عمران 2013 کے بعد بھی ممنوعہ فنڈنگ وصول کرتے رہے

اگرچہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عمران خان کی تحریک انصاف پر 2008 سے 2013 تک ممنوعہ فنڈنگ حاصل کرنے کا الزام درست قرار دیا تھا لیکن اب یہ معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی آئی 2013 کے بعد بھی غیر ملکی اداروں سے ممنوعہ فنڈنگ وصول کرتی رہی۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلے میں کہا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جماعت پر بیرونِ ملک سے ممنوعہ فنڈز لینے کے الزامات ثابت ہو گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری بھی کیا تھا کہ کیوں نہ تمام ممنوعہ فنڈز ضبط کر لیے جائیں۔ ممنوعہ فنڈنگ کا کیس 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت تھا جس کا فیصلہ آنے میں آٹھ برس لگ گئے۔
جنگ گروپ سے وابستہ سینئر صحافی فخر درانی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اگرچہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی نے سال 2008 سے 2013 تک ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی لیکن دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ2013 کے بعد بھی تحریک انصاف کو ممنوعہ فنڈنگ ملتی رہی۔ عمران خان کی زیر قیادت جماعت نے اکتوبر 2014 سے مارچ 2015 تک امریکا میں غیر ملکی رجسٹرڈ اداروں سمیت مختلف ڈونرز سے چار لاکھ انیس سو ڈالرز وصول کیے جوکہ موجودہ شرح مبادلہ کے حساب سے 8؍ کروڑ 94 لاکھ پاکستانی روپے بنتے ہیں۔
پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر علی زیدی اور سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے امریکا کا دورہ کیا اور اکتوبر 2014 سے مارچ 2015 تک فنڈز جمع کرنے کی مہم چلائی۔ اس عرصہ کے دوران چار لاکھ انیس سو ڈالرز اکٹھے کیے گے جن میں سے تین لاکھ پانچ ہزار ڈالرز پاکستان میں موجود پارٹی اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے۔ تاہم، یہ معلوم نہیں ہو پایا کہ یہ رقم پاکستان میں کس اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی حتیٰ کہ پارٹی کے بیرون ممالک معاملات سنبھالنے والے پی ٹی آئی کے بین الاقوامی چیپٹر کے سیکرٹری عبداللہ ریار کے پاس بھی ان فنڈز کے حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پارٹی نے نہ صرف انفرادی سطح پر مخیر افراد سے فنڈز جمع کیے بلکہ غیر ملکی رجسٹرڈ اداروں سے بھی عطیات کے نام پر پیسہ وصول کیا۔ یہ بات امریکی محکمہ انصاف میں فنڈز دینے والے افراد کی فہرست سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ پی ٹی آئی نے غیر ملکی رجسٹرڈ کمپنیوں سے بھی پیسہ وصول کیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان غیر ملکی فنڈنگ کیس کے فیصلے میں پہلے ہی اس طرح کے لین دین کو ممنوعہ فنڈنگ قرار دے چکا ہے۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس میں فیصلہ سنایا تھا کہ ’’تحریک انصاف نے جان بوجھ کر اور مرضی سے غیر ملکی رجسٹرڈ اداروں سے عطیات وصول کیے اور یہ پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
پی ٹی آئی پاکستان نے پی ٹی آئی امریکہ کی دو برانچ کے ذریعے فنڈز اکٹھا کرنے کی مہمات چلائیں اور 34 غیر ملکی شہریوں اور 351 غیر ملکی کمپنیوں سے پیسہ وصول کیا۔ غیر ملکی افراد اور غیر ملکی کمپنیوں سے ڈونیشن یا کنٹری بیوشن لینا پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ لہٰذا یہ معاملہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002ء کے آرٹیکل (3)6کے زمرے میں آتا ہے۔ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کا آرٹیکل (3)6کہتا ہے کہ غیر ملکی حکومت، کثیر القومی یا مقامی سطح پر پبلک یا پرائیوٹ کمپنی، فرم، ٹریڈ یا پروفیشنل ایسوسی ایشن سے حاصل کیا جانیوالا کوئی بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ عطیہ لینا ممنوع ہے اور سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ صرف افراد سے ڈونیشن یا کنٹری بیوشن وصول کریں۔‘‘
پی ٹی آئی یو ایس اے ایل ایل سی 6160؍ نے امریکی محکمہ انصاف میں غیر ملکی ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ کے تحت اکتوبر 2014ء تا مارچ 2015ء کے عرصہ کے حوالے سے ایک ضمنی رپورٹ جمع کرائی تھی جس کے مطابق، پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے دو ارکان نے امریکا کا دورہ کیا اور پیسہ اکٹھا کیا۔ اس ضمن میں علی زیدی اور عمران اسماعیل نے مختلف شہروں سے فنڈز اکٹھا کیے۔
30 اپریل 2015ء کو جمع کرائی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 6؍ ماہ کے عرصہ میں پی ٹی آئی نے چار لاکھ انیس سو؍ ڈالرز جمع کیے۔ پارٹی کے امریکا چیپٹر نے پانچ اقساط میں یہ رقم پاکستان میں پارٹی کے اکاؤنٹس میں منتقل کی۔ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ 45؍ ہزار ڈالرز کی پہلی قسط 29؍ اکتوبر 2014، کو موصول ہوئی۔ 55؍ ہزار ڈالرز کی دوسری قسط 20؍ نومبر 2014، کو۔ملی۔ 55؍ ہزار ڈالرز کی تیسری قسط یکم دسمبر 2014 کو موصول ہوئی، 75؍ہزار ڈالرز کی چوتھی قسط 15؍ دسمبر 2014ء کو ملی جبکہ 75؍ ہزار ڈالرز کی پانچویں قسط 2؍ فروری 2015ء کو منتقل کی گئی۔
امریکی محکمہ انصاف میں جمع کرائی گئی لسٹ کے مطابق جن غیر ملکی رجسٹرڈ اداروں نے پی ٹی آئی کو ڈونیشن دیں ان کے نام یہ ہیں: ہیلنگ Healing ہینڈز آف ورجینیا، فینٹیسی ایکٹیو ویئر، ایس او اے ایجیلیٹی، نارتھ سائیڈ کارڈیولوجی، ایس کے فنانشل سی پی اے ایل ایل سی، پیرس لیموزین سروس کورپ، آٹو بان لیموزین، مروت ایسوسی ایٹس ایل ایل سی، سوزان پولین ریلائبل ایسیٹس انکارپوریٹڈ، ٹریڈین کارپوریشن، کریسنٹ کلیننگ سروسز، راؤٹ 69 کنٹری اسٹور، ٹی ایس سی ون انٹرپرائزز آف ٹیکساس ایل پی، سن رائز بزنس انکارپوریٹڈ، ایپک کنسلٹنگ ایل ایل سی، ایسٹ ویسٹ ریئلٹی ایل ایل سی، میڈیکس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ایل ایل سی اور میگنم اوپس سسٹم کورپ۔
