زمین کی ملکیت پر تنازعہ پاک افغان کشیدگی کا باعث

ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی تنازعے اور زمین کی ملکیت پر شروع ہونے والا جھگڑا شدت اختیار کر گیا ہے جس کے نتیجے میں فائرنگ سے ایک پاکستانی فوجی شہید بھی ہو گیا یے لیکن مسئلہ جوں کا توں لٹکا ہوا ہے۔ یہ جھڑپ پاکستان میں ضلع کرم اور افغانستان کے صوبہ پکتیا میں ڈھنڈی پٹھان کے درمیان سرحد پر ہوئی۔ یہ واقعہ تب پیش آیا جب دونوں جانب سے بھاری اسلحے سے ایک دوسرے پر حملے شروع کر دیئے گئے۔ ضلع کرم سے مقامی لوگوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر یہ تنازعہ زمین کی ملکیت کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ضلع کرم کے رہائشیوں کی سرحد پر زمین ہے جس پر افغانستان کی جانب سے حکام بھاری مشینری کے ذریعے تعمیراتی کام شروع کرنا چاہتے تھے لیکن جب پاکستانی سائیڈ سے اعتراض ہوا تو فائرنگ شروع کر دی گئی جس کی زد میں آکر ایک فوجی شہید اور سات زخمی ہوگئے۔

ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ بنیادی طور پر یہ زمین کی ملکیت کا تنازعہ ہے۔ ان کے مطابق یہ زمینیں پاکستان میں مقیم قبائل کی ہیں جن کے پاس کاغذات بھی ہیں لیکن پاکستان کی جانب سے سرحد پر باڑ لگاتے وقت یہ زمین باڑ کی دوسری جانب یعنی افغانستان کی طرف رہ گئی۔ ان کے مطابق مقامی لوگوں نے تب ہی اس مسئلے کی نشاندہی کی تھی لیکن ان سے کہا گیا تھا کہ اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔

تاہم چند روز پہلے افغانستان میں طالبان حکومت کے اہلکار بھاری مشینری سمیت علاقے میں پہنچے اور یہاں تعمیرات شروع کرنے لگے، سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے انھیں کہا گیا کہ اس زمین پر تعمیرات نہیں کی جا سکتیں کیونکہ یہ زمین ان کی ہے لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، مقامی لوگوں نے بتایا کہ جب افغان عہدیدار بضد رہے تو پاکستان سے چند مقامی لوگوں نے فائرنگ کی جس کے بعد کشیدگی بڑھ گئی تھی۔

ان کے مطابق مقامی لوگوں نے معاملہ سلجھانے کی کوشش کی جس کے بعد فائرنگ روک دی گئی، مقامی افراد نے بتایا کہ اس کے بعد سرحد پر بوڑکی کے علاقے میں افغان عہدیداروں کی جانب سے ایسی ہی کوشش کی گئی اور انھیں وہاں پر بھی روکا گیا جس کے دوران دونوں جانب سے فائرنگ ہوئی۔
دونوں جانب سے قبائل کا یہ تنازعہ سلجھانے کے لیے دونوں ممالک کے اہلکاروں نے کوششیں شروع کیں اور یہ توقع پیدا ہو گئی تھی کہ مسئلے کا پرامن حل نکالا جا سکے گا۔ لیکن اگلے روز افغانستان کی جانب سے بوڑکی کے مقام پر تعمیرات کے لیے بھاری مشینری پہنچائی گئی جنھیں روکا گیا تو شدید فائرنگ اور گولہ باری ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت کے اہلکار بھی فائرنگ کرنے والوں میں شامل تھے جنھوں نے بھاری اسلحہ بھی استعمال کیا۔ اس کے بعد دونوں جانب سے سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔ مقامی لوگوں کے مطابق افغان طالبان اس کے بعد پیچھے ہٹ گئے۔ انھوں نے بتایا کہ افغان فورسز کی چوکیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

اس علاقے سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر ساجد حسین طوری نے ایک بیان میں افغان فورسز کے حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی فورسز اپنی سرزمین کی محافظ ہیں۔انھوں نے کہا کہ جارحت اور جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور پاکستان ہمیشہ افعانستان اور دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک کے سکیورٹی اہلکار اور انتظامیہ سمیت قبائلی افراد کے درمیان بات چیت جاری ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ کسی نتیجے پر پہنچا جائے گا۔

Back to top button