توشہ خانہ کیس، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے بیان حلفی جمع کرا دیا

سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کے دوران ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے بیان حلفی جمع کروا دیا، اسلام آباد کی مقامی عدالت نے کیس کی مزید سماعت 8 دسمبر تک ملتوی کر دی۔منگل کو اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے سماعت کی، سماعت کے دوران ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے بیان حلفی میں لکھا کہ مجھے اتھارٹی دی گئی ہے 21 نومبر کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی پیروی کروں۔

بیان حلفی کے مطابق الیکشن ایکٹ کے سیکشن 190 کو 167 اور 173 کے ساتھ ملا کر کارروائی کی اتھارٹی دی گئی، یہ کارروائی عمران خان کی کرپٹ پریکٹسز سے متعلق ہیں۔متن میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت سالانہ 31 دسمبر تک ممبر اسمبلی اور سینیٹرز کو گوشواروں کی تفصیلات جمع کرانا ہوتی ہیں، عمران خان نے 2018 ، 2019 ، 2020 ، 2021 کے گوشوارے جمع کروائے۔

ایڈیشنل سیشن جج نے مسکراتے ہوئے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر سے استفسار کیا کہ آپ کو دباؤ ڈال کر تو نہیں بھیجا گیا؟ جس پر انہوں نے کہا کہ میں اپنی ڈیوٹی نبھا رہا ہوں، عدالت نے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کا بیان قلمبند کرنے کے بعد سماعت آٹھ دسمبر تک ملتوی کر دی۔گذشتہ روز توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کا ریفرنس ٹرائل کورٹ کو موصول ہوا تھا، اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹ نے فریقین کو منگل کیلئے نوٹس جاری کیے تھے۔

الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بھجوایا تھا، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے شکایت میں کہا ہے کہ ٹرائل کورٹ عمران خان پر کرپٹ پریکٹس کا ٹرائل کرے، ریفرنس کے مطابق عمران خان نے اثاثوں کی غلط تفصیلات جمع کرائیں اور کرپٹ پریکٹسز کے مرتکب ہوئے۔

سیکشن 174 کے تحت جھوٹی تفصیلات جمع کرانے کی سزا بھی ہے، عدالت شکایت منظور کرکے عمران خان کو سیکشن 167 اور 173 کے تحت سزا دے، ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق اس جرم میں تین سال جیل اور جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

Back to top button