور وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ پنجاب میں حکومتی اتحاد کو یہ مشکل درپیش ہے کہ اراکین اسمبلی سے ایسی حکومت کو بچانے کے لئے مدد مانگی جا رہی ہے جسے عمران خان اور پرویز الٰہی دونوں ہی اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد ختم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

تحریک انصاف میں ایسے ایم پی ایز موجود ہیں جو موجودہ اسمبلی کو وقت سے پہلے گھر نہیں بھیجنا چاہتے اور یہی لوگ پی ڈی ایم والوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز الہی جب بھی اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کریں گے، اس روز پی ٹی آئی کے ناراض اراکین ایوان میں نہیں پہنچیں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جو ایم پی ایز پرویز الہی کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کی یقین دہانی کروا چکے ہیں ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں جو کہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ سات مرد ایم پی ایز بھی پرویز الٰہی کے ساتھ نہ جانے کی یقین دہانی کرواتے ہیں اور وہ وقت آنے پر غائب ہو جائیں گے۔

دوسری جانب تحریک انصاف والوں نے بھی اپنے مشکوک اراکین اسمبلی پر کام شروع کر رکھا ہے، ایک جانب لالچ اور دباؤ کے فارمولے استعمال کیے جا رہے ہیں تو دوسری جانب ان پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے تاکہ وہ آگے پیچھے نہ ہو پائیں۔ تاہم پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف والے اعتماد کے ووٹ والے دن اپنے ناراض اراکین اسمبلی کو زبردستی پنجاب اسمبلی لانے میں کامیاب ہو بھی گئے تو وہ کھلے عام اپوزیشن کے ساتھ مل جائیں گے کیونکہ انہوں نے اپنی کشتیاں جلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تاہم پارٹی وفاداریاں بدلنے کی پاداش میں انہیں اپنی صوبائی اسمبلی کی سیٹوں سے محروم ہونا پڑے گا جیسا کہ ماضی قریب میں پی ٹی آئی کے 20 ایم پی ایز کے ساتھ ہوا تھا جنہوں نے حمزہ شہباز کی حمایت کی تھی۔ لیکن اپنی سیٹیں کھونے کے عوض ان اراکین پنجاب اسمبلی کو اگلے الیکشن میں ایڈجسٹ کیا جائے گا اور ن لیگ کے ٹکٹ بھی دیئے جاسکتے ہیں۔

پی ڈی ایم ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف کی آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن اور چودھری شجاعت سے ملاقاتوں میں قائدین نے وفاقی حکومت کے استحکام اور آئینی مدت پوری کرنے کو صوبائی اسمبلیاں بچانے اور پرویز الہی حکومت کے خاتمے سے مشروط کردیا ہے۔ پرویز الٰہی کی بحالی کے بعد پی ڈی ایم نے ازسرنو صف بندی شروع کی ہے اور اعتماد کا ووٹ ناکام بنانے کیلئے پارٹی عہدیداروں کو ٹاسک تفویض کر دیئے ہیں۔پرویز الٰہی کو پی ٹی آئی سے جدا کرنے یا مسلم لیگ قاف کے کچھ اراکین اسمبلی کو ساتھ ملانے کیلئے چوہدری شجاعت کو ٹاسک دیا گیا ہے ۔طارق بشیر چیمہ بھی اس حوالے سے سرگرم ہیں لیکن فی الحال انہیں ناکامی کا سامنا ہے۔ لیکن انہوں نے شہباز شریف اور آصف زرداری کو امید دلائی ہے کہ مسلم لیگ قاف کے کچھ اراکین شجاعت سے رابطے میں ہیں اور وہ پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ نہیں دیں گے۔  پی ڈی ایم کی طرف سے تحریک انصاف کے ناراض اراکین اسمبلی کو باور کروایا جارہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کی صورت میں وہ بے یارو مدد گار رہ جائیں گے اس لیے بہتر ہوگا کہ پرویز الٰہی کو بچاکر اسمبلی کی تحلیل کے کھیل میں حصہ دار نہ بنا جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت کی حالیہ ملاقات میں اس پلان پر گراس روٹ لیول تک بات چیت ہوئی، جس کے تحت مخصوص ممبران سے روابط کی تکمیل اور مثبت نتیجہ خیزی حکمران اتحاد کے نزدیک پرویز الٰہی کیلئے ایوان سے اعتماد کے ووٹ میں ممکنہ ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہو گی، بتایا جا رہا ہے کہ اسی پلان کے تحت پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز ممکنہ طور پر 5 جنوری کو لندن سے واپس وطن آ رہے ہیں، بتایا جا رہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر حمزہ شہباز کا نام بطور وزیراعلی سنجیدگی کے ساتھ زیر غور ہے کیونکہ نون لیگ کے دیگر امیدواروں پر اتفاق رائے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

دوسری جانب اپنی وزارت اعلٰی بچانے کی کوششوں میں مصروف پرویز الٰہی نے اپنا تھوکا ہوا چاٹ لیا اور پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے والے سابق وزیر حسنین بہادر دریشک کے گھر جا پہنچے تاکہ انہیں دوبارہ منا کر اپنی حمایت کے لیے راضی کیا جا سکے۔ پچھلے ہفتے حسنین بہادر دریشک کو چول آدمی قرار دیتے ہوئے کابینہ کے اجلاس سے نکل جانے کا حکم دینے والے پرویزالٰہی نے گدھے کو باپ بناتے ہوئے اب یہ بیان داغا ہے کہ حسنین دریشک ان کی کابینہ کے شاندار وزیر ہیں اور اسی لیے انکا استعفٰی مسترد کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے 18 دسمبر کو پرویز الٰہی نے خود کہا تھا کہ حسنین بہادر دریشک کا استعفی فوری طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔ لیکن اب انہوں نے فرمایا ہے کہ ’سردار حسنین بہادر دریشک میرے لیے میرے بیٹے مونس الٰہی کی طرح ہیں۔

Back to top button