عمران پر حملے کے بعد سڑک ہونے سے شہریوں کی زندگی عذاب

وزیر آباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد سے جائے وقوع کی ایک سڑک کو سیل رکھنے کے سبب علاقہ مکینوں کی زندگی عذاب بنی ہوئی یے اور تاجروں اور صنعت کاروں کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ عمران پر حملے کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کی جانب سے جائے وقوعہ کے دو دوروں کے بعد بھی پرانے جی ٹی روڈ کے دوہری کیریج وے کے ساتھ سڑک کا ایک ٹریک اب تک ٹینٹ لگا کر بند رکھا جا رہا ہے، پولیس اور ایلیٹ فورس کے کمانڈوز کی بھاری نفری جائے وقوعہ کی حفاظت کے لیے تعینات ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں جے آئی ٹی کے ایک اور دورے کے بعد علاقے کو کلیئر کر دیے جانے کا امکان ہے۔

عمران خان کا کنٹینر اور دیگر رکاوٹوں کو جائے وقوع سے ہٹانے پر آمادہ کرنے کے لیے علاقے کے تاجروں اور صنعتکاروں نے پولیس کے اعلیٰ افسران سے ملاقاتیں کی ہیں اور انہیں بتایا ہے کہ سڑک کا ایک ٹریک بند ہونے سے ان کے کاروباری معمولات مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس سے قبل مقامی بینکرز کے ایک وفد نے گجرات کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر غضنفر شاہ سے ملاقات کی اور انہیں ان مشکلات سے آگاہ کیا، اسی طرح کمرشل عمارتوں کے مالکان، دکانداروں اور علاقہ مکینوں نے سڑک کی بندش کے سبب درپیش مشکلات سے مقامی حکام کو آگاہ کیا، تاجروں نے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی سے بھی یہ رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دینے کا مطالبہ کیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مقامی پولیس اور ایلیٹ فورس کی ایک بڑی تعداد جائے وقوع پر ڈیوٹی انجام دے رہی ہے حالانکہ فرانزک ماہرین کی ٹیم نے 24 گھنٹوں میں شواہد اکٹھے کر لیے تھے۔

ڈی ایس پی وزیر آباد ملک عامر نے بتایا کہ حکام کو صورتحال کا علم ہے لیکن جے آئی ٹی کے حکم کے بغیر جائے وقوع کو کلیئر نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ سربراہ جے آئی ٹی کو صورتحال سے آگاہ کیا ہے، اور امکان ہے کہ جے آئی ٹی خائے وقوعہ کا ایک اور دورہ کرنے کے بعد علاقے کو کلیئر کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی تشکیل میں تاخیر اور پھر بار بار اسکے سربراہ کی تبدیلی نے اس عمل کو طول دیا ہے۔ یاد رہے کہ عمران خان کے اصرار پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ تین مرتبہ تبدیل کیے جا چکے ہیں۔ اسی وجہ سے قاتلانہ حملے کے مرکزی ملزم نوید احمد کو واقعے کے چودہ روز بعد ریمانڈ کے لیئے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جا سکا۔

Back to top button