پروین رحمٰن کے قاتلوں کی رہائی سے خاندان شدید خطرے میں

21 نومبر کو سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی مقتول سربراہ پروین رحمٰن کے قتل کیس میں سزا یافتہ ملزمان کو رہا کرنے پر پروین کے خاندان کا کہنا ہے کہ انکی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور اگر انہیں تحفظ نہ ملا تو وہ کیس کی مزید پیروی کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ پروین رحمن کی بہن عقیلہ اسماعیل نے کہا ہے کہ ’عدالت کے فیصلے سے انصاف چھین لیا گیا ہے اور اگر ملزمان رہا ہو گے تو نہ صرف انکے خاندان کے افراد بلکہ اورنگی پائلٹ پراجیکٹ میں کام کرنے والوں کو بھی خطرست لاحق ہو جائیں گے۔ عقیلہ اسماعیل نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو ’مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 یا ایسے کسی دوسرے قانون کے تحت حراست میں رکھا جائے اور سندھ حکومت فوری طور پر فیصلے کے خلاف اپیل کرے۔

یاد رہے کہ 55 سالہ سماجی کارکن پروین رحمن کو 13 مارچ 2013 کو منگھو پیر روڈ پر واقع بنارس پل کے قریب اس وقت ایک موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا جب وہ اپنے دفتر سے گھر جارہی تھیں۔ انہیں گردن میں گولیاں ماری گئیں تھیں۔ ان کے ڈرائیور نے شدید زخمی پروین رحمٰن کو عباسی شہید ہسپتال پہنچایا جہاں وہ ابتدائی علاج کے دوران دم توڑ گئی تھیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سندھ کے وائس چیئرپرسن قاضی خظر نے اس معاملے پر کہا ہے کہ ’مقدمے کی تفتیش کے دوران ثبوت نہ ہونے اور ہمارے نظام کی نااہلی کے باعث عدالت کو ملزمان کو رہا کرنا پڑتا ہے۔ مگر اس سے خاندان کو انصاف نہیں مل سکا۔ جس کا افسوس ہے۔

قاضی خظر کے مطابق پروین رحمٰن نے کراچی میں لینڈ مافیہ اور پانی مافیہ کو بے نقاب کیا تھا اور وہ ان کے نشانے پر تھیں۔ وہ بہادر اور نڈر خاتون تھیں جنہوں نے غریبوں کو یہ سکھایا کہ گھر اپنے نام کیسے کیا جائے اور گھر میں پانی اور نکاسی آب کسی بنایا جائے؟ کراچی شہر میں واقع ایک بڑی کچی آبادی سمجھے جانے والے اورنگی ٹاؤن کے باسیوں کو گھروں کی سرکاری رجسٹریشن، پانی کی لائن اور نکاسی آب کا نظام سکھانے کے لیے مشہور آرکیٹیکٹ اور سماجی رہنما پروین رحمٰن سابق مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں 22 جنوری 1957 میں پیدا ہوئیں۔ تعلق ایک بہاری خاندان سے تھا۔ سال 1971 سقوط ڈھاکہ کے بعد بھی ان کا خاندان بنگلہ دیش میں ہی تھا۔

پروین رحمٰن کی بہن عقیلہ اسماعیل کے مطابق ان کا خاندان فروری 1972 تک بنگلہ دیش میں تھا۔ جب نئے بننے والے ملک کے سپاہیوں نے تینوں بہن بھائیوں کو والدین سمیت گھر سے بے دخل کر کے ایک میدان میں بھیج دیا تھا۔ جہاں مردوں کو جیل اور عورتوں کو ’شیتا لکھیا‘ کے پاس ایک کیمپ میں بھیجا جا رہا تھا اور ان کا خاندان کسی طرح نقل مکانی کرکے کراچی پہنچ گیا تھا۔ پروین رحمٰن نے ابتدائی تعلیم ڈھاکہ میں حاصل کی تھی۔ کراچی آنے کے بعد انہوں نے 1981 میں کراچی کے ڈاؤد کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے آرکیٹیک انجئیرنگ میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔

