کیا 26 نومبر کی کال کا تعلق نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے ہے؟

عمران خان کی جانب سے اپنے کارکنوں کو 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال کو 29 نومبر کو نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے جوڑا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اس اعلان کے بعد وزیر خارجہ بلاول بھٹو نواز نے کہا ہے کہ اگر صدر عارف علوی نئے فوجی سربراہ کی تقرری پر کوئی خرابی کرنے کی کوشش کی تو انہیں نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ اس بیان نے ان شکوک و شبہات میں اضافہ کر دیا ہے کہ عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ میں ایک ہفتے کے وقفے کا تعلق اس تعیناتی سے ہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق لانگ مارچ کے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کے اعلان کا تعلق آرمی چیف کی تعیناتی سے ہے اور اس میں اب کوئی شک نہیں رہا۔ ویسے بھی اگر حکومتی بیانات اور عمران خان کی جانب سے دی گئی تاریخ کا بغور جائزہ لیں تو بات سمجھ آ جاتی ہے۔ بظاہر عمران خان نے کہا ہے کہ انھیں ڈاکٹرز کی جانب سے فوری طور پر متحرک ہونے کی اجازت نہیں ملی۔ ان کی بات پر یقین کر لیا جائے تو ٹھیک ہے لیکن 26 نومبر کے حوالے سے ان کا اعلان واضح نہیں ہے جو بظاہر اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ وہ حکومت کو اور مقتدر حلقوں کو پیغام دے رہے ہیں۔

اس معاملے پر سابق سیکریٹری دفاع خالد نعیم لودھی کا کہنا ہے کہ اس بات میں تو کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ آرمی چیف کی تعیناتی وزیراعظم کا اختیار ہے اور اس وقت وزیراعظم کون ہیں یہ بھی سب کو پتہ ہے۔ بے شک عمران خان کے اس موقف کو کافی لوگ تسلیم کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت اکثریت کی نہیں بلکہ اقلیت کی حکومت ہے لیکن حقائق کی روشنی میں دیکھیں تو وہ بھی سیٹیں لے کر ہی ایوان میں موجود ہیں اور آئینی طور پر وہی حکومت میں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے تعیناتی پر قانونی طور پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے متنازع بنایا جا سکتا ہے کیونکہ تعیناتی بہرحال ادارے کے اعلٰیٰ افسران میں سے ہی کسی ایک کی ہونی ہے۔ان کے مطابق اگر حکومت مروجہ طریقہ کار، آئین اور روایت سے ہٹ کر کسی فرد کو نوازنے کے لیے مخصوص انداز میں قانون سازی کرے تو ادارے کے اندر سے بھی اور باہر سے بھی اسے متنازع بنایا جا سکتا ہے لیکن میرا نہیں خیال کہ حکومت ایسا کوئی قدام کر سکتی ہے کیونکہ فیصلہ سازی میں باقی لوگوں کا بھی کردار ہوتا ہے۔

دوسری طرف بعض حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے 26 نومبر کی تاریخ بیک ڈور پر ہونے والے مذاکرات کی وجہ سے ہے۔ عمران خان اس وقت آرمی چیف کی تعیناتی سے زیادہ انتخابات کی تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بیک ڈور ڈپلومیسی جاری ہے اور عمران خان مذاکرات کے ذریعے انتخابات کی تاریخ لینا چاہتے ہیں۔ وہ مسلسل دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 26 نومبر کی تاریخ کا براہ راست آرمی چیف کی تعیناتی سے شاید کوئی تعلق نہیں ہے لیکن بالواسطہ وہ ایک ایسی تاریخ دے کر دباؤ بڑھا رہے ہیں جس روز کوارٹر ماسٹر جنرل عاصم منیر کی ریٹائرمنٹ ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر نئے آرمی چیف کی تقرری والے دن راولپنڈی میں عمران کس اجتماع ہوگا تو حکومت کے لیے مشکل ہوگی۔ لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اس احتجاج سے صرف نئے آرمی چیف کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان کے خلاف جانے کی بجائے ان کے لیے گنجائش پیدا کرے۔ بنیادی طور پر عمران کو یہ خدشہ ہے کہ جنوری 2022 میں جس پروجیکٹ عمران خان کو لپیٹنے کا فیصلہ کیا گیا تھا وہ جنرل باجوہ نے لپیٹنے نہیں دیا اور اگلا آرمی چیف اسے پوری طاقت کے ساتھ لپیٹے گا۔ اسی لیے عمران اب اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے اپنے تلخ لب و لہجے میں تبدیلی لا رہے ہیں۔

Back to top button