پروین رحمٰن نے 1986 میں نیدرلینڈ کے شہر روٹرڈم سے ہاؤسنگ سٹڈیز انسٹی ٹیوٹ سے رہائش، عمارت سازی اور شہری منصوبہ بندی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما کیا۔ پروین رحمٰن نے 1983 میں اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی جوائنٹ ڈائریکٹر بن گئیں، 1988 میں جب او پی پی کو چار تنظیموں میں تقسیم کیا گیا تو پروین رحمٰن اورنگی پائلٹ پراجیکٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر بن گئیں۔
1983 سے 2013 کی تین دہائیوں کے دوران پروین رحمٰن کراچی کی کچی آبادیوں اور قدیم گوٹھوں میں واقع سرکاری زمینوں پر قبضے اور تجاوزات کرنے والے گروہوں کے خلاف برسر پیکار رہیں۔ اسکے علاوہ وہ غیر قانونی پانی کے ہائیڈرنٹس چلانے والوں کو بھی عوام کے سامنے لائیں۔ لیکن اب سندھ ہائی کورٹ نے پروین رحمٰن قتل کیس کے سزا یافتہ ملزمان رحیم سواتی، امجد حسین، ایاز سواتی اور احمد حسین کی سزا کے خلاف اپیل کو منظور کرتے ہوئے ملزمان کی سزائیں کالعدم قرار دے دی ہیں اور حکم دیا ہے کہ اگر ملزمان کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تو انہیں رہا کردیا جائے۔

پروین رحمن کے قتل کیس میں نامزد اور گرفتار ملزمان کے خلاف 8 سال تک مجسٹریٹ سے سپریم کورٹ تک درجنوں سماعتوں کے بعد آخر کار کراچی کی ایک انسداد دہشتگردی کی عدالت نے ان کے خلاف 28 اکتوبر کو فیصلہ سنایا گیا تھا۔ اس فیصلے میں نامزد چاروں مجرمان کو دو، دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان چار مجرمان رحیم سواتی، احمد خان، امجد اور ایاز سواتی پر دو, دو لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا جبکہ مقدمے میں نامزد پانچویں مجرم عمران سواتی کو قتل میں دیگر مجرموں کی معاونت کرنے پر سات سال قید اور دولاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن مجرمان کے وکیل کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سندھ ہائی نے مدعیوں کی سزا 21 نومبر کے روز کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے سزا یافتہ افراد کی اپیل پر 38 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا کہ اس کیس کا ایک اہم پہلو مقتولہ کا 2011 میں ایک صحافی کو دیا گیا انٹرویو ہے۔ آیا وہ انٹرویو قابل قبول ہے یا نہیں؟ عدالت نے کہا کہ ملزمان کے وکیلوں کے مطابق قانونی طور پر اس انٹرویو کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور سزا کاٹنے والے مجرمان کے وکلا کو مقتولہ کے انٹرویو پر انہیں جرح کا موقع نہیں ملا۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے ملزمان کے وکلا کا موقف تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ انٹرویو مقدمے میں ثبوت کے طور پر قابل قبول نہیں۔ یاد رہے کہ کراچی کے صحافی فہد دیش مکھ کو مرنے سے دو سال قبل 2011 میں دیے گئے انٹرویو میں پروین رحمٰن نے ملزمان کے نام لیے تھے اور یہ انٹرویو ان کے قتل کے بعد آن ائیر کیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ بھی ہو سکتا ہے مقتولہ پروین رحمٰن نے انٹرویو کراچی کی اس وقت کی امن و امان کی صورتحال کو مد نظر رکھ کر دیا ہو۔ کیس کی جے آئی ٹی کے رکن بابر بخت نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ مقتولہ نے اپنے انٹرویو میں سیاسی جماعتوں پر بھی عمومی نوعیت کے الزام لگائے تھے اور جے آئی ٹی کے رکن نے کہا کہ جو ملزمان کیس کا سامنا کررہے ہیں ان میں سی کسی پر مخصوص الزام نہیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق پراسکیوشن یہ بھی ثابت نہیں کیا ملزم رحیم سواتی کا کس سیاسی جماعت سے تعلق ہے۔ ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خول پولیس مقابلے میں مارے جانے ملزم قاری بلال کے پسٹل سے ملتے ہیں۔ اسکے علاوہ پروین رحمٰن کو جس ہتھیار سے قتل کیا گیا اس کے خول ملزمان کے ہتھیار سے میچ نہیں ہوئے۔ لیکن ملزمان کی گرفتاری کے وقت سے کوئی ایسا کوئی ہھتیار بھی برآمد نہیں کیا گیا ہے۔

Back to top button